تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 11 جنوری، 2016

عالم اسلام کے لئے شیعہ ورلڈ آرڈر پر میرا تجزیہ - تیسیری اور آخری قسط


عالم اسلام کے لئے شیعہ ورلڈ آرڈر پر میرا تجزیہ ! آخری قسط 
تحریر: صاحبزادہ ضیاء
اپنے ورلڈآرڈر میں انہوں نے مسلمانوں کو اور اہل سُنت کو جو شیطان نما مسلمان لکھا ہے ، اس پر زیادہ تبصرہ کی ضرورت نہیں ، فرقہ واریت کو دعوت دینا، علیحدگی پسندی اور دھمکیاں یہ شیعہ مذہب کی روح ہے، انکی دعوت وطنی ، مُلکی بھی ہو ، تو فرقہ واریت کی ہے، یہ تو پھر عقیدہ اور دین کا معاملہ ہے، اس میں ان کی علیحدگی تو انکی فطرت میں داخل ہے، اس ورلڈ آرڈر کے لکھنے والوں نے کہا ہے، ہماری قربانیوں کے خون خشک نہیں ہوئے، اور اس نے اپنے آباء واجداد کی غلطیوں کا اعتراف بھی کیا ہے، اس سے بھی یہ واضح ہوتا ہے ، کہ اہل سُنت اور شیعیت و رافضیت کا اتحاد ناممکن ہے، کیونکہ وہ صرف اپنے مذہب جسکی بنیاد خرافات و خونیات پر مبنی ہے ، اسی کو قبول کرتے ہیں ، یہ کسی سے کیا ہوا کوئی عھد و پیمان پورا نہیں کرتے ، 
اس ورلڈ آرڈر کی اگلی شق ، کہ کامیابی کے لئے مذہبی مجالس قائم کریں ، 
اہل سُنت کو اس اعلان سے خبردار ہونا چاہئے، انہیں اعلانیہ ، بازاروں ، چوراہوں اور گلی کوچوں میں مذہبی شعائر ادا کرنے کی اجازت ہر گز نہ دیں ، کیونکہ اس کے ذریعہ یہ اپنی سیاست کھیل رہے ہیں ، ایک پکڑو دوسرے کا مطالبہ کردو، کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ، اس لئے پہلے ہی انہیں کنٹرول نہ کیا گیا ، تو اس سیلاب کے آگے بند باندھنا مشکل ہو جائے گا، 
اگلی شق ، حکام اور علماء کے درمیان کینہ اور نفرت پیدا کریں گے ، اس پر علماء کرام کی ازحد توجہ کی ضرورت ہے ، اس شق سے انتہائی خبردار رہنے کی ضرورت ہے ، 
محترم علماء کرام :
اہل سُنت کے جن طبقہ سے بھی آپ کا تعلق ہے، باہمی فروعی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اس عظیم فتنہ کے خلاف اتحاد کی رسی کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے حکمرانوں کو انکی سازشوں سے آگاہ کریں ، اور حکمران بھی بلا ٹھوس دلیل علماء کی بات ہر گز نہ مانیں ، تب ہی اس سازش سے بچا جا سکتا ہے، اور شیعوں کی خبیث آرزؤوں اور کینہ پروریوں کو مات دی جاسکتی ہے، وگرنہ یہ اسلام کے سب سے بڑے دشمن اپنی گندی خواہشات کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، (  نعوذ بااللہ ) یہ ہماری دنیا ہمارادین اور ہماری آخرت برباد کرنے کی حتی المقدور کوشش کریں گے، 
اگلی شق ، کہ ہمارے شیعہ مشائخ اپنے دفاع میں لگ جائیں ، اور ولایت فقیہ کا دفاع کریں ، 
اس کا آغاز ان کے شیوخ کر چکے ہیں ، ان کے شیوخ کی سر گرمیاں اس وقت عروج پر پہنچی ہوئی ہیں ، کافی عرصہ قبل سیارہ ڈائجسٹ جو اہل سُنت کا ایک ماہنامہ ہے ، اس میں ان کے ایک مجتھد کا انٹرویو شائع ہوا تھا ، جس میں اس نے بظاہر ملک کے امن وامان اور اسکی حفاظت کرنے اور اندرونی اختلافات ختم کرنے کی بات کی تھی ، لیکن کچھ باتیں اشارةً ایسی کی تھیں جن میں اس کا مکر وفریب کھلم کھلا نظر آرہا تھا ، 
اب بھی میڈیا پر کبھی کبھار اہل سُنت علماء کے ساتھ شیعہ عالم کوئی گفتگو کرتے ہیں ، تو انکا دجل اور فریب کھلم کھلا نظر آرہا ہوتا ہے ، ایرانی انقلاب کے بعد سے یہ اپنی کتب اہل سُنت میں مفت تقسیم کر رہےہیں ، یہ کتب بہت ساری زبانوں میں لندن سے پرنٹ کرواکے ،  لندن میں آنے والے مسلم حکمرانوں ، اور اہم ذمہ داروں ، جو پرائیویٹ یا آفیشل وزٹ پر برطانیہ آتے ہیں ، تک کسی نہ کسی ذریعہ سے پہنچائی جاتی ہیں ، 
ہر راستہ سے یہ اپنی منزل کی طرف پہنچنے کے لئے جد و جھد میں لگے ہوئے ہیں ، 
کہیں ڈراوا ، کہیں مال کا لالچ ، کہیں عیش کا لالچ ، کہیں تحائف ، کہیں ایران کے ثقافتی دورے، 
عرب ممالک کے حکمرانوں اور امراء کی اکثریت چونکہ عیش پسند ہے ، ان کے کنٹرول کے لئے انکا طریقۂ کار مختلف ہے، 
بیروت ، لبنان ، شام ، عراق اور ایران کے عربی بولنے والے علاقوں کی خوبصورت اور کم عمر دوشیزائیں جو فھم و ذکاء اور پر کشش شخصیت ہونے میں نمایاں ہوتی ہیں کو خصو صی تربیت دے کے عرب حکمرانوں اور امراء کے گھروں میں داخل کیا جارہا ہے،  کہیں ملازمت کی آڑ میں ، کہیں تحفہ کی شکل میں ، کہیں شادی کے بہانہ سے، 
یہ خواتین جو حسن و جمال میں بے مثال ہوتی ہیں ، اپنی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ انتہاء درجہ کی چالاک اور مکار ہوتی ہیں ، جس کی بناء پر یہ اپنے شکار کو ایسا جال میں پھنساتی ہیں ، کہ وہ مرتے دم تک ان کے جال سے باھر نہیں نکل سکتا ، لندن میں واقع ایجوئیر روڈ جو امیر ترین عربوں کا تجارتی اور رہائشی مرکز ہے ، وہاں کسی بھی وقت اس تلخ اور مکروہ ترین حقیقت کا نظارہ کیا جاسکتا ہے، 
یہ سب بے حیائیاں نکاح مُتعہ کے پردے میں کرتے ہیں 
رند کے رند رہے ، ہاتھ سے جنت بھی نہ گئی ، کے مصداق زنا بھی کرلیتے ہیں اور اسے ثواب کا پُرکشش نام بھی دے لیتے ہیں ، 
ورلڈ آرڈر کی اگلی شق ، نوجوانوں کو ترغیب دیں کہ نوجوان حکومتی اداروں میں شامل ہوں اور خصوصا فوج میں سلیکٹ ہوں ، اس شق کو بھی انہوں نے عملاً شروع کردیا ہے، بعض ممالک میں فوج میں انکی تعداد تیس فیصد تک اور کئی عرب ممالک کی ائر فورس میں انکی تعداد چالیس فیصد تک بھی پہنچ چکی ہوئ ہے، یہ حقائق ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں ، کہ انکا مناسب سد باب کیا جائے ، وگرنہ سقوط بغداد والی قتل و غارت کا انتظار کریں ، 
تعلیم کےاداروں میں معلم بن کر ، صحت کے اداروں میں ڈاکٹر بن کر ، پھیل رہے ہیں ، پاکستان کا تعلیمی سلسلہ کافی حد تک ان کے ہاتھ میں جا چکا ہے، پرائمری سے لے کے ہائر ایجوکیشن تک اہل سُنت کے بچوں کو یہ متاثر کر رہے ہیں ، ایران سے نرسیں اور ڈاکٹر طبی تعاون کے نام پر عرب ممالک میں پھیل رہے ہیں ، اور یہ ان کے پروگرام کا حصہ ہے، کہ ہم سُنی ممالک میں بگاڑ پیدا کرکے دین الٰہی کا علم لہرائیں گے ، اور غائب کے آنے سے قبل شیعیت کو عام کریں گے، اور نور اسلام سے دنیا کو روشن کریں گے ، اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے ، کہ وحدت المسلمین اور اسلامی اتحاد کا نعرہ ایک فریب ، دجل ، اور مکاری کے سوا کچھ نہیں ، جنکی کتب میں یہ بات واضح لکھی ہے ، کہ غائب آنے کے بعد مکہ اور مدینہ پر قبضہ کرے گا ، حرمین شریفین کو ملیا میٹ کردے گا ، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کو پھانسی پر لٹکائے گا ، عربوں کو بے دریغ قتل کرے گا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ہاتھ پر بیعت کریں گے، 
ایسے عقائد والےلوگ اسلام کے ایسے دشمن ہیں ، جنکی کوئ نظیر پیش نہیں کی جاسکتی، 
آخر میں ، میں علماء عظام و حکام کرام کے لئے اللہ تعالی سے بہتری کی توفیق کا سوال کرتا ہوں ، کہ وہ انہیں ہر خیر اور تقوی کے کاموں میں مدد دے ، تمام ممالک اسلامیہ کے مسلمانوں کو اللہ تعالی ہر شر اور برائی سے محفوظ رکھے ، اور جو بھی اہل سُنت کو رسوا کرنے کا آرزو مند ہے ، اللہ تعالی اسے ذلیل ورسوا کرے ، اور اہل سُنت کی مدد فرمائے ، آمین۔ 
میری یہ آرزو ہے ، کہ میری اس خفیف سی آواز کو اللہ تعالی تمام علماء وحکام تک پہنچائے ، تاکہ سلامتی کی کوئی راہ نکلے ، 
اللہ کی بارگاہ میں یہ بھی دعاء ہے اللہ ہمارے تمام گناہوں کی معافی اور عیوب کی پردہ پوشی فرمائے ، دنیا وآخرت کی رسوائیوں سے بچائے ، اور روز قیامت صحابۂ کرام علیھم الرضوان کی معیت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے ہمارا حشر فرمائے، آمین برحمتک یا ارحم الراحمین 
شیعہ ورلڈ آرڈر کا سلسلہ ختم ہوا ،

Post Top Ad

loading...