Header Ads

ملک کاخطرناک رخ اوراسکاحل


(تحریر:محمدکلیم اللہ ناظوربن شیح الحدیث مولانامحمدحبیب اللہ قاسمی )
الحمدللہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم وعلی آلہ وصحبہ اجمعین،
فلولاکان من القرون من قبلکم اولوبقیۃ ینھون عن الفسادفی الارض الاقلیلاممن انجینامنھم واتبع الذین ظلموامااترفوافیہ وکانوامجرمین۔(سورہ ھود۱۱۶)
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم الرحمون یرحمہم الراحمون تبارک وتعالی ارحموامن فی الارض یرحمکم من فی السماء۔(الحدیث)
آیت شریفہ کاترجمہ:جونسلیں تم سے پہلے گذرچکی ہیں انمیں ایسے صاحب شعورکیوں نہ ہوئے جوملک میں بگاڑپھیلنے سے روکتے؟ہاں ایسے تھوڑے تھے جنکوہم نے بچالیااورجوظالم تھے وہ عیش وآرام کے چکرمیں پڑے رہے جوانکے لئے مہیاکئے گئے تھے اوروہ مجرم تھے۔
حدیث شریف کاترجمہ:رحم کرنے والوں پروہ خدارحم کرتاہے جسکانام ہی رحمن ہے تم اہل زمین پررحم کروتم پروہ رحم کریگاجوآسمان میں ہے۔
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر.
خدامہرباں ہوگاعرش بریں پر
قارئین کرام:آیت شریفہ میں اللہ ارشادفرماتاہے کہ تم سے پہلے کی نسلوں میں ایسے اہل شعورکیوں نہیں رہے کہ جنکے اندراحساس باقی تھاکچھ انکے دلوں پرچوٹ تھی انسانیت کادردانکے دلوں میں باقی تھا۔زمین میں جوفسادپھیل رہاتھاوہ اس سے لوگوں کومنع کرتے۔ہاں تھوڑے سے اس کام کیلئے کھڑے ہوئے جنکوہم نے بچالیاتھاباقی تمام لوگ وقت کے ساتھ ساتھ چلے گئے۔عیش وآرام کے جن وسائل کی کثرت تھی اوربگڑے ہوئے حالات سے استفادہ کرنےکے جوزریں مواقع حاصل تھے ان سے استفادہ کرنے لگے اور بہتی گنگامیں ہاتھ دھوتے رہے۔
حضرات: آپ جانتے ہیں کہ بگڑے ہوئے حالات سے فائدہ اٹھانازیادہ آسان ہوتاہے د وسروں کے گھروں کواجاڑکراپنے گھروں کی تعمیراوردوسروں کی لاشیں بچھاکراپنے مقاصدتک پہنچنے کے مواقع بآسانی مہیاہوجاتے ہیں۔آپ جانتے ہیں کہ انسان کے لئے بیماری کوئی غیرفطری چیزنہیں ہے صحت کاخراب ہوجانااوربیماری میں مبتلاہوجاناانسانی فطرت میں شامل ہے بلکہ یہ ایک طرح سے زندگی کی علامت ہے۔غلطی شجروحجرپیڑ پودے وغیرہ نہیں کرسکتے غلطی توصرف انسان کرتاہے اس لئے انسان سے غلطی ہوجاناپریشانی کی بات نہیں اورنہ ہی اس پرمایوس ہونے کی ضرورت ہے۔انسان کی ایک بڑی جماعت کااپنی خواہشات اوربیکارمقاصدکومکمل کرنے کے لئے کسی غلط راستہ پرپڑجاناحیرت کی بات نہیں ہے بلکہ حیرت کی بات تویہ ہے کہ بگڑے ہوئے حالات سے لڑنے،فسادپیداکرنے والی طاقتوں سے آنکھ ملانے،اپنے عزت ووقاراوراپنے عیش وآرام کوخطرہ میں ڈال کرمیدان میں اترنے والے ایسے وقت میں نایاب ہوجائیں یہ حیرت کی بات ہے۔کسی سماج یامعاشرہ کے لئے سب سے بڑاخطرہ یہی ہے کہ اسکے اندرظلم کوناپسندکرنیوالے بہت کم ہوں اتنے کم ہوں کہ انگلیوں پربھی نہ گنے جاسکتے ہوں پورے سماج میں چندآدمی بھی ایسے نہ ہوں جواس ظلم کو،کمزوروں پردست درازی کو،اس قساوت اورسنگدلی کوناپسندکرتے ہوں اوراپنی اس ناپسندیدگی کاعلانیہ طورپراعلان کرتے ہوں۔آپکوگھربیٹھ کرظلم کوناپسند کرنے والے بہت مل جائینگے کہ ہم اس ظلم کواس سفاکی کوناپسند کرتے ہیں لیکن علانیہ طورپراعلان کرنے والے بہت کم ملیں گے۔ایسے افراد کی جب کسی معاشرہ میں کمی ہوجاتی ہے توپھراس سماج اور معاشرہ کودنیاکی کوئی طاقت نہیں بچاسکتی۔جب کسی معاشرہ میں ظلم عروج پرہواوراس ظلم کوپسندیدہ نگاہوں سے دیکھاجانے لگا ہواورجب ظلم کایہ معیاربن گیاہوکہ ظالم کون ہے،ظالم کس قوم کاہے،ظالم کی زبان کیا ہے،ظالم کافرقہ کیاہے،ظالم کی برادری کیا ہے،جب ایسادورآجائے کہ ماں باپ اپنے بچوں کودیکھ کرخوش نہ ہوتے ہوں،بچے ہنستے ہوئے آتے ہوں اورماں باپ کی آنکھوں میں انکودیکھ کرآنسوآجاتے ہوں کہ کل معلوم نہیں ان بچوں کاکیاحشرہوگا،کب ان بچوں کوماں باپ کے سامنے چیرپھاڑکررکھ دیاجائیگا،جب لوگ اپنے بچوں،نواسوں،پوتوں،پوتیوں اورباپردہ خواتین جن پرکبھی کسی کا سایہ نہ پڑاہوانکودیکھ کریہ خطرہ محسوس کرنےلگیں کہ کب انکی عزت خاک میں ملا دی جائے،کب جنون کاایک دورہ آئے اوردیوانگی کاایک ایساابال آئے کہ اسکے بعدشریف عورت شریف نہ رہے،معصوم بچے معصوم نہ رہیں،نہ یتیم کویتیم سمجھاجائے،نہ کسی بے کس پررحم کیاجائے،نہ بیوہ پرترس کھایاجائے تواس وقت انسانیت کے لئے ایک عظیم خطرہ پیداہوجاتاہے۔جب انسانوں کواس طرح خانوں میں بانٹاجانے لگے،اورظالم کی قومیت بھی دیکھی جانے لگے،اسکامذہب بھی پوچھاجانے لگے ۔جب لوگ کسی فسادکی خبرسنیں یادیکھیں توسب سے پہلے انکی نگاہیں یہ تلاش کریں کہ ظالم کس فرقہ سے تعلق رکھتاہے،اس فسادمیں کس کونقصان پہنچاہے؟تواسوقت معاشرہ اورسماج کوکوئی طاقت، کوئی ذہانت ،کوئی سرمایہ اوربڑے بڑے منصوبے نہیں بچاسکتے ہیں۔
محترم قارئین:اسلام سے قبل زمانہ جاہلیت میں عربوں کے یہاں ایک مقولہ تھاکہ اپنے بھائی کی مددکروچاہے وہ ظالم ہویامظلوم۔پھراسلام آیااوراسلام نے بھی اسی کی تعلیم دی۔ایک مرتبہ رسول اکرمﷺ نے ایک مجلس میں ارشادفرمایاکہ اپنے بھائی کی مددکروچاہے وہ ظالم ہویامظلوم۔آپﷺنے صحابہ کی جوتربیت کی تھی اورانکاجوذہن بنایاتھاوہ اس بات کوہضم نہ کرسکااورصحابہ نے عرض کیا(ننصرہ مظلومافکیف ننصرہ ظالما)کہ ہم مظلوم کی مددتوکریں لیکن ظالم کی مددکیسے کریں۔
نبیﷺکی یہ اخلاقی تربیت اوراسکی کامیابی کاآخری نمونہ ہے۔دنیاکی تاریخ میں ایسی تربیت کی مثال ملنی مشکل ہے کہ ایک طرف صحابہ اطاعت وفرمانبرداریکابے مثال نمونہ تھے وہ آپﷺپرجان نچھاورکرتے تھے اورہربات پرسمعناواطعناکہتے تھے اوریہ بھی معلوم نہ کرتے تھے کہ ہماراانجام کیاہوگا۔صحابہ پروانوں کی طرح تھےکہ جس طرح پروانے شمع پرگرتے ہیں اورجان دیدیتے ہیں اورانجام نہیں سوچتے۔صحابہ کرام ایسے تھے کہ رسول ﷺکی زبان سے جوالفاظ نکلتے تھے ان پرغوروفکرکی ضرورت بھی نہیں سمجھتے تھے۔لیکن اس وقت انکے اندرانقلاب آچکاتھا،معاشرہ کوایسامضبوط اوربلندمقام پراٹھالیاگیاتھاکہ جب آپﷺنے فرمایااپنے بھائی کی مددکروخواہ وہ ظالم ہویامظلوم توفوراََ صحابہ کرام تڑپ اٹھے اورپور ے ا دب واحترام سے عرض کیایارسول اللہ آپ نے ہمیں یہ تعلیم دی تھی کہ ہم مظلوم کی مددکریں اورظالم کاساتھ نہ دیں توکیاہم اپنے کانوں پرشک کریں کہ شایدہمارے کانوں نے صحیح نہ سناہوا۔آپ فرمائیں کہ ظالم کی مددکیسے کی جاتی ہے؟آپﷺنے فرمایاہاں ظالم کی بھی مددکی جاتی ہے،مظلوم کی مددتویہ ہے کہ اس پرظلم نہ ہونے دیاجائے اورظالم کی مددیہ ہے کہ اسکوظلم سے روکاجائے وہ جب ظلم کرے تواسکاہاتھ پکڑلیاجائے۔
قارئین کرام:اگرہمارے معاشرہ میں یہ اخلاقی تعلیم ،جرأت مندی،اورخلوص کی یہ طاقت ہے تومعاشرہ بچ سکتاہے ورنہ معاشرہ کودنیاکی کوئی طاقت نہیں بچاسکتی۔آج ہمارے ملک میں اس چیزکی کمی نظرآتی ہے جسکی وجہ سے اس معاشرہ کوایک بہت بڑاخطرہ لاحق ہوگیاہے۔لیکن یہ ڈرنے کی بات نہیں ہے دراصل ڈرنے کی بات یہ ہے کہ اس دورے کودورکرنے والے آدمی کوپھرآدمیت کی حدود میں لانے، اورآدمی کوآدمی بنانے،آدمی کوظلم سےاورخونریزی سے ڈرانے،اورانسان کوانسان بنانے،اورانسان کے دل میں انسان کی محبت پیداکرنے،اورملک کی سچی خیرخواہی اورحب الوطنی،اوراپنے ملک کی سچی محبت پیداکرنے کی تعلیم دینے کے لئے کوئی پارٹی اورکوئی جماعت کھڑی نہ ہویہ ڈرنے کی بات ہے۔ایک آدمی جس نے آسمانی کتابیں پڑھی،اورجسکی مذاہب کی تعلیمات پربھی نظرہو،جس نے بزرگان دین اوراپنے علماء کے ملفوظات اورانکی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ پڑھے ہوں وہ جانتاہے کہ یہ دورے توپڑتے رہتے ہیں۔ظلم پرستی کادورہ پڑگیا،دولت پرستی کادورہ پڑگیا،خواہشات نفس کوپوراکرنے کادورہ پڑگیا،ظلم سے لطف اٹھانے کادورہ پڑگیا،جنکوجائزتفریحات اورجائزکاموں میں وہ مزہ نہیں آتاجوآدمی کاخون بہانےمیں آتاہے۔یہ ایک بیماری ہے،انسانیت کی آخری حدتک کی گراوٹ ہے،اوربالکل نیچےدرجے کی ذلت ہے لیکن انسان اسکا شکارہوتاہے اورہواہے۔لیکن یہ سب تاریخ کی نذرہوگیا،یہ تاریخ کے علاوہ کی کتابوں میں نہیں ملے گا۔اورپھراچانک ایسارخ تبدیل ہوااورروحانیت کاایساجھونکاآیا،اورقربانی دینے کاایساجذبہ پیداہواکہ لوگوں نے اپنی جانوں کی پرواہ نہیں کی،اپنی عزتوں کی پرواہ نہیں کی،اپنے عہدوں کی پرواہ نہیں کی،اپنی صحت اوراپنی زندگی کی پرواہ نہیں کی،وہ انسان جوبالکل عقل گم کرچکاتھا،جسکے منہ کوخون لگ گیاتھا،اسکوکھانے میں وہ مزہ نہیں آتاتھاجوانسان کاخون بہانے میں آتاتھا،وہ انسانیت کامحافظ بن گیا،جورہزن اورحملہ آورتھاوہ پاسبان اورچوکیداربن گیا،جوقاتل تھاوہ معالج اورتیمارداربن گیا۔
محترم قارئین:موجودہ حالات کے پیش نظرمایوس ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ ہمارے سماج ومعاشرہ کواس وقت جوسب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی پیشوا،مذہبی انسان میدان میں آئیں۔ہماری دانش گاہوں اوردرسگاہوں سے ایسے افرادنکلیں جوہمارے معاشرہ کوبچاسکیں ورنہ ڈراس بات کاہے آئندہ مؤرخ جب اس معاشرہ کی تاریخ لکھے گاجسمیں ہم اورآپ سانس لے رہے ہیں توکہیں یہ نہ لکھ دے کی یہ حادثات اس وقت پیش آئے جب ملک کے اندردارالعلوم موجودتھا،ندوۃ العلماء موجودتھا،مظاہرعلوم موجودتھا،مسلم یونیورسٹیاں موجودتھیں،انکی موجودگی بلکہ انکی دیوارکے سائے میں یہ سب کچھ ہورہاتھا۔
حضرات:اسوقت ضرورت ہے کہ ہم سب میدان میں آئیں اوراس معاشرے کی بگڑی ہوئی حالت کا،اس بے اصولی وبددیانتی کا،رشوت خوری وذخیرہ اندوزی کااورسب سے بڑھ کراس ظلم وسفاکی کاجوپہاڑمعاشرہ پرٹوٹاہواہے،اورہماراملک تباہی وبربادی کے جس رخ اورموڈپرجارہاہے اسکا راستہ روک کرکھڑے ہوجائیں ۔اورہاتھ پکڑکرکہیں کہ اس ملک کی عزت بچالو،اس ملک کی شہرت پرآنچ نہ آنے دو،آدمی بن کررہو،ایک دوسرے سے محبت کرو،آدمی آدمی کودیکھے اوراسکوپہچانے اورامیدرکھے کہ اگرہم پرکوئی آفت آئیگی تویہ بچائینگے ۔اسی کانام زندگی ہے،اسی کانام تہذیب ہے،اسی کانام تمدن ہے،اسی کانام حب الوطنی ہے،اوراسی کانام سیاست بھی ہے ا ورسیاست بھی یہی کہ سب مل جل کررہیں۔
محترم قارئین:ہمارے ملک میں اس وقت جنون کاجودورہ پڑاہے یہ دورہ عارضی ہے یہ دورہ ختم ہوجائیگامگراسکوختم کرنے کے لئے علاج معالجہ کی ضرورت ہے،ہمدردوں کی ضرورت ہے،ایسے دل رکھنے والوں کی ضرورت ہے جواپنے گھروں سے نکل آئیں اوراسکا خیال بھی نہ کریں کہ ہم کیاکھائیں گے،کیاپئیں گے اوردیوانے بن کراس ملک میں پھریں،عوام کوجمع کریں اورملک کے نام پر،انسانیت کے نام پر،عدل وانصاف کے نام پر،خداکے خوف اوراسکی پہچان کے نام پران سے ملیں اوراپیل ودرخواست کریں کہ اب اس لڑائی کوختم کرو،ٹھنڈے ہوجاؤ،معاشرے کے اندرکوتعمیری کام ہیں،ترقی کے کام ہیں،ملک کوبنانے والے کام ہیں،ملک کی عزت بڑھانے والے جو کام ہیں وہ کام کرو۔یہ ملک بہت بدنام ہوچکاہے دنیاکی نظروں میں گرچکاہے ،اس ملک پرکبھی ایسادھبہ نہیں آیااورنہ یہ ملک باہر کی دنیامیں ایسی نظرسے دیکھاگیاہے جیساکہ آج کل دیکھاجارہاہے۔
حضرات:اسمیں ہم سب شریک ہیں خواہ وہ ہندوہوں یامسلم،سکھ ہویاعیسائی،اس لئےکہ ہم ہندوستانی ہیں اورہندوستان ہمیں عزیزہے اوران شاء اللہ عزیزرہیگا،یہاں کی آب وہوا،یہاں کی تاریخ،یہاں کی تہذیب،یہاں کاتمدن ہمیں عزیز ہے اورعزیزرہیگا۔مسلمانوں نے اپناملک نہیں چھوڑاورنہ وہ کہیں بھی جاسکتے تھے انکے لئے بہت سی جگہیں تھیں،لیکن ان سے اپناوطن چھوڑانہیں گیااورنہ ہی چھوڑاجائیگا۔اسکے لئے ہم سب ہمت سے کام لیں ،حوصلہ سے کام لیں،تنظیموں سے کام لیں،حکومتیں اپنافرض انجام دیں،پولیس اپنا فرض انجام دے توان شاء اللہ یہ ملک بھی سدھریگااوردنیاکے سامنے ہمارے اس ملک کی وہی شان وشوکت ہوگی جوپہلے ہواکرتی تھی اوراس بگڑے ہوئے سماج اورمعاشرے کی اصلاح بھی ہوگی اوراسکاسدھاربھی ہوگا۔
قارئین کرام:آج ہم لوگوں کے اندرسے انسانیت ختم ہوگئی ہے ہم انسان توہیں لیکن ہمارے اندرانسانیت نہیں ہے ۔انسانیت کامفہوم مطلب یہ ہے کہ اگرکسی انسان کاخون بہے تواسکی وجہ سے ہمارابھی دل تڑپے،ہمیں بھی اسکادرد محسوس ہو،کوئی بھوکاہوتواسکی بھوک کی شدت کااحساس ہمیں بھی ہو،کسی پرظلم ہورہاہوتواسکااحساس ہمیں بھی ہواورہم اسکوروکنے کی کوشش کریں یہ انسانیت ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہم سب کے اندرانسانیت پیدافرمائے اوراس ملک میں امن وامان کے ساتھ رہنے اوراس بگڑےہوئے معاشرے کی اصلاح کی توفیق مرحمت فرمائے۔آمین


تحریر: محمدکلیم اللہ بن شیخ الحدیث مولانامحمدحبیب اللہ قاسمی
ای میل: Kalimmalik19@gmail.com




مضمون نگار کی رائے سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔۔
شائع کردہ مواد صرف لنک کی صورت میں شیئر کرنے کی اجازت ہے۔
اعظمی گروپ
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.