Header Ads

جہیز ایک ہندوانہ رسم

جہیز ایک ہندوانہ رسم
الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم سیدنا ومولانا محمد وآلہ وصحبہ اجمعین ومن تبعہم باحسان الی یوم الدین امابعد۔
فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم ۔۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم
الرجال قوامون علی النساء بمافضل اللہ بعضہم علی بعض وبماانقفہوا من اموالہم۔(سورۂ نساء آیت۳۴)
عن انس رضی اللہ عن عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال مَنْ تَزَوَّجَ اِمْرَأَۃً یَعِزَّہَا لَمْ یَزِدْہُ اللّٰہُ اِلاَّ ذُلاَّءً وَمَنْ تَزَوَّجَہَا لِمَا لِہَا لَمْ یَزِدْہُ اللّٰہُ اِلاَّفَقْرَاَ وَمَنْ تَزَوَّجَہَا لِحَسَبِہَا لَمْ یَزِدْہُ اللّٰہُ اِلاَّ دِنَاءَ ۃً۔ وَمَنْ تَزَوَّجَ اِمْرَأَۃً لَمْ یُرِدْہُ بِہَا اِلاَّ اَنْ یَّغُضَّ بَصَرَہٗ وَیُحْصِنَ فَرَجَہٗ اَوْ یَصِلَ رَحِمَہٗ بَارَکَ اللّٰہُ لَہٗ فِیْہَا وَبَارَکَ فِیْہِ۔(الحدیث)
(رواہ الطبرانی وابونعیم فی الحلیۃ والہیثمی فی مجمع الزوائد وغیرہ، راجح: المقاصد الحسنۃ ۴۱۲، ورد المختار۴/۵۸کتاب النکاح)
آیت شریفہ کا ترجمہ: 
مرد حاکم ہیں عورتوں پر اس واسطے کہ بڑائی دی اللہ نے بعضوں کو بعض پر اور اس واسطے کہ خرچ کئے انہوں نے اپنے مال ۔
حدیث شریف کا ترجمہ:
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی عورت سے شادی کرے اس کی عزت کی وجہ سے تو ایسے شخص کو اللہ تعالی ذات کے سوا اور کچھ نہ دیں گے، اور جو شخص کسی عورت سے شادی کرے اس کے مال کے لالچ میں تو اللہ تبارک وتعالی ایسے شخص کے فقر وفاقہ کو اور بڑھادیں گے اور جو کسی عورت سے شادی کرے اس کے حسب کی وجہ سے (خاندانی برتری) تو اللہ تعالی اس کی حیثیت کو اور گھٹادیں گے اور جو شادی کرے کسی عورت سے خالص اس وجہ سے تاکہ اس کی نگاہ نیچی رہے اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کے لئے یا صلہ رحمی کرنے کے لئے تو اللہ تعالی اس نکاح کو مرد وعورت دونوں کے لئے بابرکت بنادیں گے ۔
محترم قارئین: جہیز ایک ہندوانہ رسم ہے جو آجکل معاشرہ میں بری طرح سے پھیلتا جارہاہے، اسلامی شریعت اور کتاب اللہ کے بتائے ہوئے قانون میں مرد کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ جہیز کا مختصر سامان جو ضروری ہو جمع کرے، یہ ذمہ داری اللہ تعالی نے مردوں کے اوپر رکھی ہے اور اسی وجہ سے مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے کہ وہ اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔
مردوں کی عورتوں پر برتری کی وجہ 
مذہب اسلام میں نکاح کا کوئی خرچ عورت کے ذمہ نہیں ہے بلکہ الٹے مرد کی طرف سے عورت کو مہر دئے جانے کا حکم تو ہے ، اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’ الرجال قوامون علی النساء بما فضل اللہ بعضہم علی بعض ‘‘ اس آیت میں لفظ ’’ قوّام ‘‘ آیا ہے ، قوّام عربی زبان میں اس شخص کو کہا جاتاہے جو کسی کام یا نظام کا ذمہ دار اور چلانے والا ہو اسی لئے اس آیت میں قوام کا ترجمہ اکثر مفسرین ومحدثین نے حاکم کیا ہے ، یعنی مرد عورتوں پر حاکم ہے ، مراد یہ ہے کہ ہر اجتماعی نظام کے لئے عقلاً اور عرفاً یہ ضروری ہوتا ہے کہ اس کا کوئی سربراہ یا امیر اور حاکم ہوتاہے کہ اختلاف کے وقت اس کے فیصلہ پر عمل کیا جاسکے جس طرح ملک وسلطنت اور ریاست کے لئے اس کی ضرورت سب کے نزدیک مسلّم ہے ، اسی طرح قبائلی نظام میں بھی اس کی ضرورت ہمیشہ محسوس کی گئی اور کسی ایک شخص کو قبیلہ کا سردار یا حاکم مانا گیا ، اسی طرح اس خانہ داری نظام میں ایک امیراور سربراہ کی ضرورت ہے، اسی لئے عورتوں اور بچوں کے مقابلہ میں اس کام کے لئے اللہ تعالی نے مردوں کو منتخب فرمایا ہے، کیونکہ ان کی علمی اور عملی قوتیں بہ نسبت عورتوں اور بچوں کے زیادہ ہیں اور یہ ایسا معاملہ ہے کہ کوئی سمجھدار عورت یا مرد اس کا انکار نہیں کرسکتا ہے ۔
اس آیت کا خلاصہ یہ ہوا کہ اللہ نے مردوں کو حاکم اورنگراں بنایا ہے دووجہ سے، پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ نے مردوں کو ظاہری جسم وجثہ اور بہت سے باطنی کمالات سے عورتوں پر فضیلت اور برتری عطا فرمائی ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ مرد اپنا مال اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتے ہیں اور مہر ، نفقہ اور دیگر تمام ضروریات کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اس لئے عورتوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مردوں کی اطاعت وفرمانبرداری کریں۔
ضرور ی سامان مرد مہیاکرائے
اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے اور مفسرین نے بھی اس کی صراحت کی ہے کہ عورت کے نفقہ کے ساتھ ساتھ سکنی (رہائشی گھر ) مہیا کرانا بھی مرد کی ذمہ داری ہے اور یہ اس پر واجب ہے اسی طرح رہائشی گھر (مکان ) کے ساتھ اس کے لوازمات مہیا کرے ، چنانچہ حدیث شریف میں ہے مشکوۃ شریف جلد ثانی کی پہلی حدیث ہے :
عن عبد اللہ بن مسعود قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یامعشرالشباب من استطاع منکم الباء ۃ فلیتزوج فانہ اغض للبصر واحصن للفرج ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فان لہ وجاء۔(مشکوۃ شریف ص ۲۶۷)

ترجمۃ الحدیث الشریف : حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے جناب رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا اے نوجوانوں کے گروہ! جو شخص تم میں سے جماع کے موجبات ولوازم یعنی مہر اور نان نفقہ کی طاقت رکھتا ہو پس اس کو نکاح کرنا چاہیے کیونکہ یہ نکاح نظر کو نیچا رکھنے والا اور ستر کو محفوظ کرنے والا ہے، اور جو شخص ان چیزوں ( نان نفقہ وغیرہ ) کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ روزہ رکھ لے اس لئے کہ روزہ شہوت کو توڑنے میں مدد کرتا ہے۔
اس حدیث شریف سے اور جو بالکل شروع میں لکھی گئی ان دونوں سے واضح ہے کہ جو شخص نان نفقہ ودیگر تمام ضروریات کو پورا کرسکتا ہو وہ نکاح کرلے یعنی نان نفقہ مہر وغیرہ مرد کے ذمے ہے نہ کہ عورت کے ذمے اور یہ جو جہیز کا رواج ہمارے معاشرے میں پھیلتا جارہاہے اس کا قرآن وحدیث میں کہیں بھی اشارہ تک نہیں ملتا کہ اس قسم کی چیزوں کا مہیا کرانا لڑکی یا اس کے سر پرستوں کے ذمہ ہے یہ ضروری نہیں کہ جب باپ اپنی بیٹی کو رخصت کرے تو اس کو کچھ سامان بطور جہیز بھی دے یہ ایک خلاف عقل اور خلاف فطرت بات ہے ۔
معزز قارئین کرام ! شریعت اسلامیہ اور اللہ نے عورتوں کا میراث میں حق رکھا ہے اس لئے شریعت اسلامیہ میں جہیز نہیں ہے ، اور ہندوؤں کے یہاں چونکہ لڑکی کو باپ کی میراث میں سے کچھ نہیں ملتا اس لئے باپ لڑکی کو بوقت نکاح لڑکی کوبطور جہیز کچھ سامان دیتا ہے گویا ہندوؤں کے یہاں نکاح ہوجانے سے لڑکی گھر سے بے دخل ہوجاتی ہے اور باپ سے بالکل جدا ہوجاتی ہے تو اس لئے اس لڑکی کا اب میراث میں کوئی حق نہیں رہتا ہے ۔


تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ غیروں کی مشابہت اختیار نہ کریں ، جہیز وغیرہ سے بچیں، کیونکہ مشہور حدیث ہے ’’ من تشبہ بقوم فہو منہم‘‘ کہ جو جس قوم کی مشابہت اختیار کریگا وہ انہی میں سے ہوگا ۔
ایک اشکال اور اس کا جواب 
بہت سے لوگ یہ اشکال کرتے ہیں حضور ﷺ نے بھی حضرت فاطمہؓ کو کچھ چیزیں رخصتی کے وقت دی تھیں تو ایسی صورت میں یہ کہنا کیسے صحیح ہوگا کہ جہیز کی شریعت اسلامیہ میں کوئی اصل نہیں جبکہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی صاحبزادی کو کچھ چیزیں دی؟۔
اس کا جواب یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہؓ کو جو چیزیں دی تھیں وہ اپنی جانب سے نہیں بلکہ حضرت علیؓ ہی کی رقم سے خرید کردی تھیں ۔
جیسا کہ علامہ زرقانی ؒ نے اس کی صراحت کی ہے کہ حضور ﷺ نے نکاح سے قبل حضرت علیؓ سے معلوم کیا کہ اے علی تمہارے پاس کچھ ہے تو حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ میرے پاس ایک گھوڑا،اور ایک زرہ (جنگ میں پہننے کا لباس ) ہے ، تو آپ ﷺؓ نے فرمایا گھوڑا تو تمہاری ضرورت کی چیز ہے البتہ تم اپنی زرہ فروخت کرکے اس کی قیمت لے آؤ، چنانچہ حضرت علیؓ نے وہ ذرہ حضرت عثمان غنیؓ کو چار سو اسی درہم میں فروخت کردی اور اس کی قیمت آپ ﷺ کے سامنے لاکر رکھ دی ، چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت بلال اور حضرت ام سلیمؓ جو حضرت انس کی والدہ ہیں ان کو بلواکر کچھ رقم ان کے حوالے کردی، اور حکم دیا کہ خوشبو وغیرہ کا انتظام کرو اور باقی رقم حضرت بلال کے حوالے کرکے حکم دیا کہ آپ گھریلو سامان اور دیگر تمام ضروریات کا انتظام کریں ۔(زرقانی علی المواہب ۲/۳ احسن الفتاوی ۵/۳۱)
حضرت فاطمہؓ کے جہیز کی حقیقت
حضور ﷺ کے حکم کے مطابق حضرت بلال اور حضرت ام سلیمؓ نے بناؤ سنگھار کے سامان کے ساتھ ساتھ مزید درج ذیل چیزوں کا بندو بست کیا ، ایک چارپائی ، کھجور کی پتیوں سے بھرا ہوا چمڑے کا گدا پانی کا مشکیزہ ایک چھاگل (ٹب ) مٹی کے دو گھڑے اور چکی کے دو پاٹ ۔
یہ ہے حضرت فاطمہ کے جہیز کی حقیقت جس میں حضور نبی کریم ﷺ کی حیثیت واضح طور پر صرف منتظم دکھائی دیتی ہے ، ایسی صورت میں اس کو جہیز نہیں کہا جاسکتا کیونکہ وہ حضرت فاطمہ کے والد محترم حضور ﷺ کی طرف سے نہیں بلکہ خود داماد یعنی حضرت علی سے حاصل کردہ مہر کے پیسوں سے دیا گیا تھا، اس لئے اس کو مروجہ جہیزوں جو آجکل معاشرے میں پھیلا ہوا ہے سے کوئی مناسبت نہیں ہے ۔
ایک خاص بات 
اگر یہ سامان جہیز کے طور پر ہوتا تو یہ کسی بھی طرح ممکن نہ تھا کہ حضور ﷺ صرف حضرت فاطمہ کو دیں اور دیگر صاحبزادیوں کو نہ دیں کیونکہ خود نبی ﷺ کا ارشاد ہے ’’واعدلوا بین اولادکم ‘‘ اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو ۔(بخاری ۱/۳۵۲ حدیث ۲۵۸۷ مسلم حدیث ۴۱۵۷)
اس لئے اگر جہیز کی شریعت اسلامیہ میں کوئی حیثیت ہوتی تو حضور ﷺ تمام صاحبزادیوں کو جہیز دیتے مگر یہ کسی روایت سے ثابت نہیں کہ حضرت فاطمہ کے علاوہ آپ نے کسی اور صاحبزادی کو اس قسم کی کوئی چیز دی ہو ۔
لوگوں کی ایک غلط فہمی اور اس کا ازالہ 
یہاں یہ سمجھنا بالکل غلط ہوگا کہ لڑکی والے لڑکے والے سے کچھ پیسہ لے سکتے ہیں اسی طرح یہ خیال بھی بالکل غلط ہوگا کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت علیؓ سے رقم لی اور پھر حضرت فاطمہ کی ان سے شادی 
کی۔
تو جاننا چاہئے کہ حضور ﷺ نے حضرت علیؓ سے جو رقم لی تھی وہ انہی کی ضروریات کا سامان خریدنے کے لئے لی تھی اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے کیونکہ حضرت علی ؓ کے والد ابو طالب جو آپ ﷺ کے چچا تھے ان کا انتقال ہوچکا تھا اور آپ ﷺ کے علاوہ حضرت علی ؓ کی پرورش کرنے والا اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا کوئی اور نہ تھا اسی لئے آپ ﷺ حضرت علیؓ کو ہر جگہ اپنے ساتھ رکھتے اور ان کی ضرورتوں کو پورا کرتے ۔
الغرض حضور ﷺ نے حضرت فاطمہ کو جو سامان دیا تھا وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اپنے داماد حضرت علی کی طرف سے دیا تھا، نیز حضرت علی ؓ حضور ﷺ کے پالے ہوئے تھے، اس لئے اگر آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ اور حضرت علی کو کچھ دیا بھی ہوگا تو وہ بطور سرپرست کے دیا ہوگا بطور جہیز کے نہیں۔

قارئین کرام ! آج جو سامان لڑکی کو جہیز میں دیا جاتاہے مثلاً بیڈ، فریج ، مشین، موٹر سائیکل ، کار وغیرہ تو کیا یہ سب چیزیں لڑکے والوں کے پاس پہلے سے نہیں ہوتی ان میں سے اکثر چیزیں لڑکے والوں کے پاس عموماً ہوتی ہیں اور اگر نہ بھی ہوں تو کیا لڑکے والے اس کا انتظام نہیں کرسکتے ؟ ضرور کرسکتے ہیں ، پھر یہ سامان ان کو کیوں دئیے جاتے ہیں؟
اور اب اس سے بڑھ کر یہ رواج چل پڑا ہے کہ ٹرک بھر کر چھوٹی بڑی غیر ضروری تمام چیزیں دینے کو بھی ضروری سمجھا جاتا ہے ، آپ ہی بتائیں کیا یہ اسلام میں ہے یا اس کا کہیں ثبوت ہے؟ تو پھر یہ جہیز کی لعنت کہاں سے آئی؟
جہیز کے جواز کی ایک ہی صورت 
اگر آپ کی لڑکی ایسی جگہ جارہی ہے جہاں لڑکا بالکل غریب ہو اور اس کو خانگی ضروریات کو پورا کرنے میں دشواریاں حائل ہوسکتی ہیں تو آپ اخلاقاً اپنی استطاعت کے بقدر ان دونوں کی ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔
جیساکہ حضرت مصعب بن عمیرؓ نے اپنی صاحبزادی کا نکاح ایک ایسی متقی و پرہیزگار سے کردیا تھا جو بہت ہی غریب تھا اور خانگی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ان کے پاس کوئی سامان موجود نہ تھا تو حضرت مصعب بن عمیر نے ان کی ضرورتوں کے پیش نظر ان دونوں کو چند مخصوص گھریلو سامان خاموشی کے ساتھ بغیر کسی کو دکھائے ان کے گھر بھجوادیا تھا۔
اسی طرح سوال کئے بغیر یا مطالبہ کئے بغیر تحفہ تحائف کا لینا دینا اور انسانیت کے ناطے کسی کی ضرورتوں کو پورا کرنا شرعاً ممنوع نہیں ہے، بلکہ یہ شرعاً واخلاقاً بہت اچھی بات ہے جس کو جائز قرار دیا جاسکتا ہے ۔
معاشرہ میں رائج جہیز کی خرابیاں
لیکن اب تو ایسا ہوگیا ہے اس طرح کرنے میں بہت سی خرابیاں جمع ہوگئی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ اب نہ ہدیہ وتحفہ مقصود ہوتاہے اور نہ ہی صلہ رحمی اور نہ ہی ضرورتوں کو پورا کرنا ہوتاہے بلکہ اگر کوئی کچھ دیتا بھی ہے تو صرف اس لئے تاکہ میرا نام ہوجائے میری شہرت ہوجائے یہ کام صرف اور صرف رشتہ داروں اورلوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے ہوتاہے۔
یہی وجہ ہے کہ جب جوڑا آتاہے یا تاریخ طے ہوتی ہے اور جب جہیز کا سامان آتاہے تو اس سامان کو کھول کر مجمع کے سامنے رکھا جاتاہے اور تمام سامان کی فہرست پڑھ کر سنائی جاتی ہے کہ جوڑے میں یہ ملا اور جہیز میں یہ ملا اس رسم میں محلہ پڑوس کے تمام لوگ جمع ہوتے ہیں۔
اب آپ خود اندازہ لگائیں کیا یہ کھلم کھلا ریاکاری اور دکھلاوا نہیں ہے اور آپ کو معلوم ہوگا کہ شریعت اسلامیہ میں ریا کاری کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔
جہیز کے سامانوں کی نمائش کے نقصانات
شادی وغیرہ میں جو سامان کی نمائش ہوتی ہے اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مردہو یا عورت، بچہ ہو یا جوان سب کے ذہن میں جہیز کے سامان کی ایک مکمل فہرست تیا ر ہوجاتی ہے اور پھر اس کا نقصان تب نظر آتا ہے جب محلہ پڑوس میں کسی لڑکی کی شادی ہو اور اس کو وہ تمام جہیز کا سامان دینے اور دلوانے کی کوشش کی جاتی ہے ، اور جب کسی کا جہیز آتا ہے تو محلہ پڑوس والے ان سب چیزوں کی تلاش کرتے ہیں کہ اس سامان میں وہ سامان بھی ہے یا نہیں جس کی فہرست ہم نے اپنے ذہن میں تیار کی ہوئی ہے، پھر اس کے بعد اگر کسی چیز کی کمی نظر آتی ہے تو پھر لڑکی کے والدین کو مختلف انداز سے طعن وتشنیع کیا جاتاہے اور اب تو نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ لڑکی کو بھی اس بات پر ابھارا جاتاہے کہ تو اپنے گھر سے جہیز کا سامان کم لائی ہے ،پھر اگر لڑکی کچھ بولدے کہ ہم غریب ہیں یا ہمارے پاس اتنا ہی مال تھا تو پھر معاملہ نعوذ باللہ طلاق تک جا پہنچتا ہے اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔
ایک اور بات
محترم قارئین! اس طرح جہیز کے سامان کا اعلان کرنے سے غریب آدمی کی غیرت کو تکلیف پہنچتی ہے اور اس کو اپنی خستہ حالت پر افسوس ہوتاہے ، جبکہ غریب کے بارے میں اللہ کے رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ اگرتم گوشت وغیرہ پکاؤ تو اس کی بھاپ بھی ان کے گھر تک نہ پہنچے کیونکہ پھر ان کا بھی گوشت کھانے کا دل کریگا ہاں اگر آپ کا اس غریب کو دینے کا ارادہ ہے تو پھر اس کو اس طرح پکانے میں کوئی حرج نہیں ہے ورنہ اس طرح پکاؤ کہ اس کی خوشبو بھی کسی کو محسوس نہ ہو۔
جہیز کے بارے میں آپ نبی کریم ﷺ کا طرز عمل
بخاری شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ایک دفعہ ایک عورت حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کرنے لگی یا رسول اللہ میں اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کرتی ہوں اس پر آپ ﷺ خاموش رہے کچھ دیر بعد میں صحابہ کرام ؓ میں سے ایک صحابی ؓ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ اگر اس عورت کی آپکو ضرورت نہیں ہے تو آپ مجھ سے اس کا نکاح کرادیں آپ نے فرمایا تمہارے پاس کیا ہے، صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ کچھ بھی نہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا گھر جاکر دیکھو شاید کچھ مل جائے ، وہ صحابی گھر گئے اور واپس آکر کہنے لگے یا رسول اللہ کچھ بھی نہیں ہے آپ ﷺ نے پھر فرمایا دیکھ لو اگر چہ لوہے کی ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو وہ صحابی گئے اور پھر واپس آکر عرض کرنے لگے یا رسول اللہ لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ہے لیکن میرے پاس ایک لنگی ہے اس میں سے آدھی میں اس عورت کو دیدونگا رسول اللہ نے فرمایا یہ عورت اس لنگی کا کیا کریگی، اگر تم اس کو پہنو گے تو اس کو کچھ نہیں ملے گا اور اگر یہ عورت پہنے گی تو تم خالی رہ جاؤ گے تو وہ صحابی تھوڑی دیر بیٹھے اور پھر جانے لگے پھر حضور ﷺ نے ان کو بلانے کا حکم دیا تو وہ صحابی آئے اور آپ ﷺ نے فرمایا قرآن میں سے تمہارے پاس کیا ہے عرض کیا میرے فلاں فلاں سورت یاد ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم ان کو زبانی پڑھ سکتے ہو صحابی نے عرض کیا جی ہاں تو پھر آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ میں ان سورتوں کے بدلے تمہارا نکاح اس عورت سے کردیا ۔(بخاری حدیث ۴۷۹۹)
تو دیکھئے ہمیں غور کرنا چاہیے کہ ان صحابی کے پاس سوائے ایک لنگی کے کچھ نہ تھا اور آپ ﷺ قرآن کی چند سورتوں کے بدلے ان کا نکاح اس خاتون سے کردیا
اورآج کل غریبوں کو اپنی لڑکیوں کی شادیاں کرنے میں جو دشواریاں آتی ہیں وہ زیادہ تر اسی وجہ سے آتی ہیں کہ لڑکے والے مالدار گھرانہ تلاش کرتے ہیں ایسی صورت میں پریشانی کا ہونا لازمی اور ضروری ہے اور اس کا کوئی علاج بھی نہیں ہے۔
ایک سبق آموز واقعہ
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک بڑے مالدار کا واقعہ لکھا ہے کہ اس نے اپنی لڑکا کا نکاح کیا اور جہیز میں صرف ایک پالکی ایک قالین اور قرآن مجید دیا اس کے علاوہ نہ برتن، نہ کپڑے دئیے بلکہ ایک لاکھ روپئے دیدئیے یا ایک لاکھ کی جائیداد اپنی بیٹی کے نام کردی اور کہا کہ میری نیت اس شادی میں ایک لاکھ روپئے خرچ کرنے کی تھی اور یہ رقم پہلے سے میں نے اپنی بیٹی کے لئے تجویز کررکھی تھی میرا خیال تھا کہ خوب دھوم دھام سے شادی کرونگا مگر پھر میں نے سوچا کہ اس سے دھوم دھام اور اتنے بڑے انتظام سے میری بیٹی کو کیا نفع ہوگا لوگ کھائیں گے اور پئیں گے اور اپنے گھرکو روانہ ہوجائیں گے میرا پیسہ برباد ہوگا اور بیٹی کو کچھ بھی نفع نہ ہوگا اس لئے میں ا س کے لئے یہ صورت اختیار کی کہ اس کے نام کچھ جائیداد کردوں تاکہ آگے چل کر اس کی اولاد بھی اس مال سے نفع حاصل کرے اس لئے مجھے کوئی بخیل بھی نہیں کہہ سکتا ہے کہ میں نے دھوم دھام نہیں کی توپیسہ بھی اپنے گھر میں نہیں رکھا ۔
معزز قارئین کرام !اگر اللہ نے کسی کو دولت دی ہے تو بیٹی کو دینا برا نہیں ہے لیکن جو بھی دیا جائے طریقے سے دیا جائے جو آگے چل کر لڑکی اور اس کی اولاد کے کام آسکے مگرلوگ یہ نہیں سوچتے وہ ایسے بیہودہ طریقے سے مال کو برباد کرتے ہیں کہ نہ لڑکی کو کچھ نفع ہوتاہے اور نہ ان کو خود نفع ہوتا ہے اور نہ ہی دین کا نفع ہوتاہے اور نہ دنیا کا بلکہ اس شعر کا مصداق بن جاتے ہیں ۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ٭٭نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے 
لڑکی والوں سے گذارش 
معاشرہ میں رائج جہیز تلک لین دین وغیرہ کی تباہ کاریاں آپ حضرات کے سامنے تفصیل سے گذر چکی ہیں ، اب آخر میں چند گذارشات آپ حضرات کے سامنے پیش کی جاتی ہیں جو ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں ۔
اول گذارش یہ ہے کہ اگر کوئی لڑکا بغیر جہیز کے آپ کے یہاں رشتہ کرنے کے لئے تیار نہیں تو آپ فکر مند نہ ہوں ایسے حریص اور لالچی آدمی سے بہتر ہے کہ آپ اپنی لڑکی کا رشتہ کسی غریب گھرانہ میں کردیں جو دیندار ہوں۔
اور لوگوں کی ملامت اور طعن وتشنیع کی پرواہ نہ کریں اللہ کی کتاب اور حضور ﷺ کی سنت ہمیں یہی تعلیم دیتی ہے ، اللہ فرماتاہے:
وانکحواالایامی منکم والصالحین من عبادکم وامائکم ان یکونوا فقراء یغنہم اللہ من فضلہ۔(سورہ نور۳۲)
یعنی غیر شادی شدہ لڑکیوں کاتم نکاح کردیا کرو اسی طرح غلام اور باندیوں میں جو نکاح کے لائق ہوں ان کا بھی نکاح کردیا کرو اگر وہ فی الحال مفلس یعنی غریب ہیں تو ان کواللہ اپنے فضل سے غنی کردیں گے ۔
دوسری گذارش مالداروں سے 
دوسری گذارش ہے کہ اگر آپ مالدار ہیں اور اپنی لڑکی کو دینے کا بھی شوق رکھتے ہیں تو جتنا چاہیں دیں مگر جو طریقہ معاشرہ میں رائج ہے خدا کے واسطے اس طریقے سے اس اعلان کرنے سے گریز کریں، یہ صورت سب سے بہتر اور کار گر ہے اور اس میں کوئی خرابی بھی نہیں۔
تیسری گذارش نوجوانوں سے
تیسری اور آخری گذارش یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو مرد بنایا ہے اور اس کے ساتھ جوانی جیسی قیمتی دولت عطا فرمائی ہے، تو جو رسم ورواج اور لین دین کی برائیاں آپ نے پڑھی یہ برائیاں ہمارے معاشرے سے ختم ہوسکتی ہیں مگر نوجوانوں کو ہمت سے کام لینے کی ضرورت ہے ۔
اگر نوجوان تیار ہوجائیں تو انشاء اللہ تمام رسم ورواج کا خاتمہ بأسانی ہوسکتا ہے، ان سے صرف اتنی گذارش ہے کہ کہ آپ جو ان مرد ہیں دوسروں کے مال پر نظر رکھنا بالخصوص عورت جیسی صنف نازک مخلوق کے مال کا مشتاق رہنا آپ نوجوانوں کو زیب نہیں دیتا آپ اپنے اندر خود اعتمادی پیدا کریں اور اپنی کمائی سے اپنے شوق پورے کریں اپنے ارمانوں کو پورا کریں، اور اللہ سے دعا کریں کہ لینے کی خواہش کے بجائے دینے کا جذبہ پیدا فرمائے ، حدیث شریف میں آتا ہےالید العلیا خیر من الید السفلیدینے والا ہاتھ بہتر ہے لینے والے ہاتھ سے ۔
اللہ تعالی ہمیں جہیز جیسی لعنت سے دور رکھے اور اس سلسلے میں اپنے اسلاف صحابہ وتابعین کی زندگیوں سے سبق حاصل کریں۔اللہ ہمیں عمل کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین 
اور مجھے لکھنے سے زیادہ عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین

تحریر: محمدکلیم اللہ بن شیخ الحدیث مولانامحمدحبیب اللہ قاسمی
ای میل:  Kalimmalik19@gmail.com
مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔
شائع کردہ مواد صرف لنک کی صورت میں شیئر کرنے کی اجازت ہے۔اعظمی گروپ آئی ٹی ٹیم

A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.