تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

بدھ، 13 جنوری، 2016

سرۃ النبی ﷺ | قسط نمبر 26



پہلی گواہی:
جناب رسالت ماٰبﷺ گھرپہنچے۔ نبوت کے بارِگراں نے آپﷺ کی طبیعت پر گہرا اثر ڈالا۔ وحی کی ہیبت اور انوارات الٰہی کی بدولت قلب مبارک کامتاثر ہونافطری امر تھا۔ گھرکے آنگن میں قدم رکھاتو جسم پرلرزہ اور کپکپی طاری تھی۔ اپنی جانثار رفیقہِ حیات سے کہا "زملونی زملونی" جب طبیعت کچھ سنبھلی تو حضرت خدیجہؓ سے سارا واقعہ بیان کیا اور فرمایا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ میری جان نکل جائے گی۔ دکھ سکھ کی ساتھی غمگسار بیوی نے آپﷺ کو تسلی وتشفی دیتے ہوئے فرمایا آپ فکرنہ کریں خداتعالٰی آپ کو ہرگزہرگز نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔ کیوں کہ آپ بے کسوں کے والی، غریبوں کے ہمدرد، مظلوموں کے ساتھی ہیں۔ صادق وامین ہیں۔ خداتعالٰی آپ کو ہمیشہ ہمیشہ سلامت رکھے گا۔
        حضرت خدیجہؓ بہت مدت سےہادی برحق رحمت کائناتﷺ کی برکات وسکنات دیکھ رہی تھیں۔ ان کادل گواہی دے رہاتھا کہ ان کاشوہر غیر معمولی ہستی ہے۔
       آنحضرتﷺ نے نبوت کی دھلیز پرقدم رکھاتو آپﷺ کی پہلی گواہی عظیم المرتبت خاتون خدیجۃ الکبرٰیؓ نے دی۔ بعدازاں وہ اپنی تسلی کےلیے مشہور عیسائی عالم ورقہ بن نوفل کے پاس آپﷺ کولے گئیں۔ جنہیں انجیل و توراۃ پر عبور حاصل تھا۔ ورقہ بوڑھے ہوچکےتھے۔ بینائی جواب دے چکی تھی۔ جناب رسول مقبولﷺ نے سارا واقعہ بیان فرمایا۔ ورقہ بن نوفل نے غورسے سننے کے بعد کہا کہ یہ وہی فرشتہ ہےجو حضرت موسٰیؑ کی خدمت میں آیاکرتا تھا۔ بھتیجے! تمہیں مبارک ہو! تم ہی وہ نبی آخرالزمان ہو جنکا ذکر انجیل وتوراۃ میں آیا ہے۔ آپ ہی وہ ہستی برحق ہیں جنکا دنیا کو انتظار ہے۔ یہ نوید سن کر حضرت خدیجہؓ کادل مسرت وشادمانی کے جذبات سے لبریز ہوگیا۔ جب سرکار دوعالمﷺ وہاں سےچلنے لگے تو ورقہ بن نوفل نے کہا۔ بھتیجے! ذرا رک جاؤ۔ اے کاش! میری عمر وفا کرتی۔ اے کاش! میں زندہ ہوتا۔ آپ کی مدد کرتا جب آپ کی قوم آپ کو اپنے وطن سے نکالے گی۔
       آپﷺ نے یہ الفاظ سنے تو حیرانی سے پوچھا! کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ کتب سماویہ کے عالم ورقہ بن نوفل نے کہا! ہاں بھتیجے! جو منصب آپ کو عطا ہوا ہے اور جو اعلان آپ کرنے والے ہو۔ یہ اعلان اور پیغام جس نے بھی اپنی قوم کو دیا وہ نکالا گیا ہے۔
علامہ اقبال نے سچ کہا
چوں می گویم مسلمانم بہ لرزم
کہ   دانم   مشکلات   لا الہ  را
رسول امیﷺ کا معنٰی:
جناب رسالت ماٰبﷺ نے اس دنیا میں کسی سے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا۔ ایسا کرنا آپﷺ کی شان کے خلاف تھا۔ اسی لیے آپﷺ کالقب "اُمّـِيْ" تھا۔ اُمّی ہونا آپﷺ کی عظمت کی دلیل ہے۔
لقب خداوندی:
سرکاردوعالمﷺ جس زمانے میں پیدا ہوئے وہ زمانہ تعلیمی پسماندگی کا بدترین زمانہ تھا۔ اہل عرب عام طور پر غیرتعلیم یافتہ تھے۔ اُس دور میں اَن پڑھ ہونا معیوب نہیں تھا۔ اصل اہمیت حسب ونسب، قیادت وسیادت، شجاعت ودلیری اور فصاحت وبلاغت کو حاصل تھی۔ یہاں تک کہ عربوں کے ہاں قیادت وسیادت کے منصب کیلئے بھی پڑھا لکھا ہونا ضروری نہیں تھا۔ قبیلے کی سرداری کیلئے بہادر ہونا، صاحب عزم وہمت، دانشمند، غیرتمند، صاحب بصیرت، سخی اور مہمان نواز ہونا اولین خصوصیات تھیں۔ عرب کی تاریخی روایات دیکھی جائیں توبذات خود سرکار دوجہاںﷺ کا حسب ونسب اعلٰی تھا۔ آپﷺ کے آباو اجداد وجیہ، شجاع اور اہم مناصب ومراقب کے مالک تھے۔ 
      امام الانبیاءﷺ بچپن ہی سے مہمان نواز، سخی، صالح اور اخلاق وکردار کی ایسی بلندیوں پر تھے کہ عرب کے بوڑھے، جوان، بچے اور عورتیں آپ کو صادق وامین کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ اسی لئے اس عہد میں رسول اللہﷺ کا اُمی ہونا کوئی معیوب بات نہیں اور نہ ہی انہیں اُمی کہنا آپﷺ کی تنقیص ہے۔
      الاُمّی آپﷺ کا لقب ہے جو اللہ تعالٰی نے عطا فرمایا ہے۔ دستور یہ ہے کہ القابات ہمیشہ اعزاز واکرام کی خاطر دیے جاتے جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں یہ لقب سرورکونینﷺ کو انتہائی محبت بھرے انداز میں دیاگیا ہے۔۔
فَاٰمِنُوْا بِاللهِ وٓرٓسُوْلِـهِ الّنَبِـّیِ الْاُمّـِـّیِ
(ترجمہ) اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول نبی اُمّی پر بھی ایمان لاؤ۔
      بھارت سے شائع ہونے والی لغات القرآن مرتب کردہ مولانا عبدالرشیدنعمانی میں لفظ اُمّی کے مختلف مفاہیم بیان کیے گئے ہیں۔۔۔
اُمّی جو لکھ نہ سکے اور کتاب نہ پڑھ سکے۔ زجاج نے تصریح کی ہے کہ اُمّی وہ ہے جو امت عرب کی صفت پر ہو۔ پڑھا لکھا نہ ہونا عرب کی مخصوص صفت تھی جس میں وہ دوسروں سے ممتاز تھے۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ سے مروی ہے کہ آنحضرﷺ نے فرمایا ہم اُمّی جماعت ہیں نہ لکھنا جانیں نہ حساب کرنا۔ اس اعتبار سے اُمّی کو عامی کی طرح سمجھنا چاہیے۔ کیوں کہ عامی وہ ہے جو عامۃ الناس کی صفت پر ہو۔
     قرآن مجید میں آنحضرتﷺ کو اُمّی کے طور پر مخاطب کرکے ایک طرف تو قرآن مجید کااعجاز بتایاہے اور دوسری طرف یہ معجزہ کہ باوجود اُمّی ہونے کے کمال علوم سے سرفراز ہیں۔
یہ لفظ اُمّی آپﷺ کے حق میں صفت مدح کے طورپر استعمال ہوا ہے۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)






مضمون نگار: مولانا ابو بکر صدیق

امام جامع مسجد طیبہ، کورنگی کراچی

Post Top Ad

loading...