Header Ads

عالم اسلام کے لئے شیعہ ورلڈآرڈر پر میرا تجزیہ۔۔۔پہلی قسط


عالم اسلام کے لئے شیعہ ورلڈآرڈر پر میرا تجزیہ! 
پہلی قسط: 
تحریر: صاحبزادہ ضیاء
شیعہ ورلڈ آرڈر کا خاکہ ایسا ہے ، جس میں جدید مفہوم کے مطابق تحریک برپا کرنے کا اظہار کیا گیا ہے،
اس کا سب سے بڑا اور بنیادی ھدف اہل سُنت کی دعوت کو پھیلنے سے روکنا ہے، 
یہ خاکہ یہ بھی بتا رہاہے، یہ اثنا عشری شیعہ کے لیڈر مذہبی حکومت کی تحریک برپا کرنے کو اپنا اولیں فریضہ تصور کرتے ہیں ، تاہم موجودہ اور عالمی قوانین پر نظر رکھنی ہوگی ، کیونکہ اس تحریک میں تباہ کن خطرات پیش آسکتے ہیں ، 
اصل میں یہ اس ورلڈ آرڈر کا خلاصہ اور نچوڑ ہے، کہ وہ ایسی منظم حکومت کا قیام چاہتے ہیں ، جو اس مذہبی خاکہ کی حفاظت کرے ، اور مال سے نوازے ، مگر اس سے پہلے بقول ان کے دعوت اسلام کو عام کیا جائے، دعوت اسلام سے انکی مراد عقیدۂ امامت کو پھیلاناہے، اور جو اسکا قائل نہ اسے کافر قرار دینا ہے، 
ان کے اس ورلڈ آرڈر کے مطابق ان کی حکومت مذہبی ہے، اور پڑوسی ممالک میں اس تحریک کو برپا کرنے کا طریقہ مذہب اور عقیدہ کے اختلاف کے مطابق اپنایا جائےگا، 
یہ شیعہ کی عدم تمیز ہے، وگرنہ عرب لوگوں نے عراق اور ایران کے علاقوں کو جب فتح کیا تھا ، تو ان علاقوں میں دین اسلام فاتح عربوں ہی کے ذریعہ پہنچا تھا، 
اس ورلڈ آرڈر میں وہابی اور اہل سُنت کو یورپینز وغیرہ سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیا گیا ہے، کیونکہ یہی لوگ شیعہ کی اس تحریک کے خلاف اٹھیں گے، اور انہی کو ولایت فقیہ اور ائمہ معصومین کا اصل دُشمن قرار دیا گیا ہے، 
" ولایت فقیہ کا مطلب "
خمینی اور اس کے پیروکاروں کے مطابق ولایت فقیہ سے مراد امام مھدی ( موہوم امام غائب ) کی نیابت کرنا ہے، 
اسے رہبر کا لقب بھی دیا جاتا ہے ، اسے اتنی طاقت حاصل ہے، کہ ظہور غائب تک ( جو انشاءاللہ قیامت نہیں ہونا) یہ جس حکم کو چاہے معطل کرسکتا ہے، 
اپنے ورلڈ آرڈر میں انہوں جو اسلوب بیان کیا ہے ، وہ انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ اس میں اہل سنت سے عداوت اور مشرق و مغرب کے غیر مُسلموں کی طرف اس میں دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے ، موجودہ ایارنی سیاست کا آپ بغور مشاھدہ کریں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے، کچھ عرصہ قبل ایرانی صدر خاتمی رومن کیتھولک فرقہ کے سربراہ پوپ یوحنا پولس کی ملاقات کے لئے ویٹیکن سٹی میں گیا تھا ، اس نے اس وقت جو بیانات جاری کئے تھے، وہ ان کی اندرونی اور اصل سیاست کی تمہید تھی ، یورپ کے ساتھ انکا طرز عمل کچھ اور طرح ہے، اور اسلامی ممالک کے ساتھ اور طرح کا، 
یہ سُنی اسلامی ممالک میں ہمیشہ اپنے شرکیہ اعمال و افعال کے کاموں پر بضد رہتے ہیں ، اور پوپ سے مل کے خاتمی نے کہا تھا، ہمیں رواداری سے کام لینا چاہئے، کہ یہ حرکت ان کے ورلڈ آرڈر میں بیان کردہ عبارت پر واضح دلیل ہے، کہ وہ کفار سے دوستی اور مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہیں ، جن کا نام انہوں نے وہابی اور سنی رکھا ہوا ہے، اور وجہ اس دشمنی کی یہ بتاتے ہیں ، کہ یہ وہابی اور سُنی ولایت فقیہ کے نظریہ کے مخالف ہیں ، حالانکہ اس نظریہ کا بانی خمینی تھا ، اس سے قبل تاریخ شیعیت میں اس نظریہ کی کوئی مثال نہیں ، 
یہ وہابیوں اور سُنیوں کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتے ہیں اس کی تائید اُن مذاکرات سے بھی ہوتی ہے ، ایران کے ایک بہت بڑے سُنی عالم شیخ محمد بن صالح ضیائی رحمہ اللہ کے درمیان ہوئے تھے جس میں ایرانی لیڈروں نے انکو کہا تھا ، 
" تم جو جامعہ اسلامیہ مدینہ یونیورسٹی میں پڑھائی کے لیے جو طلباء کو بھیج رہے ہو، وہ صدام کی توپوں سے بھی زیادہ ہمارے لئے خطرناک ہیں " 
بعد میں شیخ محمد بن صالح کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے شھید کردیا گیا، 
اسی بناء پر شیعہ نے ایران کے ان سرحدی علاقوں میں جہاں اہل سُنت کی اکثریت تھی ، اپنا اثر ورسوخ بڑہایا، حسینی ماتم اور امام باڑے قائم کئے ، اور اپنی مذہبی مجالس کا قیام زیادہ کیا، اور اسکا فائدہ انکو یہ ہوا ہے کہ ایرانی بلوچستان جہاں چالیس سال قبل اہل سنت کی تعداد اسی فیصد سے زائد تھی ، اب پچاس فیصد کے قریب ہو چکی ہے ، 
تحریک شیعہ کو برپا کرنے کےلئے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ، کویت ، بحرین ، امارات ، یمن ، شام ، عراق ، پاکستان اور افغانستان میں شیعوں پر ہورہی ہے، 
شام ، بحرین اور یمن کے حالات اس پر گواہ ہیں ، 
اگر ایران کی سابقہ تاریخ دیکھیں ، تو ایران میں شیعہ اور سنی برابر برابر تھے، جب شاہ اسماعیل صفوی آیا تو اس کے دور میں سُنیوں کا بہت زیادہ قتل عام کیا گیا، انہیں دوع دراز کے علاقوں میں منتشر کیا گیا، 
اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے ، کہ ایران میں اہل سُنت کی تعداد تیس فیصد کے قریب رہ گئی ہے، 
ایران اس وقت دنیا کے کونے کونے میں شیعیت کو پھیلانے میں مصروف ہے، جہاں شیعہ آبادی زیادہ ہوتی ہے، وہاں انکا طریقۂ کار کچھ اور ہوتا ہے ، اور جہاں اہل سنت کی آبادی زیادہ ہوتی ہے ، وہاں انکا طریقۂ کار اور ہوتا ہے، 
1979 میں پاکستان میں جنرل ضیاءالحق مرحوم نے زکوة وعشر کا قانون بنایا ، شیعہ نے اس قانون کو نامنظور کردیا ، باالآخر شیعوں کو اس قانون سے استثناء مل گیا ، کہ اگر کوئی شخص اپنے آپ کو شیعہ ثابت کردے ، تو اس پر زکوة کا قانون نافذ نہیں ہوگا، یہ مرحوم ضیاءالحق کی اتنی بڑی غلطی تھی ، جسکا خمیازہ اہل سُنت کو ہمیشہ بُھگتنا پڑے گا ، بڑے بڑے جاگیرداروں نے عشر سے بچنے کے لئے حلفیہ بیان لکھ کے دئے کہ ہم شیعہ ہیں ، اور سرمایہ داروں نے شیعہ ہونے کے سرٹیفکیٹ بنکوں میں جمع کروائے ، تاکہ انکی زکوة نہ کاٹی جاسکے ، جو پاکستان میں یکم رمضان کو بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ سے کاٹی جاتی ہے، بینکوں میں حلفیہ بیان دینے کا تو اتنا نقصان نہ ہوا ، کیونکہ یہ ایک خفیہ دستاویز تھی جو بنکوں نے کسی سے شئیر نہ کی، لیکن جن جاگیرداروں نے شیعہ ہونے کے حلفیہ بیان لکھ کے دئے تھے ، ان کو شیعہ لیڈروں نے بلیک میل کیا، مجبوراً انہوں نے اپنے آپ کو شیعہ ثابت کرنے کے لئے اپنے گاؤں دیھات میں اور اپنی جاگیروں پر شیعہ مجالس کا انعقاد کروایا، جس سے ان علاقوں کے غریب مزارع بھی ، چلو ادھر کو جدھر کی ہوا چلے کے مصداق شیعہ بن گئے ، 1980سے قبل پاکستان میں شیعہ کی کل تعداد پونے دو فیصد تھی ، جو رفتہ رفتہ اب چار فیصد تک پہنچ گئی ہے، لیکن حکومتی محکموں میں انکی تعداد بیس فیصد سے زائد اور پاکستانی میڈیا میں پچاس فیصد سے بڑھ چکی ہے ، تجزیہ کی دوسری قسط کل انشاءاللہ
"نوٹ"
اس مضمون کی دوسری قسط سے قبل وہابی کی اصطلاح کی مختصر سی وضاحت کرتا چلوں ، وہابی یا وہابی ازم کی اصطلاح جہلاء اور انگریزی استعمار کے کاسہ لیسوں کی ایجاد ہے، حالانکہ جو شخص اس تحریک کا بانی تھا اسکا نام محمد بن عبد الوھاب تھا ، اصطلاح محمدی ہونی چاہئے تھی نہ کہ وہابی ( حالانکہ وہاب اللہ کا نام ہے ، لیکن برصغیر میں اس لفظ کو جسکی نسبت اللہ کی طرف تھی بطور گالی استعمال کیا گیا، 
سن 1703 میں نجد کے علاقہ العیینہ میں ایک بچہ پیدا ہوا جسکا نام محمد رکھا گیا والد کی نسبت سے محمد بن عبد الوھاب کہلایا، جوان ہونے پر ، بصرہ ، مکہ اور مدینہ میں دینی تعلیم حاصل کی ، فقہی اعتبار سے یہ محمد بن عبدالوھاب امام احمد بن حنبل کے پیروکار تھے ، اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ کی تعلیمات سے بہت متاثر تھے، تعلیم سے فراغت کے بعد 1744 میں اپنے علاقہ میں رسوم جاھلیت اور شرک وبدعات کو ختم کرنے کا بیڑا اٹھایا، پہلے اپنے قبیلہ اور علاقہ سے ابتدا کی ، العیینہ کے امیر عثمان بن معمر نے ان کا ساتھ دیا، اس وقت پورے عرب میں مزارات اور ان پر ہونے والی دیگر خرافات اپنے پورے زور پر تھی ، شرک و بدعات کو ختم کرنے کی کوشش کرنے پر اسی علاقہ کے ایک بہت بڑے قبائلی لیڈر سلیمان بن محمد بن غریر نے عثمان بن معمر کو مجبور کیا ، کہ انکو علاقہ بدر کیا جائے، یہ صورت حال قریبی علاقہ کے ایک قبائلی دین دار سردار محمد بن سعود کو معلوم ہوئی ، اس نے شیخ محمد بن عبد الوھاب کو اپنے گھر بُلایا، ان کی تعلیمات سے آگاہی حاصل کی ، اور انہیں مدد کی یقین دھانی کروائی ، ان دونوں کے درمیان یہ معاھدہ طے پایا، ہم آپ کی گائیڈ لائن کے مطابق اپنے علاقہ میں شریعت کا نفاذ کریں گے، شرعی معاملات میں ہم مداخلت نہیں کریں گے ، اور حکومتی انتظامی معاملات میں آپ مداخلت نہیں کریں گے، 
یہی محمد بن سعود سلطنت المملکۃ السعودیہ العربیہ کے اصل بانی تھے،اور انہی کے نام پر سعودیہ ہے،  شاہ سلمان بن عبد العزیز ان کی  چھٹی پشت کی اولاد ہیں،  یعنی محمد بن سعود شاہ سلمان کے  چھٹے پردادا ہیں ، 1900 کے لگ بھگ عرب کے زیادہ تر علاقوں پر انکا قبضہ ہو چکا تھا لیکن پہلی جنگ عظیم کے بعد جب عثمانی خلافت ختم ہوئی ، تو پورے عرب پر انکا قبضہ مکمل ہو گیا ، موجودہ شاہ سلمان کے والد ملک عبد العزیز نے 1932 میں بادشاہت کی بنیاد رکھی اور پہلے سعودی بادشاہ کہلائے ، ان سے قبل ملک عبد العزیز بن محمد سعود جو اصل بانی محمد بن سعود کے بیٹے اور ابتدائ شکل والی سعودی مملکت کے دوسرے حکمران تھے ، ان کو 1803 میں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے ان کے آبائ قصبےالدرعیہ کی مشہور مسجد الطریف میں عراق کے شھر نجف کے رہنے والےایک شیعہ ہی نے شھید کیا تھا، اس شیعہ نے تیسری صف سے چھلانگ لگا کر پہلی صف میں موجود ، ملک عبد العزیز پر خنجروں کے وار کئے پھر ان کے بھائ عبد اللہ کو زخمی کیا ، انہوں نے زخمی ہونے کے باوجود اس کا مقابلہ کیا ، اور شیعہ کو قتل کر دیا، انکا قصور یہ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے کربلا میں بنے ہوئے جعلی مزارات کو مسمار کیا تھا، اس کے بعد جدید سعودیہ کے بانی ملک عبد العزیز جن کا بیٹا شاہ سلمان اب بادشاہ ہے کو ،  بیت اللہ شریف میں عید الاضحی کے دن طواف افاظہ کرتے ہوئے جو اپنے بڑے بیٹے ولی عھد سعود بن عبد العزیز ، کے ہمراہ تھے  ، پر یمن کے چار شیعوں نے حجر اسود کے قریب حملہ کیا ، جس میں ان کا ایک محافظ احمد بن موسی عُسیری انکو بچاتے ہوئے شھید ہوگیا ، محافظ مشجوع بن شباب، اور عبد اللہ البرجاوی  زخمی ہوئے،
شیعیت کی مملکت سعودیہ سے دشمنی سمجھنے کے لئے یہ دو مثالیں ہی کافی ہیں ، 1744 سے شروع ہونے والی یہ تحریک مختلف ادوار سے گذرتی رہی، لیکن محمد بن عبد الوہاب اور محمد بن سعود کا اتحاد جو الدرعیہ (گاؤں کا نام ) کے بیت السعود میں 271 سال پہلے ہوا تھا ، آج بھی قائم ہے، حکومتی انتظامی معاملات محمد بن سعود کی اولاد کے ہاتھ میں ہیں ، جنہیں آل سعود کہاجاتاہے، مذہبی معاملات محمد بن عبد الوہاب کی اولاد کے ہاتھ میں ہیں جنہیں آل الشیخ کے نام سےپکارا جاتا ہے، وہابی ، وہابی ازم یا وہابیت کی اصطلاح کا اصل مقصود یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ لوگ توحید اور سُنت کے نفاذ اور شرک وبدعت کے خاتمہ کے لئے بہت متشدد ہیں۔
(مضون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں)
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.