تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

بدھ، 6 جنوری، 2016

سیرۃ النبیﷺ | قسط نمبر24



زبان خلق نقارہ خدا۔۔۔
فخرکائنات سرورکونینﷺ نے جب عمر کی 35ویں سیڑھی پرقدم رکھاتو اس وقت مکہ کاہربچہ بوڑھا جوان مرد وعورت آپﷺ کوصادق وامین کےلقب سےپکاررہاتھا۔ آپﷺ کی بےمثال صداقت، امانت اورشرافت کے ہرسو ڈنکے بج رہےتھے۔ آپﷺ کی عمر کی اس منزل پرقریش مکہ نےکعبۃاللہ کی ازسرنو تعمیر کافیصلہ کیا۔ اس کی ضرورت اسلئے پیش آئی کہ سیلاب اوربارشوں نےاس کےدرودیوار کمزورکردئے تھے۔ کعبۃاللہ چونکہ نشیبی جگہ واقع ہے جوپہاڑی وادیوں میں گھراہوا ہے۔ اس لئےبارش کاپانی کعبہ کےاطراف طواف کرنےلگتاتھا۔ خانہ خداکومحفوظ کرنے کےلئے ایک سردار عامر الجاور نےکعبہ کےاردگرد دیوار کااحاطہ بنوادیا پھربھی شکست وریخت کاعمل جاری رہا۔ قریش جو کہ کعبہ کےمتولی تھے۔ ان کوخیال آیاکہ دور دور سےلوگ اس کی زیارت کیلئے آتے ہیں۔ اس پرنذرونیاز سےہمیں آمدنی ہوتی ہے۔ کعبہ کےاندرہی ایک کنواں سا بنادیاگیاتھا۔ جس کی گہرائی تین گز تھی۔ تمام نذریں اورنیازیں اسمیں ڈال دی جاتی تھیں۔ چڑھاوے کے اس تمام مال کےذخیرے پر ایک سانپ آکر براجمان ہوگیاتھا۔ کوئی قریب جاتا تویہ پھنکارنے لگتا۔ ایک روز سانپ کعبۃاللہ کی دیوار پربیٹھا دھوپ سینک رہاتھاکہ ایک عقاب آیا اورسانپ کواچک کرلےگیا۔ ۔ قریش نےاسے تائیدغیبی سمجھا اورخداتعالی کےگھرکی تعمیر کااعلان کردیا۔ سرکاردوعالمﷺ کےوالدمحترم کے ماموں ابووہب نےاہل مکہ سےاپیل کی کہ چونکہ یہ مقدس گھرہے اس لئےاس کی تعمیر میں حلال مال لگایاجائے۔ سود، زنا، چوری، ڈکیتی، لوٹ مار اور زور زبردستی کاکمایاہوا مال ہرگز ہرگز اس میں نہ لگایاجائے۔

حرم کی تعمیر نو۔۔۔
پرانی عمارت کاڈھانا بڑانازک مرحلہ تھا۔  مکہ والے ابرہہ کاعبرتناک انجام دیکھ چکےتھے۔ انہوں نےسوچا کہیں خداکے گھرکوڈھانے کی جسارت پرغضب الٰہی جوش میں نہ آجائے۔ انکی نیت ٹھیک تھی اس لئے ولیدبن مغیرہ نےکدال اٹھائی اورخانہ کعبہ کےسامنےکھڑے ہوکر دعاکی۔ پروردگار عالم تودلوں کےبھید جانتاہے ہماری نیت ٹھیک ہے۔ ہم دین سےمنحرف نہیں ہوئے۔ ہم خیر کےسوا کچھ نہیں چاہتے۔ ہم تیرے گھرکو پہلےسےزیادہ خوبصورت اور پرکشش بنانا چاہتےہیں۔
اس دعا کےساتھ ہی ولید بن مغیرہ نےکدال سےضرب لگائی کچھ حصہ منہدم ہوگیا اورپھررک گیاکہ دیکھیں کوئی آفت تونہیں آتی۔ آخرفیصلہ ہوا کہ انہدام کاکام کل پرچھوڑدیا جائے۔ ولیدبن مغیرہ کو اگلےدن لوگوں نےبخیریت دیکھاتو انہیں یقین ہوگیاکہ اللہ ہمارےا س نیک فعل سےراضی ہے۔ چنانچہ ساری عمارت ڈھادی گئی اوربنائے ابراہیمی تک پہنچ گئے۔ انہی دنوں جدہ کی بندرگاہ پرایک جہاز تباہ ہواتھا اس کےتختے حاصل کئےگئے۔ اس جہاز میں ایک رومی مصری کاریگر زندہ بچ گیاتھا اسے بطورخاص تعمیر کےسلسلےمیں مکہ لایاگیا۔ مصری کاریگر نےاپنی فنکاری دکھائی مگر وسائل کی کمی آڑے آگئی اس لئے کعبہ کاکچھ حصہ نیم دائرےکی شکل میں بغیر چھت کےچھوڑ دیاگیا۔ اس کوحطیم یاحجر کہتےہیں۔ یہ حصہ قسم کھانے، حلف اٹھانے اورمعاھدےکرنےکےکام آتاتھا۔ جب چھت بنانےکی نوبت آئی توپندرہ شہتیر پرچھت قائم کی گئی اس کی بنیاد سات ستونوں پررکھی گئی۔

خانہ کعبہ کی تعمیر کی تاریخ۔۔۔
تعمیرخانہ کعبہ میں مختلف روایات ہیں۔ ایک روایت کےمطابق خانہ کعبہ ابتدائے عالم سےلےکر اب تک پانچ مرتبہ تعمیرکیاگیا۔ دوسری روایت کےمطابق گیارہ مرتبہ تعمیر کیاگیا۔
پہلی روایت کےمطابق سب سےپہلےآدم علیہ السلام نےاللہ کےحکم سےتعمیرکیا طوفان نوح میں کعبہ کانام ونشان مٹ گیاتھا۔دوسری مرتبہ حضرت ابراہیم اورحضرت اسمعیل نے مل کرتعمیرکیا تیسری مرتبہ قریش نےتعمیر کیا چوتھی مرتبہ حضرت عبداللہ ابن زبیر نےتعمیرکیا پانچویں مرتبہ حجاج بن یوسف نے تعمیرکیا۔
دوسری روایت کےمطابق گیارہ مرتبہ تعمیر ہوا ہے اسکی ترتیب یہ ہے۔ 1۔فرشتوں نے 2۔آدم علیہ السلام نے 3۔حضرت شیث علیہ السلام نے 4۔ابراہیم اور اسماعیل علیہماالسلام نے 5۔عمالقہ نے 6۔جرہم نے 7۔قُصی نے۔ 8۔قریش نے 9۔عبداللہ ابن زبیر نے 10۔حجاج بن یوسف نے 11۔سلطان مراد رابع ابن سلطان نے۔ 
ان میں حضرت عبداللہ ابن زبیر کی تعمیرکوبہت اہمیت حاصل ہے۔ حضر عبداللہ ابن زبیر بہت جلیل القدر صحابی تھے۔ ہجرت کےبعد سب سےپہلا بچہ عبداللہ ابن زبیر پیدا ہوئےآپ کی پیدائش پرصحابہ کرام نے نعرہ تکبیر بلندکیا۔ آپﷺکے پاس لایاگیا آپﷺ نے کھجوراپنے منہ میں چباکر ابن زبیر کےمنہ میں ڈالی یوں ابن زبیر کےشکم مبارک میں سب پہلی چیزجوغذا کےطور پرگئی وہ نبی علیہ السلام کالعاب دھن تھا۔ آپ حضرت ابوبکرصدیق کے نواسے آنحضرتﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہ کےپوتے حضرت اسماء کےبیٹے تھے۔ یہ حضرت اسماء وہ ہیں جن کوہجرت کی رات ابوجہل نے تھپڑ مارا تھا۔حضرت عبداللہ نےسب سےپہلے کعبہ کی تعمیر کیلئےچونا استعمال کیاتھا جوبطور خاص یمن سے منگوایاگیاتھا۔ کعبہ کی دیواروں کومشک سےلپوایاتھا اور کعبۃاللہ پر سب سےپہلا غلاف حضرت عبداللہ ابن زبیرنے ڈالاتھا۔
خانہ کعبہ کی تعمیر پانچ پہاڑوں کےپتھروں سے کی گئی۔ 1۔طورسینا 2۔ طورزیتان 3۔طورلبنان 4۔طورجودی 5۔طورحرا۔

سب کاثالث۔۔۔
خانہ کعبہ تعمیر ہوا۔ دیواریں اس حدتک پہنچیں کہ جہاں حجراسود نصب ہوناتھاتو ہرقبیلہ کی انا نےسر اٹھایا۔ ہرقبیلہ یہ اعزاز تنہاء حاصل کرنا چاہتاتھا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مارنے مرنے پرتل گئے جوکہ ان کی فطرت تھی۔ انہوں نےپیالےمیں خون بھرا اور انگلیاں چاٹنے لگے۔ یہ نازک صورتحال دیکھ کرایک جہاندیدہ بوڑھےنے مشورہ دیاکہ تم لوگ خومخواہ معمولی سی بات پرایک دوسرے کومارنےپر تیارہوگئے ہو۔ کل صبح حرم پاک میں جوشخص سب سےپہلے داخل ہو اسے اپنا ثالث مان لو۔ سب نے اس پر اتفاق کیا۔ اگلی صبح حرم پاک میں سب سےپہلےداخل ہونے والے آمنہ کے دریتیمﷺ تھے۔ تمام سرداروں کوجب فخردوعالمﷺ کی آمد کاعلم ہواتو انہوں نے خوشی وشادمانی کااظہارکیا کہ بلاشبہ آپﷺ خانوادہ ہاشم کےہونہار چشم وچراغ ہیں۔
رسول مقبولﷺ نےاپنی چادررحمت زمین پربچھادی اور حجراسود اسمیں رکھ دیا۔ پھر تمام سرداروں سےکہاکہ وہ اس چادرکوتھام لیں تاکہ کوئی قبیلہ اس شرف سے محروم نہ رہ جائے۔ اس فیصلے کوسب نےپسند کیااور سراہا۔ سب نےمل کرچادر اٹھائی۔ جب سب کےسب چادر کواٹھاتےہوئے اس جگہ پرپہنچےجہاں حجر اسود کونصب کرناتھا توحضورانورنے بنفس نفیس آگےبڑھ کراپنے دست مبارک سےحجراسود کو اس کی جگہ پرنصب کردیا۔ اس طرح رحمت دوعالمﷺ کی ذہانت، فراست، معاملہ فہمی اور دوراندیشی کی بدولت قبیلوں کےباہمی تصادم ، قتل وغارت اورجنگ وجدل کاخطرہ ٹل گیا۔
(جاری ہے)





مضمون نگار: مولانا ابو بکر صدیق

امام جامع مسجد طیبہ، کورنگی کراچی

Post Top Ad

loading...