تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

منگل، 29 دسمبر، 2015

سیرۃالنبیﷺ | قسط نمبر 22


تمناکی کلی۔۔
پاکدامن، باعزت اوردولت مند خاتون کو عرب قبیلوں کے سرداروں اور رئیسوں نے نکاح کےپیغام بھیج رکھےتھے۔ لیکن اس باحیاء خاتون نےحوادث زندگی کےباعث ان تمام کوجواب دیدیاتھا۔ سیرۃ کی کتابوں میں پیغام نکاح کےمتعلق دوروایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت خدیجہ نے اپنی سہیلی جن کا نام نفیسہ تھا کے ہاتھ پیغام نکاح بھیجا نفیسہ آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضرہوئیں آپﷺ کی عمر اس وقت 25 سال تھی اور باتوں باتوں میں کہا کہ آپﷺ شادی کیوں نہیں کرلیتے؟ جناب رسالت ماٰبﷺ نے فرمایا مجھ یتیم سےکون شادی کرےگا میرے پاس رکھا ہی کیا ہے۔ نفیسہ نےکہا حضورﷺ ہاں کرنا آپ کاکام ہے اس کابندوبست کرنا میرا کام ہے۔ اگرحسن وجمال بھی ہواورزرومال بھی ہوتوکیاآپﷺ قبول فرمائیں گے؟سرکاردوجہاںﷺ حیرانی سےپوچھا وہ کون؟ نفیسہ نےعرض کی کہ خدیجہ بنت خویلد! آپﷺ نےفرمایا کہ وہ مجھ سےکیوں کرنکاح کریں گی عرض کی آقا گوہر نےگوہر کوپہچان لیاہے۔
دوسری روایت یہ ہے کہ حضرت خدیجہ نے خود ہی نکاح کا پیغام آپﷺ کودیا حضرت خدیجہ نے آمنہ کے دریتیمﷺ کوجوپیغام بھیجا اس کےالفاظ کچھ یوں تھے۔ 
"اےفرزندعم سابقہ قرابت، قومی اعزاز، امانت داری، خوش اخلاقی اور راست گوئی کی وجہ سےمیں آپﷺ سےعقد کرنےکی خواہشمند ہوں"
یہ وہ پس منظر تھا جس کی بدولت آپﷺ کانکاح حضرت خدیجہ سےہوا۔ حضرت خدیجہ کاحق مہر مختلف روایات کے مطابق 20 اونٹ، 400 دینار، 500 درہم تھا۔
آنحضرتﷺ کایہ پہلانکاح تھا۔ جبکہ حضرت خدیجہ کاتیسرا نکاح تھا۔ پہلے خاوند کےانتقال کےبعد حضرت خدیجہ کادوسرا نکاح عتیق بن عایز سےہوا جن سے ایک لڑکا ہند تھا جن سے حضرت خدیجہ کی کنیت "ام ھند" تھی۔ ھندسرکاردوعالمﷺ پرایمان لائے وہ نہایت فصیح وبلیغ شاعرتھے۔ سیرت کی کتابوں میں حضرت ھند کی روایت سےآنحضرتﷺ کاحلیہ مبارک بیان ہوا ہےجو کہ اپنی مثال آپ ہے۔ حضرت ھند حضرت علی کے ساتھ جنگ جمل میں شریک ہوئے اورشہادت پائی۔

منفرد رفیقہ حیات۔۔
دوسرے شوہرکے انتقال کے بعد اورحوادث زندگی نےحضرت خدیجہ کودل برداشتہ کردیاتھا۔ برسوں بعد آنحضرتﷺ حضرت خدیجہ کےآنگن میں رحمت وبرکت اورمحبت والفت کا جھونکا بن کرآئے۔ آقائے نامدارﷺ کےحرم میں حضرت خدیجہ کودیگر ازواج مطہرات میں مثالی مقام حاصل رہا۔ حضور اکرمﷺ اور حضرت خدیجہ کوآپس میں بےانتہاء محبت تھی۔ بظاہر یہ کوئی جوڑ نہ تھا۔ ایک طرف مکہ کی مالدار خاتون تھی اوردوسری طرف آمنہ کادر یتیم تھا۔ ایک طرف ایسی عورت تھی جس کاشباب ماند پڑچکاتھا، دوسری طرف قریشی نوجوان تھا جس کاشباب اٹھتا ہواآفتاب تھا، جس کی جوانی پھیلی ہوئی چاندنی تھی، ادھر ایک ستم رسیدہ بیوہ تھی،، دوسری طرف شبنم سے زیادہ پاک ، پھول سےزیادہ لطیف اورخوشبوسے زیادہ معطر انسان تھا۔ یہ درحقیقت خدائی فیصلہ تھا۔

شان خدیجہ۔۔۔
سرکار دوعالمﷺ نےارشاد فرمایا "خٓـیْرُ نِسٓـائِھٓامٓـرْیٓمٓ وٓ خٓـیْرُ نِسٓـائِھٓـاخُدٓیْـجٓةْ" اپنےزمانے کی بہترین عورت مریم تھی اور اس زمانے کی بہترین عورت خدیجہ ہیں۔
حضرت خدیجہ کوکئی بناء پردیگر ازواج مطہرات میں انفرادیت حاصل تھی۔
*حضرت خدیجہ جب تک زندہ رہیں آپﷺ نے ان کی حیات میں دوسرا نکاح نہیں کیا۔
*جناب رسالت ماٰبﷺ کی حضرت خدیجہ سے ازدواجی رفاقت کی مدت پندرہ برس ہے۔ باہمی محبت ویگانگت کایہ طویل عرصہ حضورانورﷺ کی کسی اورزوجہ کونصیب نہیں ہو۔
*رحمت دوعالمﷺ کی تمام اولاد حضرت خدیجہ سے ہوئی اورزندہ رہی سوائے حضرت ابراہیم کے کہ وہ ماریہ قبطیہ کےبطن سے ہوئے۔
*حضرت خدیجہ نے اپنےعظیم خاوند کےسرپر تاج نبوت کاسب سے پہلے نظارہ کیا۔
*ازواج مطہرات میں حضرت خدیجہ کویہ فضیلت حاصل ہے کہ انہوں نےاپنےشوہر کی عظمت اوردین اسلام کی سربلندی کےلئے اپنی دولت پیغمبر اسلام کے قدموں میں ڈھیر کردی۔
(جاری ہے)





مضمون نگار: مولانا ابو بکر صدیق

امام جامع مسجد طیبہ، کورنگی کراچی

Post Top Ad

loading...