تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

اتوار، 10 جنوری، 2016

عالم اسلام کے لئے شیعہ ورلڈ آرڈر پر میرا تجزیہ ! ...دوسری قسط



عالم اسلام کے لئے شیعہ ورلڈ آرڈر پر میرا تجزیہ ! 
دوسری قسط : 
تحریر: صاحبزادہ ضیاء
قدیم لفظ ، امام باڑہ ، جدید لفظ ، امام بارگاہ ، اور عالم عرب میں استعمال ہونے والا لفظ " حسینیات " وہ مقام ہیں ، جن میں شیعہ اکٹھے ہوتے ہیں ، خصوصی طور پہ ماہ محرم اور ان کے دیگر مذہبی ایام میں ، 
یہ وہ مقامات ہیں ، جہاں یہ پیٹتے ہیں ، انکی مذہبی مجالس کا انعقاد ہوتا ہے، ان کے علماء ، ذاکرین ، مجتھدین اپنی تقاریر کرتے ہیں ، انہی مقامات سے محرم میں گھوڑا ، دُلدُل ، ذوالجناح ، جو بھی نام دے لیں برآمد کرتے ہیں ، اور مخصوص مقامات کا چکر لگا کے یہ گھوڑا اگر چھوٹا قصبہ یا گاؤں ہے ، جہاں ایک ہی امام باڑہ ہے تو اسی امام باڑہ پر ، یا اگر اس شھر میں کوئی اور امام باڑہ بھی ہے ، تو وہاں پر آکے اس جلوس کا اختتام ہوتا ہے ، 
جیسے اہل سُنت کے ہاں سب سے مقدس و متبرک مقام مسجد ہوتی ہے ، ان کے ہاں وہ امام باڑہ ہوتا ہے، یہیں پر یہ صحابۂ کرام پر گالی گلوچ کرنا سکھاتے ہیں ، ان کے خطباء وذاکرین اکثر مقامات پر کھلم کھلا صحابۂ کرام پر سب و شتم اور لعنت بھیجتے ہیں ( العیاذ بااللہ ) ایران سے باھر جتنے بھی حسینی مراکز یا امام باڑے ہیں ، یہ اصل میں ان کے جاسوسی مراکز ہیں ، انقلاب کے تھوڑے ہی عرصہ بعد اخبار انقلاب اسلامی میں ابو حسن بنی صدر نے خود اسکی تفاصیل بتائی تھیں ( ابو حسن بنی صدر انقلاب کے بعد اور ایرانی تاریخ کا پہلا صدر تھا ، جسے خود خمینی نے پہلے وزیر خارجہ ، پھر ملک کا صدر بنایا تھا، اور یہ باقاعدہ ووٹ لے کر اور ووٹ بھی معمولی نہیں 78.9 فیصد ووٹ لےکر چار سال کے لئے صدر منتخب ہوا تھا، ایک سال ساڑھے چار ماہ یہ صدر رہا ، ترکی جانے کے بہانے یہ ملک سے نکلا ایرانی سرحد سے باھر نکلتے ہی اس نے پائلٹ کو حکم دیا ، کہ فرانس چلو، پیرس ائر پورٹ پر اترتے ہی سیاسی پناہ طلب کرلی ، اس شخص نے 1981 ہی میں فارسی زبان میں ایک کتاب لکھی ، جس میں ایرانی انقلاب کی حقیقت اور ایران امریکہ گٹھ جوڑ کو آشکارا کیا، اسی کتاب کو 1991 میں انگلش زبان میں چھپوایا گیا ، انگلش میں اسکا نام ہے ( My Turn to Speak : Iran , the Revolution and Secret Deals with the U.S )
جسکا مطلب ہے ، اب میری بولنے کی باری ہے ، ایران اسکا انقلاب اور امریکہ سے خفیہ معاھدے ، 
یہ کتاب پڑھنے کے لائق ہے ، جس شخص نے بھی اس کتاب کو بالغ نظری اور تعصب سے ہٹ کے پڑھا ہے ، اس پر ایرانی انقلاب کی اصل حقیقت آشکارا ہوئی ہے ، اور وہ انقلابِ ایران پر لعنت ونفرین بھیجے بغیر نہیں رہ سکتا، 
عالمی میڈیا پر اس کے بے شمار انٹرویوز موجود ہیں ، انگلش فارسی اور فرنچ میں ) 
اسی اخبار نے خلیج کی تمام ریاستوں میں جاسوسی مراکز کا ذکر کیا، اور حسینیات یا امام باڑوں کو جاسوسی کے سب سے بڑے مراکز قرار دیا، خلیجی ریاستوں میں رہنےوالے ایرانی کاروباری لوگوں سے ان امام باڑوں یا حسینیات میں مال جمع کیا جاتا ہے، جس سے اپنے جاسوسوں کے مالی اخراجات بھی پورے کئے جاتے ہیں ، اور ان مراکز کو بھی مضبوط کیا جاتا ہے، اور یہ خاص طور پر ان علاقوں میں کیا جاتا ہے ، جہاں اہل سُنت کی اکثریت ہے، یہ بعینه ان کےاس پروگرام کے مطابق ہورہا ہے ، جس میں کہا گیا ہے، دوسرے علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والوں کو کام اور تجارت کی سہولتیں دی جائیں تاکہ وہ دلجمعی سے کام کرسکیں ، نیز اسی جمع شدہ رقم سے اہل سُنت کے ان علماء کو جو اپنی کم علمی ، جھالت یا مال اور ایرانی عورتوں سے متعہ کے شوق میں ان کے شکنجے میں پھنس چُکے ہوتے ہیں ، ایران کے ثقافتی دورے کروائےجاتے ہیں ، 
پاکستان ، برطانیہ ، عراق ، اور یورپی ممالک بشمول برطانیہ میں انہوں نے اس کا تجربہ کیا ہے، برطانیہ اور پاکستان کے کئی علماء جو ابھی بھی اہل سُنت کی مساجد میں امام ہیں ، ایرانی دوروں پر جا جا کے درپردہ شیعہ ہوچکے ہیں ، جن میں سے ایک شخص کا پول کچھ عرصہ قبل میں نے کھولا بھی تھا، پاکستان میں فیس بک استعمال کرنے والے تمام مقبول افراد کی فرینڈ لسٹ میں ان کے خاص کارندے موجود ہیں ، جو ان لوگوں یا ان کی فرینڈ لسٹس میں موجود سادہ لوح سُنی افراد کو شکوک و شبہات کے ذریعہ گمراہ کرنےکی کوشش کرنے میں مصروف رہتے ہیں ، 
صرف عراق کے شھر موصل میں گذشتہ کچھ عرصہ میں شیعہ آبادی دس فیصد سے بڑھ کے پچاس فیصد تک ہو چکی ہے، 
عراق کے مشہور قبائل سعدون ، دلیم ، بنو خالد ، جنابی ، جبور وغیرہ جو صدیوں سے سُنی تھے ، اب شیعہ ہو چکے ہیں ، 
حتاکہ سُنیوں کے مرکزی شھر بھی ان کے زیر اثر آچکے ہیں ، ابنار میں انکا مکمل کنٹرول ہوچکا ہے ، عراق کے کئی شھر تو انکا مرکز ثقل بنے ہوئے ہیں ، جسکی وجہ سے یہ وہاں کے صنعتی اداروں پر بھی مکمل قبضہ کر چکے ہیں ، 
ان کےاس ورلڈ آرڈر میں یہ نکتہ ، کہ ارکان سلطنت کو مضبوط کرو، یہ انتہائی خطرناک ہے، یہ انکا سیاسی جوہر ہے ، جسکی وجہ سے یہ حکومتی اراکین کے دل و دماغ پر قابض ہوجاتے ہیں ، 
پاکستان کی ماضی قریب کی سیاسی تاریخ پر اگر نظر دوڑائ جائے تو پاکستانی تاریخ کے مقبول ترین لیڈر مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی شادی بیگم نصرت بھٹو سے کروائی گئی ، جسکا تعلق ایران کے شھر اصفھان سے تھا ، مرحومہ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب ( Daughter of East ) جسکا اردو زبان میں دختر مشرق کے نام سے ترجمہ بھی ہوچکا ہے ، میں صاف اور واضح لکھا ہے ، بچپن میں ایام محرم میں میری والدہ مجھے محرم کی مجالس میں لے کے جایا کرتی تھیں ، وہاں ان ذاکروں کا عورتوں کو رلانا مجھے بہت اچھا لگتا تھا ، مرحومہ بے نظیر بھٹو جب انکی مرضی کے مطابق شیعہ مذہب کو قبول نہ کر سکیں ، تو آصف علی زرداری جو کٹر ترین شیعہ ہے ، اس کے ساتھ اس کی شادی کروادی گئی ، بے نظیر بھٹو کے دونوں ادوار میں اصل حکمران آصف علی زرداری ہی تھا ، اور پھر اس کی شھادت کے بعد آصف علی زرداری کا صدر بننا بھی اسی شیعہ ورلڈ آرڈر کا حصہ تھا ، ان ادوار میں پاکستان میں شیعیت کو جس طرح سہولیات مہیا کی گئیں ، ارباب دانش کی نظروں سے مخفی نہیں ، 
اس وقت کئی عرب ممالک میں اور کسی قدر پاکستان میں بھی کسی حد تک یہ اپنے بہت سارے اھداف حاصل کر چکے ہیں ، تمام سیاسی جماعتوں ، بیوروکریسی ، عدلیہ ، انتظامیہ ، پیرا ملٹری فورسز ، اقتصادی اداروں اسکولوں ، کالجز ، یونیورسٹیز میں یہ اپنے قدم مضبوطی سے جما چُکے ہیں ، اور پاکستانی میڈیا تو مکمل طور پر ان کے قبضہ میں آ چکا ہے، 
انکا سب سے بڑا ہتھیار یہودیوں کی طرح پیسہ اور عورت ہے ، جسے یہ بے دریغ استعمال کرتے ہیں 
ہمارے اصحاب بست وکشاد اس خطرناک سازش سے آگاہ ہو جائیں ، یہ بڑا ہی ہولناک خاکہ ہے، یہ ایک سیڑھی بن چکی ہے ، اور آئندہ اسی سیڑھی کے ذریعہ یہ سارا نظام شیعیت میں بدلنا چاہتے ہیں ، اسکا کامیاب تجربہ وہ عراق اور شام میں کر چکے ہیں ، ایران جو کچھ عرصہ قبل تک سعودی عرب ( لیکن اب نہیں ) کویت ، بحرین ، قطر ، امارات ، عمان ، ترکی ، یمن ، عراق ، افغانستان اور پاکستان کے ساتھ جو مضبوط روابط استوار کرنے کی بات کرتا تھا ، اور کرتا ہے ، یہی اس کی اصل سیاست ہے ، اسے علاقائی امن اور تعاون کی ضرورت نہیں ، یہ اسکا ظاہری اعلان ہے ، اندرون خانہ یہ ان ممالک کی حکومتوں کو مکمل شیعیت کے زیر اثر لانا چاہتا ہے، اور اس میں ایرانی کالجز اور یونیورسٹیاں بھی اپنا کردار مکمل ادا کر رہی ہیں ، جو علوم کے تبادلہ ، ثقافتی اقدار وغیرہ کے بہانے سُنی مسلم ممالک کے طلباء اور اہل علم کو ایران کے دورے کرواتی ہیں ، یہ کبھی کبھی علمی ملاقاتوں کے ذریعہ اہل سُنت کی یونیورسٹیز کے طلباء کے سامنے لیکچرز کے نام پہ شیعیت کا زہریلا پروپیگنڈا کرتے ہیں ، 
کبھی یہ اپنا ہدف حاصل کرنے کے لئےفوجی میدان مشترکہ مشقوں کے بہانے اور علاقہ میں مستقل امن قائم کرنے کے بہانے اپنے مخبر بھیجتےہیں،اور بہانہ یہ ہوتا ہے ، علاقائی حساس معاملات پر مشورہ کرنا ہے، اسی دوران شیعہ اہم حساس راز مسلمان فوجیوں سے حاصل کرتے ہیں ، 
اقتصادی تعلقات کے نام پر بھی یہ اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں ، تجارت میں وسعت ، چھوٹی بڑی کمپنیوں کا قیام ، اہل سُنت کے افراد سے کاروباری شراکت ، یا امپورٹ ایکسپورٹ کے نام پر تجارتی وفود کے تبادلے ، جنہیں وزارت صنعت و تجارت ایران ترتیب دیتی ہے ، یہ بھی اسی ورلڈ آرڈر کا حصہ ہے، 
انہوں نے اپنے خاکے میں جسے میں شیعہ ورلڈ آرڈر کا نام دیتا ہوں ، واضح اور صاف لکھا ہے ، کہ اس پچاس سالہ مدت کو طویل مدت نہ سمجھو۔ 
تیسری قسط کل انشاءاللہ۔

Post Top Ad

loading...