تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 10 جون، 2017

"Jannati Aurat" kitab Par Zarqa Azmi Ka Tabsera - Must Read


بسم اللہ الرحمن الرحیم
تبصرہ کتاب ‘‘جنتی عورت‘‘
مصنف: مولانا مفتی محمد ارشاد صاحب القاسمی (استاذ حدیث ریاض العلوم چوکیہ گورینی جونپور)
ناشر: فرید بک ڈپو
صفحات :۲۷۳
قیمت: ۱۴۰
مبصرہ: زرقاء اعظمی ، بی.اے.
بلاشبہ نیک معاشرہ اور اچھی سوسائٹی کا دارومداران نفوس قدسیہ پر ہے جن کی گود میں امت کے جیالے اور قوم کا مستقبل پروان چڑھتا ہے ۔اگر عورت نیک صالح اور اوصاف حمیدہ سے آراستہ ہے تو اس کی گود میں نشو نماپانے والے مستقبل کے ہو نہار افراد قائد ہوں گے ۔
لیکن اگر عورت کی زندگی اسلامی تعلیمات سے عاری ہو تواس کی گود میں پلنے والے بچے بھی عام انسان کی طرح ہوں گے یا بسا اوقات وہ سو سائٹی اور معاشرے کی ناموس کو فروخت کر نے والے اوباش قسم کے وہ لوگ ہوں گے جن سے معاشرے میں تعفن کے خدشے بڑھتے ہیں، اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ عورتوں کے لئے ایسی کتابیں اور لٹریچر تیار کئے جائیں اور ان کو پڑھایا جائے جس سے وہ اپنی تعلیم و تر بیت کے ساتھ سماج و سوسائٹی کے لئے ایسے افراد پیدا کر سکیں جو وقت کی ضرورت ہے ۔
ان موضوعات پر یعنی عورتوں کی تعلیم و تر بیت پر بہتر سے بہتر کتابیں لکھی گئی ہیں جن کا مطالعہ ہر خاتون کے لئے از حد ضروری ہے ان میں سے ایک کتاب جنتی عورت مرحوم مفتی محمد ارشاد صاحب کی ہے ۔
یہ کتاب عورتوں کے لئے بہت اچھی ہے اور آسان اسلوب میں لکھی گئی ہے، اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کتاب میں احادیث اور صحابیات کے واقعات سے مؤلف نے مدلّل اور جامع بحث کی ہے۔

مؤلف نے اس کتاب میں نیک صالح عورتوں کا ذکر اور ان کے فضائل نہایت عمدہ اسلوب میں بیا ن کیا ہے۔ فہرست کتاب بہت طویل ہے یہ کتاب پوری خانگی زندگی پر محیط ہے ۔ شوہر کا مقام ،حمل ،رضاعت ، پرورش ، خوش نصیب عورت ، ملعون عورت ، شوہر اور بچوں کے حقوق ، پردہ لباس کی شرعی حیثیت، زکوٰۃ اور صدقات سے متعلق حدیثیں اس کتاب کااہم حصہ ہیں ۔ مصنف نے کتاب میں حدیث کے حوالے سے بتایاہے جو عورت پانچ و قت کی نماز پڑ ھتی ہو اپنی عزّت ، ناموس کی حفاظت کر تی ہو اوراپنے شوہر کی اطاعت کر تی ہو تووہ جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔
پردہ اور لباس پر گفتگو کرتے ہوئے مؤلف نے بتایا کہ بلا ضرورت عورتوں کو گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے کیوں کہ جب عورت بلا ضرورت گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کے ساتھ ہو لیتاہے اوراس سے اپنی مرضی کے موافق گناہ کرواتا ہے ۔
عورتوں کا لباس مکمل ساتر ہو نا چاہئے۔ احادیث میں باریک لباس پہننے والی عورتوں کے بارے میں وعید آئی ہے کہ ایسی عورتیں جنت کی خوشبو سے بھی محروم رہیں گی، اسی طرح گھنگھرو دار زیور پہننے والی عورت پر خدا کی لعنت اورغضب نازل ہو تاہے اور فیشن کر کے نکلنے والی عورتیں قیامت کے دن سخت اندھیرے میں ہو نگی حضرت میمونہ بنت سعدؓ جو آپؐ کی خادمہ تھیں کہتی ہیں کہ رسول ؐ نے فر مایا ۔ جو عورت اپنے شوہر کے علاوہ زینت و فیشن کر کے نازو انداز سے باہر نکلتی ہے وہ قیامت کے دن سخت تاریکی میں رہے گی، اس کے لئے کوئی روشنی نہ ہوگی ۔ عورت کو زکوٰۃ و صدقات اور رفاہی کا موں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے خصوصاًاپنے زیورات کی زکوٰۃ پابندی سے نکالنا چا ہئے، نہ نکالنے کی صورت میں جہنم کی سخت وعید آئی ہے یوم یحمٰی علیھا فی نار جھنم فتکویٰ بھا جباھھم وجنوبہم وظہورہم...الخ.
مزید نفلی صدقات و خیرات دینے پر ابھارتے ہوئے بی بی زینب کا ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے ۔ کہ حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں رسولؐ کی بعض بیویوں نے معلوم کیا کی آپ کے بعد ہم میں سے کون سب سے پہلے آپ سے ملے گی آپؐ نے فر مایا تم میں سے جس کے ہاتھ سب سے زیادہ لمبے ہوں گے چنانچہ انہوں نے لکڑی سے ہاتھ ناپا تو حضرت سودہؓ کا ہاتھ لمبا نکلالیکن حضرت زینبؓ کی وفات سب سے پہلے ہوئی تو بعد میں ان لوگوں نے سمجھا کہ اس سے مراد صدقہ و خیرات کی کثرت تھی چونکہ حضرت زینبؓ ازواج مطہرات میں سب سے زیادہ صدقہ و خیرات کیا کرتی تھیں ۔
اس کتاب میں ایسے بہت سارے واقعات اور صحابیات کے فصائل بیان کئے گئے ہیں، ایک حدیث بیان کی گئی ہے کہ جہنم میں مردوں کے مقابلے میں عورتیں زیادہ نظر آئیں گی اور اس کی وجہ شوہر کی ناشکری احسان فراموشی ، اور پڑوسی کو ایذاء پہنچانا ہے ۔یہ کتاب من جملہ نہایت ہی عمدہ اور نفع بخش ہے کتاب کا اسلوب بہت ہی سہل ہے ہر کس وناکس اسے باآسانی سمجھ سکتا ہے ۔ کتاب کے اخیر میں مؤلف نے کچھ ایسے اعمال کا بھی ذکر کیا ہے جس سے ایک عورت نیک صالح اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اس کی گود میں پلنے والا بچہ اپنے وقت کا قائد اور ولی بن سکتا ہے کیونکہ ماضی کی اکثر بڑی شخصیات کے پیچھے کسی نہ کسی نیک و صالح خاتون کا ہی ہاتھ رہا ہے ۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر سے لیکر سر سید احمد خان ،محمد علی جوہر اور ابو الحسن علی ندوی تک شخصیت سازی میں نیک و صالح اور با اخلاق خواتین کا بہت بڑا کر داررہا ہے۔ آج کے موجودہ زمانے میں اچھے قائدین کا فقدان اس بات کا اظہار ہے کہ اب وہ نفوس قدسیہ ہی نہیں رہیں جن کے رحم سے وہ شخصیات پیدا ہو ں جو اس وقت کے تقاضے کو پورا کر سکیں اس لئے ضرورت ہے کہ عورتوں اور لڑکیوں کی اچھی تعلیم و تربیت کا انتظام کیا جائے۔ اچھے اور مناسب لٹریچر تیار کئے جائیں اور ان کو عام کیا جائے تاکہ پھرسے یہ معاشرہ اپنی اصل کی طرف عود کرآئے۔ 


وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کاسوزِ دروں

نوٹ :۔ مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔
اس مضمون کو صرف لنک کی صورت میں  اشتراک کرنے کی اجازت ہے۔

Post Top Ad

loading...