تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعہ، 1 جنوری، 2016

سیرۃالنبیﷺ | قسط نمبر23


اولاد مصطفٰےﷺ
نبی کریمﷺ کی ازواج مطہرات میں سےحضرت خدیجہ کویہ فضیلت حاصل ہےکہ آنحضرتﷺ کی چھ اولادیں دوبیٹے اور چاربیٹیاں حضرت خدیجہ کےبطن سے ہوئیں۔ ایک بیٹےحضرت ماریہ قبطیہ کےبطن سےہوئے۔ آنحضرتﷺ کی اولاد کی تعداد سات ہے۔ آنحضرتﷺ کےپہلے بیٹےکانام قاسم تھا جوکہ شادی کےدوسرےسال پیدا ہوئے، ان کی نسبت سےہی آپﷺ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ یہ بیٹے آپﷺ کوبہت محبوب تھے۔ یہ پاؤں پاؤں چلنےلگے تھےکہ فرشتہ اجل نے آپﷺ سےان کوچھین لیا۔ نبی پاکﷺ کی اولاد میں حضرت قاسم سب سے پہلے پیدا ہوئے اور سب سےپہلے فوت ہوئے۔
ستم ظریفی کی بات یہ ہےکہ آج کل مسلمانوں کی اولادوں کوفلمی ایکٹروں اور ایکٹرسوں کےناموں کےعلاوہ ان کےشجرہ نسب تک زبانی یاد ہوتے ہیں، مختلف ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے مشکل ترین نام روانی سےیاد ہیں لیکن امت کےتاجدار، نبیوں کےسردار آقائے نامدارﷺ کےبچوں کےنام یاد نہیں۔ گھروں میں اپنے بچوں اور بچیوں کو رسالت ماٰبﷺ کے بچوں کےنام یاد کروائیں۔
حضوراکرمﷺ کے بیٹوں کےنام حضرت قاسم، حضرت عبداللہ، حضرت ابراہیم اور بیٹیوں کےنام حضرت زینب، حضرت رقیہ، حضرت ام کلثوم، حضرت فاطمۃ الزھراء رضوان اللہ علیھم اجمعین۔
آپﷺ کےدوسرے بیٹےعبداللہ بعثت کےبعد پیدا ہوئے عبداللہ کےالقاب طیب وطاہر تھے۔ یہ صاحبزادے بھی بچپن میں انتقال کرگئےتھے۔ آپﷺ کےتیسرے بیٹے ابراہیم حضرت ماریہ قبطیہ کے بطن سے ہوئے ان کا انتقال بھی بچپن میں ہوگیاتھا یہ آپﷺ کی گود میں تھےکہ پیغام اجل آگیا۔ آپﷺ کی آنکھوں میں آنسوں آگئے۔ حضرت عبدالرحمان بن عوف نےیہ منظردیکھا توفرمایاحضورﷺ آپ بھی روتے ہیں؟ فرمایا ہاں میری آنکھیں روتی ہیں لیکن دل میں ایسی کوئی بات نہیں۔

پیاری بیٹی زینب۔۔۔
آنحضرتﷺ کی بیٹیوں میں سب سے پہلے حضرت زینب پیدا ہوئیں اور اپنی والدہ کےساتھ ایمان لائیں۔ ان کی شادی خالہ زاد بھائی ابوالعاص سےہوئی۔ ابوالعاص حضرت خدیجہ کےبھانجےتھے۔ سرکار دوعالمﷺ ابوالعاص سےبیحد خوش تھے کیوں کہ انہوں نےکفارکے کہنے کےباوجود طلاق دینےسےانکار کردیاتھا۔ جنگ بدر میں یہ کفارکےساتھ شریک ہوئےتھے۔ لشکراسلامی کی زبردست کامیابی میں دیگرکفار کےساتھ گرفتار ہوئے۔ حضرت زینب اس وقت مکہ میں تھیں۔ ابوالعاص کی رہائی کیلئے حضرت زینب نے فدیہ میں وہ ہار بھیجا جوحضرت خدیجہ نے اپنی بیٹی کوجہیز میں دیاتھا۔ سرکار دوجہاںﷺ نے یہ ہار دیکھا تو آنکھوں میں آنسو آگئے۔ صحابہ نے یہ رقت انگیز منظردیکھاتو ماں کی نشانی کولوٹادیا اور ابوالعاص کوبھی رہاکردیا۔ آنحضرتﷺ نے ابوالعاص سےکہاکہ میری بیٹی زینب کومکہ سے بھیج دینا۔ نبی کریم کی صاحبزادی مکہ سے روانہ ہوئیں توکفار مزاحم ہوئے۔ ایک بدبخت نے حضرت زینب کےاونٹ کونیزہ مارا۔ آپ امید سےتھیں اونٹ سےنیچے گریں اورحمل ساقط ہوگیا۔ حضورﷺ فرمایاکرتےتھے کہ میری اس بیٹی نے راہ خدا میں بڑی تکلیفیں اٹھائی ہیں۔ ابوالعاص ایک تجارتی قافلہ میں گرفتار ہوئے بعدازاں اسلام قبول کرکےحلقہ رسالت میں شامل ہوگئے۔ حضرت زینب کاانتقال ہوا تو انہیں یہ اعزاز نصیب ہواکہ حضورسرور کائناتﷺ نےاپنی پیاری بیٹی کودفن کرنےکیلئے اپنا تہہ بند عطافرمایا۔

حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم۔۔۔
حضرت رقیہ آنحضرتﷺ کی دوسری اور حضرت ام کلثوم تیسری بیٹی تھیں۔ بعثت سےپہلے حضرت رقیہ کانکاح ابولہب کےبیٹے عتبہ کےساتھ اور حضرت ام کلثوم کانکاح ابولہب کےدوسرے عتیبہ کےساتھ ہواتھا۔ دونو کی رخصتی باقی تھی کہ آنحضرتﷺ نے اعلان نبوت فرمایا تو آپﷺ کاسگا چچاابولہب ایسا دشمن ہوا کہ دشمنی کاپہلا پتھر اسی نےمارا۔ دونوں بیٹوں کوابولہب اور اسکی بیوی نےکہاکہ اگر تم ہمارےبیٹے ہوتومحمد کی بچیوں کوطلاق دیدو۔ چنانچہ عتبہ نےتوفوراً طلاق دیدی مگر عتیبہ نےبھری محفل میں جاکر آنحضرتﷺ کے سامنے آپﷺ کی صاحبزادی کوطلاق دی اورآپﷺ کےساتھ بدتمیزی کرنےکی کوشش کی۔ رحمت للعالمینﷺ کااتنادل دکھاکہ عتیبہ کےلئے بددعا کی کہ اے میرے اللہ اس نے تیرے نبی کادل دکھایاہے۔ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مسلط فرما۔ کہتےہیں کہ ابولہب اپنے اس بیٹےکےساتھ شام کےتجارتی سفرپرگیا۔ راستے میں ایک جگہ پڑاؤ کرناپڑا۔ شام ہوتے ہی ایک شیر آیا۔ اس نےقافلےکے گردچکرلگایا گویا ابولہب کےبیٹےکی شناخت پریڈ ہوئی۔ رات کوسب لوگوں نےسامان کاڈھیربنایا اس کے اوپر عتیبہ کوسلادیا۔اطراف حلقہ بناکر تمام لوگ اس کی حفاظت کرنےلگے۔جب قافلہ سوگیاتو شیر آیا۔ اس نےکسی کوگزند نہیں پہنچایا۔ اس نےایک چھلانگ لگائی اور سیدھا عتیبہ پرجاپڑا اور اسے چیرپھاڑ دیا۔ اس طرح سرکاردوعالمﷺ کی پیشین گوئی پوری ہوئی۔ بعد ازان حضرت رقیہ کانکاح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سےہوا۔ دونوں اس قدر خوش شکل تھے کہ یہ جوڑی چندے آفتاب چندےماہتاب تھی۔ حضرت رقیہ راہی عدم ہوئیں تو آنحضرت نےاپنی تیسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم کانکاح بھی حضرت عثمان سےکردیا۔اس طرح نوررسالت کی دو شمعیں خانہ عثمان میں فروزاں ہوئیں۔

حضرت فاطمۃالزھرا۔۔۔
آپﷺ کی چوتھی بیٹی حضرت فاطمۃالزھرا تھیں حضرت فاطمۃ الزھرا کانکاح حضرت علی المرتضٰی رضی اللہ عنہ سے ہوا۔
(جاری ہے)
مضمون نگار: مولانا ابو بکر صدیق

امام جامع مسجد طیبہ، کورنگی کراچی

Post Top Ad

loading...