تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 12 جون، 2017

Kash Asad Ki Tarah Padh Ke Sunaye Koi - Ghazal



یہ تو فانی ہے جہاں رہ کے بتائے کوئی 

کام ممکن ہو تو پھر کر کے دکھائے کوئی



کوئی بے گانوں سے شکوہ ہے نہ غیروں سے گلہ
مجھ کو اپنوں کی عداوت سے بچائے کوئی



جانے کب سے وہ مرے سامنے آیا ہی نہیں
وقت آخر ہے پتہ میرا بتائے کوئی



زندگی پاک خطاؤں سے بھی ہو سکتی ہے
جاکے سجدے میں فقط اشک بہائے کوئی


کس نے گلشن کو اجاڑا اسے معلوم نہیں
ہاتھ کس کا ہے یہ مالی کو بتائے کوئی



روزوشب کر کے دعا ہم نے تمہیں مانگا ہے
درمیاں اپنی محبت کے نہ آئے کوئی



سارے احباب غزل سن کے میری بول اٹھے
کاش! اسعؔد کی طرح پڑھ کے سنائے کوئی

Post Top Ad

loading...