تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

منگل، 14 نومبر، 2017

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی اورعلمائے دیوبند کا کردار

ہندوستان میں انگریز کی آمد وقبضہ


انکار خدا بھی کر بیٹھو انکار محمد بھی لیکن
جانباز تماشہ دیکھیں گے محشر میں نافرمانوں کا
قلم اور زبان سے نکلے ہوئے الفاظ تاریخ کو جنم دیتے ہیں قومیں جب حقوق کی میز پر آمنے سامنے بیٹھتیں ہیں تو وہاں ووٹ نہیں لاشیں شمار کی جاتی ہیں۔ جس قوم کی لاشیں اپنے حقوق کے حصول میں زیادہ ہوں گی وہی ہر اول دستہ کہلائے گی۔ ہندوستان میں فرنگی سامراج کے خلاف جد وجہد آزادی میں پہل کی تو مسلمانوں نے۔ انگریز کے خلاف عسکری جنگ لڑی تو مسلمانوں نے۔ تو پوں کے دہانوں کے ساتھ باندھ کر اڑائے گئے تو مسلمان۔ پھانسی کے تختے پر انقلاب زندہ باد کہا تو مسلمانوں نے۔ جزائر انڈیمان کو آباد کیاتو انگریز کے باغی مسلمانوں نے۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کا قیام

گزرے زمانے کا یہ محاورہ کہ زن زمین اور زر بناء فساد ہیں سرمایہ دار کسی رنگ وروپ کا ہو ہمیشہ اپنے نفع کی سوچتا ہے قصہ در اصل یوں شروع ہوا کہ ہالینڈ کے سوداگروں نے ایک پونڈ گرم مصالحہ کی قیمت میں پانچ شلنگ کا اضافہ کردیا۔تو لندن کے دو درجن تاجر سیخ پا ہوگئے انہوں نے ایک تجارتی کمپنی بنانے کا فیصلہ کیا اس کمپنی کا نام ایسٹ انڈیا ٹریڈنگ کمپنی رکھا گیا (برطانیہ) کی ملکہ الذبتھ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کو شاہی پروانہ عطا کیا اس کے بعد کمپنی کے ارکان نے بحری سفر کے ذریعے مختلف مقامات پر اپنے کو کارو باری انداز اور طریق سے منظم کرنا شروع کیاچنانچہ سب سے پہلی بار کپتان ولیم باکنس ایک جہاز کے ذریعے سورت کی بندرگاہ میں داخل ہوا اور ہندوستان میں آپہنچا۔ ۱۴۱۵ یا ۱۴۰۹ھ میں سر تھامسن راؤ جہانگیر کے دربار میں حاضر ہوا اور ایک درخواست کے ذریعے شہنشاہ سے کاروباری رعائتیں حاصل کر لیں اور ساتھ ہی اس کو (علاقہ) سورت میں ایک کوٹھی بنانے کی اجازت بھی مل گئی۔ یہ ہے وہ گھڑی جب تجارت کے بہانے انگریز کے ناپاک قدم ہندوستان میں آئے۔ یہ قدم پھر ایسے جمے کہ تین سو سال تک اس ملک کی تمام بہاریں غیر ملکی لوٹتے رہے اور جب یہ رخصت ہوئے تو سارا ہندوستان خزاں کی ایسی زد میں تھا کہ پھر اس پر کبھی بہار نہ آئی۔ غیر ملکی سوداگروں نے آہستہ آہستہ اپنے پاؤں ہندوستان میں پھیلانے شروع کئے۔ آج یہاں کل وہاں پرسوں ذرا آگے۔ پہلے سورت میں کوٹھی بنائی پھربڑھوج پھر آگری پھر دریائے ہگل پار کرکے کلکتہ کو اپنا مرکز قرار دے لیا۔ آگ لینے آئی گھر کی مالک بن بیٹھی مغل سلطنت کے زوال میں رعایا کو مجرم قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ یہ گھر اپنے ہی چراغوں سے جل کر راکھ ہوگیا۔ مسلمان بادشاہ جنہیں قریباً ہزار سال ہندوستان میں استحکام حاصل رہا جب سرنگوں ہوا تو اس کی فرد جرم پر غیروں کے دستخط نہیں تھے بلکہ اپنا ہی خون تھا جو محلات کی اندرونی رقابتوں اور سازشوں سے اسے بہاکرلے گیا۔ جو قوم مغل شہنشاہوں کے آستانوں پر تجارت کی بھیک مانگنے آتی تھی جب وہ آستانے اجڑ گئے جب بھیک دینے والے ہاتھ خود محتاج ہوگئے اور لال قلع کے باشی شاہ جہاں کی مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر بھیک مانگنے لگ پڑے تو پھر غیر ملکی تاجروں نے اپنے بھنڈار کھول دیئے جیسے جیسے ان کے قدم بڑھتے گئےہندوستان کی آزادی سمٹ کر ان کے قدموں میں ڈھیر ہوتی گئی۔
جاری

Post Top Ad

loading...