تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعہ، 15 جنوری، 2016

سیرۃالنبیﷺ | قسط نمبر 27


پہلی نماز
پہلی وحی کےساتھ ہی سب سے پہلے جس چیز کی سرکار دوعالمﷺ کوتعلیم دی گئی وہ وضو اور نماز کی تھی۔ روایت ہے کہ جبرئیل امین نے غار حراء کے پاس زمین پرپاؤں سے ٹھوکر ماری پانی کاچشمہ جاری ہوگیا۔ جبرئیل امین نےوضو کیا جنہیں دیکھ کر رسالت ماٰبﷺ نے بھی وضو فرمایا۔ پھرسفیر نبوت کی اقتدا میں آپﷺ نے دورکعت نماز ادا فرمائی۔ شروع شروع میں فجر اور عصر کی دو دو رکعتیں فرض ہوئی تھیں۔ بعض روایات کے مطابق جبرئیل امین نے سرکار دوجہاںﷺ کو ظہرکی نماز پڑھوائی۔ جب سائے ڈھلے تو عصر کی نماز پڑھوائی گئی۔ غروب آفتاب کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھوائی گئی۔ آفتاب دنیا کے مکمل چھپ جانے کے بعد عشاء کی نماز پڑھوائی گئی۔ اسی طرح طلوع آفتاب سے قبل صبح کو فجر کی نماز پڑھوائی گئی۔ احادیث سے ثابت ہوتاہے کہ ہجرت تک آقائے نامدارﷺ نماز مغرب کےسوا تمام نمازیں دو رکعت پڑھتے تھے۔ ہجرت کےبعد ظہر،عصر ٓ اور عشاء چار رکعت قرار دی گئیں۔ چونکہ اصل نماز دو رکعت تھی اسی لئے اصل کسی حالت میں ساقط نہیں ہوسکتی اسی لئے جنگ، خوف اور سفر میں دو قائم رکھی گئیں۔
دورفترت:
پہلی وحی کا عمل مکمل ہوا۔ وحی کچھ عرصے کےلئے رک گئی۔ مختلف روایات کےمطابق وحی کےالتوا کاعرصہ دو سے تین برس کا بیان کیا گیا ہے۔ جتنا عرصہ وحی کاسلسلہ منقطع رہااس عرصہ کو دور فترۃ کہاجاتا ہے۔ التوائے وحی کایہ دور سرکار دوعالمﷺ پر شاق گزرا۔ آپﷺ اپنی طبیعت میں شدیدگرانی، اضطراب اور حزن وملال محسوس کرتے۔ بار بار پہاڑ پر جاتےکہ اپنے آپ کو پہاڑ کی چوٹی سے گرادیں۔ مگر جب بھی حضور اکرمﷺ ایسا ارادہ فرماتے جبرئیل امین فوراً حاضرخدمت ہوتے اور فرماتے
یَامُحَمّدْاِنّکَ رَسُوْلُ اللہِ حَقّاً (اے محمدﷺ آپ یقیناً اللہ کے سچے رسول ہیں)
نوید رسالت کاایسا جانفرا اعلان سن کرہادی برحقﷺ کے قلب مبارک کو طمانیت اور سکون حاصل ہوتا اور آپﷺ کی ذہنی وقلبی تسلی و تشفی ہوجاتی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ دور فترت میں وحی کاسلسلہ وقتی طورپر منقطع ہوا البتہ سفیر نبوت جبرئیل علیہ السلام  کی آمد ورفت موقع محل کے لحاظ سے جاری رہی۔
اولین وحی کے بعد وحی کا رک جانا پرور دگار عالم کی حکمت وکبریائی کے تحت مقصود یہ تھا۔
•وحی اول کے نزول سے قلب نبوت پر وحی کی ہیبت وجلال ارو خوف کے اثرات آہستہ آہستہ ختم ہوجائیں اور وقت کے ساتھ ساتھ رحمت کائناتﷺ کا قلب اقدس وحی کی لذت سے آشنا ہوجائے۔
•وحی کے بند رہنے کے زمانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ شہنشاہ دوعالمﷺ منصب رسالت کی ذمہ داریوں، نزول وحی اور جبرئیل امین کی آمدورفت کے ساتھ ذہنی مطابقت حاصل کرسکیں۔
•وحی کا التوا اس لئے بھی ضروری تھا کہ نبوت کی تاج پوشی کے بعد حضور اکرمﷺ کادل ودماغ شوق وحی اور انتظار وحی سے لبریز ہوجائے۔ تاکہ آپﷺ مشاہدہ وحی سے ازسر نو لطف اندوز ہوسکیں اور دعوت تبلیغ  اور فرائض نبوت کی ادائیگی کے لئے کمر بستہ ہوجائیں۔
فرشتہ یا شیطان:
ایک بار حضرت خدیجہ نے نبی کریمﷺ سے عرض کیا کہ اگر ممکن ہوتو جس وقت جبرئیل امین آپﷺ کے پاس آئیں تو مجھے ضرور مطلع فرمائیں۔ چنانچہ ایک مرتبہ جبرئیل امین حاضر خدمت ہوئے تو آپﷺ نے حضرت خدیجہ کو ان کی آمد سے مطلع فرمایا۔ حضرت خدیجہ نے سرور کونینﷺ کو اپنی آغوش میں لیااور اپنا سر کھول دیا پھر حضوراکرمﷺ سے دریافت فرمایا کہ جبرئیل امین موجود ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا نہیں وہ غائب ہوگئے ہیں۔ حضرت خدیجہ نے عرض کی میرے آقا مبارک ہو، بشارت ہو خدا کی قسم یہ فرشتہ ہے شیطان نہیں۔ اگر شیطان ہوتا تو مجھے ننگے سر دیکھ کر کبھی غائب نہ ہوتا۔ یہ فرشتہ برحق ہے جس نے نبی کے حرم ہونے کے ناطے میرا احترام کیا ہے۔
پہلا مقتدی:
روایت میں ہے کہ حضرت خدیجۃ الکبرٰی اپنے عظیم المرتبت شوہر کو اعزاز پیغمبری عطا ہونے کے بعد ورقہ بن نوفل، عداس اور بحیرہ کے پاس لے گئیں۔ لیکن آپ کے اس فعل سے شک وشبہ کا ازالہ مقصود نہیں تھا بلکہ نبی کریمﷺ کی تسلی وتشفی مقصود تھی تاکہ وحی کی آمد سے جو ہیبت وخشیت آپﷺ پر طاری ہوئی تھی وہ دور ہوجائے۔
آج لوگ اس بحث میں پڑتے ہیں کہ حضوراکرمﷺ کی ازواج مطہرات میں افضل کون ہے۔ ذرا حضرت خدیجہ کی شان تو ملاحظہ ہو کہ تاجدار نبوت حرا سے گھر آتے ہیں نور نبوت سے منور چہرہ پر پہلی نظر حضرت خدیجہ کی پڑتی ہے اور اسلام کی پہلی نماز کی پہلی مقتدی حضرت خدیجۃ الکبرٰی بنتی ہیں۔ امام سرتاج الانبیاءﷺ ہیں۔
امام بھی لاجواب اور مقتدی بھی لاجواب۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)





مضمون نگار: مولانا ابو بکر صدیق

امام جامع مسجد طیبہ، کورنگی کراچی

Post Top Ad

loading...