Header Ads

سیرۃ النبیﷺ | قسط نمبر 28



دوسری وحی:
پہلی وحی کے التوا کے بعد دوبارہ وحی کانزول ہوا تو سورۃ مدثر کی یہ آیات نازل ہوئیں:
يٓاآيّـُهٓاالْمُدّٓثّـِرُ.  قُمْ فٓأٓنْذِرْ.  وٓرٓبّـٓكٓ فٓكٓبّـِرْ
ترجمہ: میرے کملی اوڑھنے والےمحبوب اٹھ کھڑے ہوں اور پروردگار کی بڑائی و کبریائی بیان کریں۔
پھر یہ آیت نازل ہوئی
فٓاصْدٓعْ بِمٓاتُؤمٓرُ
یعنی آپﷺ کوجس بات کاحکم دیاگیا ہےاس کو صاف صاف اور علی الاعلان سنادیجئے۔
ادائے پیغمبری کے ابتدائی مشن  یعنی راہ حق  میں کمربستہ ہوجائیے۔ بھٹکی اور گمراہ انسانیت کی فلاح اور اصلاح کیلئے میدان عمل میں نکل آئیے۔
نور ایمان کی پہلی قندیل:
رحمت دوعالمﷺ پرساری خدائی میں سب سے پہلےایمان لانے کی سعادت اور اعزاز حرم رسولﷺ حضرت خدیجہ کونصیب ہوا۔ مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکرصدیق، بچوں میں سب سےپہلے حضرت علی المرتضٰی اور غلاموں میں سب سے پہلے حضرت زیدبن حارث اور حضرت بلال کو ایمان لانے سعادت حاصل ہوئی۔
سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں حضرت ابوبکرصدیق کی فضیلت اس بنا پر زیادہ ہے کہ حضرت خدیجہ تو حرم رسول تھیں حضرت علی آپﷺ کی کفالت میں تھے اور حضرت زید بن حارث حضرت خدیجہ کے آزاد کردہ غلام تھے جبکہ حضرت ابوبکرصدیق ایک آزاد و خودمختار مرد تھے نہ کسی کے تابع فرمان تھے اور نہ کسی کے زیر اثرتھے اور نہ ہی حضور اکرمﷺ سے کوئی رشتہ ناطہ تھا۔ باقی سب تو گھر کے افرادتھے۔
جب محبوبﷺ کی تابعداری میں آئے تو خودبھی غلام، بیٹی بھی غلام بلکہ سارا خاندان غلام بن گیا۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے جس کے سامنے بھی دین پیش کیا اسنے سوچنے اور غوروفکر کرنے کی مہلت مانگی سوائے ابوبکرکے کہ اِدھرمیں نے نبوت کا ہاتھ بڑھایا اُدھر صدیق نے صداقت والا ہاتھ ملایا، ادھر نظریں ملیں ادھر دل کے تار مل گئے۔
سیدنا ابوبکرصدیق امام الانبیاءﷺ کے دنیا وآخرت کے ساتھی تھے۔ آپ نے رفاقت کے ریکارڈ توڑ دیئے۔ حضرت ابوبکرصدیق آقائے نامدارﷺ کے ہر دُکھ سُکھ کے ساتھی تھے۔ جہاں حضور اقدسﷺ نظر آتے ہیں ساتھ صدیق بھی نظر آتے ہیں۔ نبوت وصداقت کا ایسا ساتھ ہے کہ صدیق اکبر بازار کے ساتھی، غار کے ساتھی اور مزار کے ساتھی  بھی ہیں۔ جب حضرت ابوبکرصدیق ایمان لائے تو آپ کے پاس چالیس ہزار درہم تھے۔ وفات سے پہلے سیدنا ابوبکرصدیق نے بیٹی کو وصیت فرمائی کہ کفن کے بجائے انہی کپڑوں میں دفن کردیاجائے تاکہ قیامت تک آنے والے لوگوں کومعلوم ہوسکے کہ ابوبکر کے دامن میں صداقت اور مصطفٰی کی شفاعت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ جس طرح ابوبکرصدیق ایمان لائے اس کی مثال نہیں ملتی۔
بے شمار صحابہ کرام حضرت ابوبکرصدیق کی ذاتی محنت اور تبلیغ سے مسلمان ہوئے۔
ابتداء میں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ، حضرت عثمان غنی، حضرت طلحہ، حضرت سعدبن ابی وقاص (فاتح ایران) اور حضرت خالد بن سعیدبن العاص کے قلوب نور ایمان سے منور ہوئے۔ حضوراقدسﷺ کی خواہش پر حضرت عثمان غنی سیدنا ابوبکرصدیق کی کوشش سے مسلمان ہوئے۔
حضرت طلحہ کا قبول اسلام:
حضرت طلحہ فرماتے ہیں کہ میں تجارت کی غرض سے بصرہ گیاہوا تھا۔ ایک روز بازار میں ایک راھب پکاررہاتھا کہ کوئی حرم کا رہنے والا آدمی ہوتو اسے میرے پاس لاؤ۔ طلحہ فرماتے ہیں کہ میں اس راھب کے پاس گیا اور بتایا کہ میں حرم کا رہنے والا ہوں۔ راھب نے کہا احمد(ﷺ) کاظہور ہو گیا ہے۔؟ میں نے کہا کون احمد؟ راہب نے کہا! عبداللہ بن عبدالمطلب کے بیٹے۔ یہ مہینہ ان کے ظہور کا ہے۔ وہ حرم مکہ میں ظاہر ہوں گے اور ایک پتھریلی ونخلستانی زمین کی طرف ہجرت کریں گے۔ وہ نبی آخرالزمان ہیں۔ دیکھنا تم پیچھے نہ رہ جانا ان کی اطاعت کرنا۔
طلحہ فرماتے ہیں کہ راہب کی باتوں کا مجھ پر گہرا اثر ہوا۔ واپس مکہ آنے پر حالات دریافت کئے تو معلوم ہوا کہ محمد ابن عبداللہ نے نبوت کا دعوٰی کیا ہے۔ چنانچہ میں ابوبکرصدیق کے پاس گیا تاکہ معلومات حاصل کرسکوں وہ پہلے ہی سرکار دوعالمﷺ پر ایمان لاچکے تھے۔ حضرت ابوبکرصدیق نے دین حق پیش کیا۔ میں ابوبکرصدیق کے دلنشیں انداز سے متاثرہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ حضرت ابوبکرصدیق کی شرافت ودیانت کا پہلے سے ہی گرویدہ تھا۔ چنانچہ ان کی دعوت پر ان کے ساتھ درباررسالت میں حاضری ہوئی اور میں مشرف بہ اسلام ہوگیا۔
(جاری ہے)

مضمون نگار: مولانا ابو بکر صدیق

امام جامع مسجد طیبہ، کورنگی کراچی

A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.