تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 11 جنوری، 2016

عالم اسلام کے لئے شیعہ ورلڈ آرڈر


عالم اسلام کے لئے شیعہ ورلڈ آرڈر:
عزیز دوستو!!
آج میں آپ تک جو رپورٹ پہنچانے لگا ہوں ، یہ ایک انتہائ اہم اور خطرناک معاملہ ہے، 
شیعہ علماء ، مجتھدین اور آیت اللہ کہلوانے والے مراجع نے، ایران کے پڑوسی ممالک اور علاقوں میں ، شیعیت پھیلانے کا ایک خفیہ خاکہ 1979 کے ایرانی شیعی انقلاب کے کچھ ہی عرصہ بعد تیار کیاتھا،لیکن  اُسکا انکشاف کافی سالوں بعد ، ایران ہی میں رہنے والے ایک صحافی جسکا تعلق متحدہ عرب امارات سے تھا نے ، متحدہ عرب امارات سے شائع ہونے والے مجلہ " البیان " کے شمارہ نمبر 123 ماہ ذی القعدہ ، 1418 بمطابق 1998 نے کیا، 
یہ ایک پیغام تھا، جو اس مجلس ثقافت نے اپنے تمام محافظوں ، اور اپنے مذہب کے ماننے والوں کو ارسال کیا تھا، اس پیغام کو پورے عالم اسلام کے شیعہ کی طرف بھیجا گیا تھا، اس پوشیدہ خاکہ پر عمل درآمد کرنے کے کئے ابتدائی طور پر پچاس سال کا وقت مقرر کیا گیا تھا، 
اسکا بنیادی ہدف یہ تھا، کہ ایرانی علاقوں میں جہاں جہاں سنیوں کی اکثریت ہے ، ہر حربہ آزما کے انکو شیعہ بنایا جائے، 
نیز، پاکستان ، افغانستان ، سعودی عرب ، عراق ، کویت ، بحرین ، یمن ، قطر ، متحدہ عرب امارات ، عمان ، ودیگر وہ ممالک جو ایران کے قریب واقع ہیں ، ان میں بھی شیعیت کا جال پھیلائیں ، اور مزید یہ کریں ، کہ ان پر فوجی، معاشی ، معاشرتی ، اور ثقافتی سطح پر غلبہ پائیں ، ان ممالک کا سارا نظام تباہ کردیا جائے، اور شیعیت کا تسلط قائم کیا جائے، 
اس خطرناک منصوبہ کی مزید تفصیلات بیان کرنے سے قبل میں اپنے قارئین کو صرف یہ کہنا چاہوں گا ، یہ مسئلہ صرف میرا ذاتی مسئلہ نہیں ، یہ پوری امت مسلمہ کے ، ہر فرد کاذاتی مسئلہ ہے، کہ نظریہ اور عقیدہ سے بڑھ کے ذاتی دولت کوئی اور چیز نہیں ہوسکتی، لھذا ہر مرد ، عورت ، جوان ، بوڑھا ، بچے ، لڑکے ، لڑکیاں ، سب دل و جان سے اس ایک ہی عزم کو لے کر اٹھ کھڑے ہوں ، کہ ہم نے ہر حال میں رافضیت و شیعیت ( جو یہودیت کا ہر اول دستہ ہے ) کا راستہ روکنا ہے، اگر اس میں جان بھی قربان کرنی ہڑے تو کوئ مہنگا سودا نہیں، 
جان دی ، دی ہوئی اسی کی تھی
حق تو یہ ہے، کہ حق ادا نہ ہوا
ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں ،
اور وہ کشتی ہے اسلام کی ،
اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، 
ہم سب اسلام کی سرحد ہیں ، 
اور اسلام کی سرحد کی حفاظت ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، 
" اس خطرناک پوشیدہ منصوبہ کی تحریر" 
ہم اپنی قریب والی حکومتوں میں اپنی تحریک جاری رکھنے سے قاصر ہیں ( یعنی ترکی ، روس  ) وغیرہ ، ان علاقوں کی ثقافت اور تہذیب مغرب سے ملی ہوئی ہے، وہ ہمارے اوپر حملہ کر سکتے ہیں ، اور غلبہ پاسکتےہیں ، 
اب اللہ کے فضل اور اس بہادر امام خمینی ( لعنت اللہ علیہ ) کی امت کی قربانیوں سے کئی صدیوں بعد ، اثنا عشری شیعوں کی حکومت ایران میں قائم ہو چکی ہے، 
اور شیعہ لیڈروں کے ارشادات کی روشنی میں ، ہمارے اوپر بہت بھاری اور خطرناک ذمہ داری آن پڑی ہے، وہ ہے اس تحریک کو جاری رکھنا ، 
لیکن عالمی حالات کے پیش نظر اور حکومتوں کے قوانین کو مد نظر رکھتے ہوئے، اس تحریک کو جاری رکھنا ممکن نہیں ، 
بلکہ اسے جاری رکھنے کے لئے، تباہ کُن بڑے بڑے خطرات درپیش ہیں ، 
اس بناء پر ہم نے مختلف آراء کے مطابق ، اور تین دفعہ کمیٹی بٹھانے کے بعد ، ان کے متفقہ مشورہ سے ، اس منصوبہ کی تکمیل کو پانچ مراحل میں طے کرنے کا فیصلہ کیاہے، 
ہر مرحلہ دس برس کا ہوگا ، 
اس طرح پچاس برسوں میں ہم یہ مرحلہ وار تحریک قریب کی تمام ممالک میں برپا کر سکیں گے، 
جن خطرات کا ہمیں سامناکرنا ہوگا ، 
وہ وہابی حکام اور سنیوں کی اکثریت ہے، 
انکا خطرہ یورپ سے بھی زیادہ ہے، 
کیونکہ یہ وہابی اور اہل سنت کی اکثریت ہماری تحریکوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ، 
یہ ولایت فقیہ اور ائمہ معصومین کے دشمن ہیں ، 
حتاکہ یہ شیعہ مذہب کو مخالف شریعت ودستور قرار دیتے ہیں ، 
اور انکوں نے شیعہ مذہب اور اسلام کو ایک دوسرے کے متضاد قرار دیا ہے، 
اس بناء پر ہماری ذمہ داری ہے ، کہ ایران کے اندر سُنی علاقوں میں ہم اپنا اثر ونفوذ زیادہ کریں ، خصوصاً سرحدی علاقوں میں ، 
اور ہم اپنی امام بارگاہیں زیادہ تعداد میں تعمیر کریں ، 
اور اپنی مذہبی مجالس پہلے سے زیادہ منعقد کریں ، 
اور ان شہروں میں جن میں 90 یا 100 فیصد آبادی سُنیوں کی ہے، 
وہاں ہم شریعت کے لئے فضا تیار کریں ، 
تاکہ اندرونی شیعوں کی تعداد میں مرحلہ وار اضافہ ہو، 
اور یہ رہائش کے لئے ، کام کے لئے ، اور تجارت کے لئے یہاں ٹھریں ، 
اس کے بعد حکومت اور اداروں کی ذمہ داری ہے، 
کہ ان سنی لوگوں سے ہمارے شیعہ مذہب کی طرف آنے والوں کو وطنی تسلیم کریں ، 
یہ خاکہ جو ہم نے تیار کیاہے، کہ اس تحریک کو پھیلایا جائے، زیادہ تر اہل نظر اسے مفید اور مناسب تصور نہیں کرتے ، اور اس سے بہت زیادہ خونریزی ہونے کا کہتے ہیں ، اور اس کے خلاف عالمی بڑی طاقتوں کے رد عمل ظاہر ہونے کا خیال بھی ظاہر کرتے ہیں ، اور اس پر اٹھنے والے اخراجات کو بھی بے سود قرار دیتے ہیں، 
لیکن اس کے باوجود ہم یہ کہتے ہیں ، کہ اہل رائے کا یہ فیصلہ بار آور ہوگا ، اور مفید ثابت ہوگا، 
" ایرانی سلطنت کی مضبوطی کا طریقہ" 
کسی بھی حکومت ، یا جماعت ، یا شعبہ کے ارکان کی حفاظت ، یا مضبوطی تین بنیادوں ہر ہوتی ہے، 
1, قوت حاکمہ 
2, علم ومعرفت
3, اقتصادیات
جب بھی حکومتوں کی بنیاد کو متزلزل کرنا ہو، تو حکام اور علماء اختلاف پیدا کردیاجائے، اور اس شھر یا ملک کے دولتمند لوگوں کو بکھیر کر اپنے علاقہ میں لے آئیں ، یا دنیا کے دوسرے ممالک میں بھیج دیا جائے، تو ہم نے یقینی کامیابی حاصل کر لی اور توجہ کے قابل ہو جائیں گے، بقیہ آبادی اس قوت اور حاکمیت کے تابع ہوتی ہے، اور وہ اپنی معیشت میں مگن ہوتی ہے، اور اپنی روٹی اور رہائش کے چکر میں ہوتی ہے، یہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے معاملے کے تحت قوت سے دبی رہتی ہے، 
ہمارے ہمسائے ممالک ، جو اہل سنت بھی ہیں اور وہابی بھی ہیں ، مثلاً متحدہ عرب امارات ، ترکی ، عراق، افغانستان ، پاکستان ، خلیج فارس وغیرہ ، یہ بظاہر متحد ہیں ، لیکن حقیقت میں مختلف ہیں ، ان علاقوں کی ایک بہت بڑی اہمیت اس وجہ سے بھی ہے، جو گذشتہ اور موجودہ دور میں بھی رہی ہے، کہ یہ کُرۂ ارض کی شاہ رگ ہیں ، ان میں تیل کی دولت ہے، یہ دنیا کے حساس ترین ممالک ہیں ، ان علاقوں کے حکام تیل کی تجارت کی وجہ سے زندگی کی حیثیت رکھتے ہیں ، 
ان علاقوں کے رہائشی تین طبقات میں تقسیم ہیں ، 
(1) بدو ، صحرا نشین جو صدیوں سے یہاں آباد ہیں ،
(2) وہ لوگ ہیں جو بندرگاہوں اور بنجر علاقوں سے ہجرت کر کے ہماری اس سرزمین میں آباد ہوئے،انکی ہجرت کا آغاز شاہ اسماعیل صفوی ، نادر شاہ ، کریم خان ، قاچار بادشاہوں اور پہلوی خاندان کے دور میں ہوا تھا ،اور اس اسلامی تحریک ( یعنی شیعہ انقلاب ایران ) کے دور میں بھی وقفہ وقفہ سے وہ مختلف علاقوں سے ہجرت کر کے یہاں آکے آباد ہوئے، 
(3)وہ لوگ ہیں ، جو اسھر ادھر کی چھوٹی چھوٹی عرب حکومتیں ہیں ، اور وہ لوگ ہیں ، جو ایران کے اندرونی شھروں میں ہیں ، تجارت، امپورٹ ، ایکسپورٹ، کمپنیوں اور عمارتوں وغیرہ پر ان لوگوں کا تسلط ہے، ان علاقوں کی رہائشی عمارتوں کے کرایوں اور زمینوں کی خرید و فروخت پر گذارا کرتے ہیں ، اور بااثر ہیں ، اور وہ جو تیل کی تجارت سے حاصل ہونے والی تنخواہوں پر گذر اوقات کرتے ہیں ،
معاشرتی فساد ، ثقافتی و کاروباری خرابی اور اسلام کے خلاف طرز عمل ، یہ ان میں بلکل واضح ہے، 
ان علاقوں کے رہائشی زیادہ تر اپنی زندگی دنیاوی لذات اور فسق وفجور میں ڈوب کر گذار رہے ہیں ، ان میں سے زیادہ تر نے یورپ و امریکہ میں اپنی جائیدادیں بنا رکھی ہیں ، اور وہاں کی انڈسٹری میں حصہ ڈال رکھا ہے ، اور اپنا سرمایہ وہاں کے بنکوں میں رکھا ہوا ہے، 
خاص طور پر جاپان ، انگلینڈ ، سویڈن اور سوئس بینکوں میں ، 
انہیں یہ خوف ہے ، کہ ان کے ملک کے حالات مستقبل کے لئے اچھی غمازی نہیں کر رہے، یہاں وہ غیر محفوظ ہیں ، 
جب ہم شیعہ ان عرب ممالک پر قبضہ کر لیں گے ، تو گویا ہم نے آدھی دنیا فتح کرلی، 
" تیار شدہ خاکہ کے نفاذ کا طریقۂ کار" 
یہ پچاس سالہ خاکہ بروئے کار لانے کے لئے ہماری ذمہ داری ہے، کہ ہم اپنے اردگرد والی حکومتوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں ، بلکہ ہم صدام کے معزول ہونے کے بعد عراق کے ساتھ بھی اچھے تعلقات رکھیں گے، 
وجہ یہ ہے، کہ ہزار دوست کو زیر کرنا آسان ہے، اور ایک دشمن کو زیر کرنا مشکل ہے، 
ان سیاسی ، ثقافتی ، اور اقتصادی تعلقات کی آڑ میں ہمارے بہت سارےایرانی لوگوں کی تعداد ان حکومتوں کی طرف پہنچ جائےگی، ان ممالک میں ہم مہاجروں کے لبادہ میں اپنے کارندے بھیجیں گے، جنکو ہم تنخواہ دیں گے، اور انہیں حق خدمت دیا جائے گا ،  
اس بارہ میں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ، کہ پچاس سال ایک طویل عرصہ ہے، 
ہماری تحریک ( ایرانی شیعہ انقلاب ) بیس سال بعد کامیابی سے ہم کنار ہوئی تھی، 
ہمارا مذہب بھی ایک دن میں نہیں پھیلا،
بلکہ ممالک میں ہمارے وزراء ، وکیل اور حاکم بھی نہ تھے، 
بلکہ معمولی عہدیدار بھی نہ تھے، 
حتاکہ وہابی ، شافعی ، حنبلی ، مالکی ، حنفی ، تو ہمیں مرتد قرار دیتے ہیں ، اور بارہا شیعوں کا قتل عام بھی ہوا( سفید جھوٹ ) 
یہ پہلے کی بات ہے، مگر آج اس دور میں ہمارے آباء واجداد کے نظریات اور انکی آراء ومساعی نتیجہ خیز ہیں ، 
اگرچہ آئندہ ہم خود نہ ہوں گے، لیکن ہماری تحریک اور مذہب دونوں باقی رہیں گے، 
اس مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لئے قربانی کی ضرورت ہے،
ہمارا پروگرام ہونا چاہئے ، اور خاکہ بندی تیار رکھی جائے، خواہ پچاس سال کی بجائے پانچ سو سال لگ جائیں ، 
ہم لاکھوں شھداء کے وارث ہیں ، جو مسلم نما شیطانوں کے ہاتھوں مارے گئے، اور ان کے خون تاریخ کی راہ پر اب بھی بہ رہے ہیں ، 
یہ خون خشک نہیں ہوئے، اور یہ بہتے ہی رہیں گے ، وہ لوگ ( سُنی لوگ ) جب تک اپنے بڑوں کی خطاؤں کا اعتراف نہیں کرلیں گے ، اور شیعہ مذہب کو اسلام کی اصل قرار نہ دیں گے ، خون پیش کرتے رہیں گے،
" مرحلہ وار فہم " 
(1) ہمارے لئے افغانستان ، پاکستان ، عراق، ترکی اور بحرین میں مذہب شیعہ کی ترویج واشاعت میں کوئ رکاوٹ نہیں ، ہم نے جو دوسرے دس سال کا خاکہ تیار کیا ہے، ہم اسے ان ملکوں میں پہلے دس سال کا خاکہ بنا کے کام کر سکتے ہیں ، ہمارے کارندوں کو تیں چیزوں کا خیال رکھنا چاہئے، ، 
نمبر ایک، یہ ہمارے نمائندے زمینوں ، گھروں ، اور فلیٹوں کی خریداری کریں ، اور کاروبار بنائیں ، زندگی کی سھولیات اور آسانیاں شیعہ مذہب والوں کو فراہم کریں ، تاکہ وہ ان گھروں میں رہیں ، اور تعداد بڑھے ، یہی کام فلسطین میں یہودیوں نے کیا ہے، 
نمبر دو، تعلقات بڑھائیں ، اور بازار میں حکومتی اداروں میں ، بڑے بڑے رؤسا اور مشاہیر اور حکومتی محکموں میں اثر ورسوخ رکھنے والے لوگوں سے دوستی رکھیں، 
نمبر تین، بعض ممالک میں عمارتوں کی تعمیر جُدا جُدا ہے، لیکن ان میں بستیوں اور چھوٹے چھوٹے شہروں میں ٹاؤنز تعمیر ہوتے ہیں ، ہمارے ان کارندوں کو چاہئے، وہ انہیں خریدیں اور مناسب قیمت پر بیچیں ، اور ان افراد کو دیں ، جنہوں نے اپنی جائدادیں شہر کے مراکز میں فروخت کی ہیں ، اس انداز پر شیعوں کی آبادی گھنی ہو سکتی ہے، اور سُنیوں کے ہاتھوں سے جائیدادیں نکالی جاسکتی ہیں۔ 
(2) دوسرا مرحلہ یہ ہے، کہ شیعہ پر لازم ہے ، کہ قانون کا احترام کریں ، اور قانون نافذ کرنے والوں کی بات مانیں ، اور حکومت کے ملازموں کی بات بھی تسلیم کریں ، اور مذہبی مجلسوں کے انعقاد کے لئے رخصت طلب کریں ، 
امام بارگاہیں بنوائیں ، کیونکہ مذہبی رسومات مستقبل کے کئے ہمارا اعتماد بحال رکھیں گی، اور حساس مقامات پر بُلند و بالا اور اعلی رہائشیں تیار کریں ، اور ان دو مرحلوں سے گذرنے کے لئے یہ ضروری ہے، جہاں بھی ہمارے کارندے رہتے ہیں ، اس ملک کی شھریت حاصل کریں ، اسکا طریقہ یہ ہے ، کہ دوستوں کو تحائف دئے جائیں ، اور نوجوانوں کو ترغیب دی جائے، کہ وہ حکومتی اداروں میں ملازمت اختیار کریں ، اور خاص طور پر فوج میں سلیکٹ ہوں ، اور اس خاکہ کے دس سالوں کے دوسرے نصف میں یہ طریقہ اختیار کرنا لازمی ہے، کہ علمائے اہل سُنت کو آپس میں بھڑکایا جائے، کسی علاقہ میں معاشرہ کی خرابی یا اسلام مخالف اعمال کثرت سے ہوں ، تو کسی تنظیم یا دینی شخصیت کے حوالہ سے پمفلٹ بانٹ دئے جائیں ، جن میں تنقید کی گئی ہو، ظاہر ہے ، اس طرح مختلف شعبوں میں بھڑکاؤ پیدا ہوگا، جسکا نتیجہ یہ ہوگا، یا تو دینی قیادت پر پابندی لگ جائے گی ، یا دینی شخصیت کی زبان بندی ہوگی ، یا یہ ہوگا کہ وہ اس غلط نشریات کی تردید کریں گے، اور دین کی طرف منسوب ان نشریات کا دفاع کریں گے، بہر صورت شک کی فضا پیدا ہوجائے گی، علماء اور دینی لوگ حکمرانوں سے بد ظن ہوں گے ، اور حکمران علماء سے بد گمان ہوں گے، اور دین پسند لوگوں کا تقدس اس علاقہ میں پامال ہوگا، اور مساجد ، دینی ادارے اور دینی نشر واشاعت کا کام رک جائے گا، تمام دینی خطابات اور مذہبی مجالس ان کے نظام میں خرابی کا باعث بنیں گی ، اس سے بڑھ کر یہ فائدہ ہوگا کہ علماء اور حکام کے مابین کینہ اور نفرت جنم لے گی، جب ان وہابی اور اہل سنت کو ان کے اندرونی مراکز سے حمایت حاصل نہ ہوگی ، تو پھر یہ باھر سے کچھ حمایت حاصل نہ کر سکیں گے،
(3)اسی دس سالہ مرحلہ میں یہ بات حاصل ہوگی ، کہ ہمارے کارندوں کی دوستی مالداروں اور حکومتی کارندوں کے ساتھ گہری ہوگی، اور زیادہ تر فوج میں اور قوت نافذہ میں تعلق کی بناء پر یہ شیعہ پورے آرام وسکون سے کام کریں گے، یہ دینی تحریکوں میں دخل اندازی مت کریں ، اس سے حکام بالا ان سے پہلے سے بھی زیادہ مطمئن ہو جائیں گے، اس مرحلہ میں جو دین والوں کے حکام کے ساتھ اختلاف پیدا ہوئے ہوں گے ، تو اس صورت میں اس علاقہ کے ہمارے شیوخ پر فرض ہوگا ، کہ وہ حکومت کی حمایت کریں اور انکا دفاع کریں ، خاص طور پر مذہبی رسومات میں حکمرانوں کا ساتھ دیں ، اور جب خطرہ نہ ہو تو اپنے شیعہ ہونے کا اظہار کریں ، اور حکام کی نظروں میں نہ کھٹکیں ، بلکہ انکی رضا حاصل کریں ، اور انکے حکومتی احکامات کو بلا خوف وخطر مانیں ، اسی مرحلہ میں ہم بندرگاہوں ، جزیروں  اور شھروں میں جو ہمارے ملک میں دوسرے ملکوں کے بنک ہیں ، ان سے رابطہ کریں گے، تا کہ قریبی ممالک کے ساتھ اقتصادی تبادلہ کر سکیں ، یہ بات یقینی ہے، مالدار اقتصادی مضبوطی کی خاطر اپنے وفود ہمارے ملک میں بھیجیں گے اور جب ہم انہیں تجارتی آزادی دیں گے ، تو وہ ہمارے وطن میں خوش ہوں گے، اور ہم ان سے اقتصادی فائد حاصل کریں گے، 
(4)اور چوتھے مرحلہ میں حکمرانوں اور علماء کے درمیان کینہ پیدا ہوچکا ہوگا ، اور تاجر پیشہ لوگ یا تو مفلس ہوجائیں گے ، یا راہ فرار اختیار کر جائیں گے، اور لوگوں میںاضطراب پیدا ہوگا، یہ اپنی جائیداد آدھی قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہوں گے، تاکہ پر امن جگہ پر منتقل ہو سکیں ، اس پس و پیش کی صورت میں ہمارے نمائندے حکمرانوں کی حمایت حاصل کریں اور اسی کشمکش میں اگر ہمارے نمائندے بیدار مغزی سے کام لیں گے ، تو یہ حکومتی بڑے بڑے عھدوں پر فائز ہوسکتے ہیں ، اور عدالت اور حکام کے متعلقہ اداروں تک رسائی میں تھوڑی سی مسافت باقی رہ جائے گی ، ہم اتنے اخلاص کا مظاہرہ کریں گے ، کہ یہ حکام یہ تصور کریں کہ پہلے ملازم تو خائن تھے، ا س سے وہ انہیں محکموں سے باہر نکال دیں گے ، یا پھر ہمارے شیعہ افراد کو لیں گے ، اس سے دو فوائد حاصل ہوں گے، 
نمبر ایک۔ اس سے ہمارے عناصر حکام کا زیادہ اعتماد حاصل کرلیں گے،
نبمر دو۔ جب اہل سنتطکسی فیصلہ پر ناراض ہوں گے، تو شیعہ کی قدر حکومت کے نزدیک زیادہ ہوگی، اور جب اہل سنت حکومت کے خلاف احتجاج کریں تو اس صورت میں ہمارے نمائندے حکومت کا ساتھ دیں ، اور لوگوں کو صلح کی دعوت دیں ، اور جو جانا چاہتے ہیں ، انکی جائدادیں خرید لیں۔ 
(5) مرحلہ یہ ہے کہ ، جب کسی ملک میں فضا تحریک کے لئے تیار ہوچکی ہوگی ، اور یہ اس وجہ سے ہوگی ، کہ ہم نے امن و سکون ، عاحت اور حکومتی حالت فیصلہ کن کردی ہے ، اب حکومت طوفان میں پھنسی کشتی کی مانند ہوگی ، جو غرق ہونے کے لئے ہچکولے کھا رہی ہے ، اور ہر ایک اس حکومت سے نجات کا مطالبہ کر رہا ہوگا، اس وقت ہمارا مطالبہ یہ ہوگا ، کہ قابل اعتماد شخصیات کی کمیٹی بنائی جائے ، تا کہ وہ ملک میں سکون پیدا کرے ، ہم حکام سے حکومتی اداروں کی نگرانی پر تعاون کریں گے ، اور ملک کو کنٹرول کریں گے ، وہ یہ تعاون قبول کریں گے، اور ہماری اکثریت کرسیوں پر براجمان ہوگی ، تو ہم اپنی اسلامی تحریک بغیر کسی جنگ اور خون ریزی کے دوسرے ملکوں میں برپا کر سکیں گے ، 
اگر باالفرض یہ مرحلہ آخری ہے حاصل نہیں ہوتا ، تو پھر ہم خاندانی تحریک برپا کردیں گے اور حکام سے غلبہ چھین لیں گے ، اور ہمارے شیعہ عناصر ان ملکوں کے رہائشی تو ہوں ہوں گے، اور ہم اللہ کے ہاں اور دین کے سامنے فریضہ کی ادائیگی میں سر خرو ہوں گے ، 
ہمارا ہدف کسی معین شخص کو تخت حکومت پر بٹھانا نہیں ، ہمارا مقصد تو صرف تحریک برپا کرنا ہے، اور اس دین الہی کا علم بلند رکھنا ، ہم تو ہر ملک میں اپنا وجود منوانا چاہتے ہیں ، وہ ہم نے کر لیا ہے ، ہم کفر کی دنیا کے سامنے اس قوت کے ساتھ ابھریں گے ، اور ہم نور اسلام سے دنیا کو روشن کریں گے ، امام مھدی موعود کے ظہور تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ 
احباب گرامی : یہ اس پچاس سالہ خاکے کا پورا ترجمہ ہے۔ 
اب آپ اپنے ملک کے تمام شہروں اور تمام حکومتی اداروں کے اندرونی حالات کو بغور دیکھیں ، اور خود فیصلہ کرلیں کہ کراچی اور ملک کے دیگر حصوں کے حالات چیخ چیخ کر اس منصوبہ کو کامیابی کے راستہ پر بگٹٹ بھاگتا ہوا دیکھ سکتے ہیں، 
اللہ کریم میرے وطن پاکستان اور تمام عالم اسلام کی ان اسلام دشمنوں سے حفاظت فرمائے آمین یا رب العالمین

Post Top Ad

loading...