تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

بدھ، 24 مئی، 2017

Sadqah Ki Barakat


صدقہ کی برکات


از قلم:  مفتی محمد اسعد صاحب 

(خادم: دارالعلوم محمودیہ دھلی)
+919958401915 


باسمہ سبحانہ و تعالٰی


اللہ تبارک و تعالٰی کا بے پناہ احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو بے شمار نعمتوں سے نوازا جن کا شمار ناممکن ھے۔ انہیں میں سے ایک نعمت مال و دولت ھے، اگر اللہ پاک کسی کو اس نعمت سے سرفراز فرماتے ہیں تو خود پر غرور نہ کرنا چاہیے بلکہ غور و فکر کرنا چاہیے کہ یہ میں جو آج ارب پتی ہوں صاحب وسعت ہوں یہ سب اسی کا عطا کردہ ہے میرا کچھ نہیں ہے اسکا حقیقی مالک اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے،
لہذا اس کو صحیح جگہ پر خرچ کرنا ہماری ذمہ داری ھے، غریبوں، لاچاروں،مسکینوں، ماتحتوں، اور ضرورت مندوں کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے، چونکہ جو پروردگار عالم مال دینا جانتا ہے اگر اس کو صحیح جگہ خرچ نہ کیا تو وہ پروردگار عالم چند لمحوں میں فٹ پاتھ پر بھی لا سکتا ہے۔ بھیک بھی منگوا سکتا ہے۔
پیارے آقا سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان مبارک ہے کہ " زندگی اور تندرستی کی حالت میں ایک درہم صدقہ کرنا موت کے وقت سو درہم صدقہ کرنے سے بہتر ھے"
دوسری جگہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ" صدقات و خیرات کرنے سے آنے والی آفتیں اور مصیبتیں رک جاتی ہیں لہذا صدقہ و خیرات میں جلدی کیا کرو"
صدقہ اللہ کے غصے کو ختم کرتا ہے اور بری موت سے بچاتا ھے۔ صدقہ قبر کی سختی سے بچائے گا۔ صدقہ جہنم کی آگ سے بچانے کا ضامن ھے۔
سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ صدقہ انسان کے گناہوں کو دھودیتا ھے۔ اور بھی بے شمار فوائد ہیں جو یہاں پر طوالت کی وجہ سے ذکر نہیں کئے جاسکتے۔



ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام ایک بستی سے گزرے وہاں پر ایک دھوبی رہتا تھا بستی والوں نے آپ سے اس کی شکایت کی کہ یہ ہمارے کپڑے پھاڑ دیتا ہے اور اپنے پاس روک بھی رکھتا ہے اللہ تعالٰی سے دعا کیجیے کہ یہ اپنی کپڑوں والی گٹھری سمیت واپس نہ آسکے تو حضرت نے یہ دعا کردی، 
اگلے دن دھوبی حسب معمول کپڑے دھونے کے لیے تین روٹی ساتھ لے کرچلا گیا۔
قریب ہی پہاڑوں میں ایک عابد رہتا تھا وہ دھوبی کے پاس آیا پوچھا کیا تیرے پاس کھانے کو روٹی ھے،،،،،،،؟
اگر ہے تو اسے میرے سامنے کردے تاکہ میں اسے دیکھ سکوں یا اس کی بو ھی سونگھ سکوں کیونکہ میں نے ایک عرصے سے کھانا نہیں کھایا دھوبی نے اسے ایک روٹی کھانے کو دیدی عابد نے دعاء دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تیرے گناہ معاف فرمائے اور دل کو پاک کرے دھوبی نے عابد کو دوسری روٹی بھی دیدی وہ کہنے لگا کہ اللہ تیرے اگلے پچھلے گناہ معاف کردے دھوبی نے تیسری روٹی بھی پیش کردی عابد بولا اے دھوبی! اللہ تیرے لیے جنت میں گھر بنائے۔




القصہ شام ہوئ تو دھوبی صحیح سلامت واپس آگیا، تو بستی والوں نے حیران ہو کر حضرت عیسٰی کو بتایا کہ دھوبی تو واپس آگیا ہے آپ نے دھوبی کو طلب فرمایا اور پوچھا کہ سچ بتا آج تونے کیا عمل کیا ہے وہ کہنے لگا کہ ان پہاڑوں میں سے ایک عابد میرے پاس آیا اس کے مانگنے پر میں نے تینوں روٹیاں اسے دیدی اور ہر روٹی کے بدلے اس نے مجھے دعائیں دیں۔
تو حضرت عیسٰی نے فرمایا ذرا اپنی کپڑوں کی گٹھری تو کھول کر دکھا اسے کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سیاہ سانپ بیٹھا ہیے منہ میں لوہےکی لگام ہے آپ علیہ السلام نے سانپ کو پکارا تو اس نے لبیک یا نبی اللہ کہہ کر جواب دیا۔ فرمایا کیا تجھے اس شخص کی طرف نہیں بھیجا گیا تھا،،،،،،،؟
سانپ بولا! بیشک لیکن اس کے پاس ان پہاڑوں میں سے ایک عابد آیا اور دھوبی سے روٹی مانگی اور ہر روٹی کے بدلے اسے دعائیں دیتا رھا اور ایک فرشتہ قریب میں کھڑا ہو کر آمین کہتا رہا اس پر اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا جس نے مجھے یہ لوہے کی لگام پہنا دی،
حضرت عیسٰی علیہ السلام نے دھوبی سے فرمایا تیرے اس عابد پر صدقہ کرنے کی بدولت تیرے پچھلے سب گناہ معاف ہو گئے ہیں اب نئے سرے سے اعمال شروع کرو!!!!! 
اللہ تبارک و تعالٰی ہم سب کو اپنے مال و دولت کو صحیح جگہ پر خرچ کرنے والا بنائے۔ آمین!!!

Post Top Ad

loading...