Header Ads

سیرۃ النبیﷺ | قسط نمبر21



رقت انگیزمنظر۔۔۔
سرورانبیا علیہ الصلوٰۃ والسلام اورحضرت خدیجہ کےدرمیان تجارتی شرائط طےپاگئیں۔ آخرتجارتی قافلے کی روانگی کاوقت آگیا۔ آنحضرتﷺ کایہ پہلا تجارتی سفرتھا جوکہ آپﷺ اپنے چچاابوطالب کےبغیر کررہےتھے۔ اس لئے تمام عزیزواقارب آپﷺ کوالوداع کہنے کےلئے موجود تھے۔ حضرت ابوطالب نےاپنے پیارے بھتیجے کو جی بھرکر پیارکیا، پیشانی کوچوما، خالاؤں نے بلائیں لیں، چچیوں نے دعائیں دیں۔ یہ منظربڑا رقت آمیزتھا۔ جوں ہی آپﷺ کاقافلہ چلا اشکوں کےپیمانے لبریز ہوکر بہنے لگے۔ تجارتی قافلےمیں حضرت خدیجہ کاغلام "میسرہ" بھی تھا جس کےذمہ یہ ڈیوٹی تھی کہ راستے بھرآپﷺ کی خدمت کرے اورہرطرح سے آپﷺ کاخیال رکھے۔

درخت سرسبز ہوگیا۔۔۔
شاہ کونینﷺ کاتجارتی قافلہ مختلف منزلیں طے کرتاہوا بصرہ پہنچا۔ نبی پاکﷺ ایک سوکھے درخت کےنیچے تشریف فرما ہوئے۔ قریب ہی ایک نسطورا نامی راہب کی خانقاہ تھی۔ اسنے دیکھاکہ آپﷺ کےبیٹھتے ہی درخت کی سوکھی شاخیں ہری بھری ہونے لگیں اورسارے درخت کی سوکھی ڈالیاں ہری بھری ہوگئیں۔ نسطورا راہب نے اپنا آدمی بھیج کر میسرہ سے پوچھا کہ یہ نوجوان کون ہیں؟ کہاں سےآئے ہیں؟ میسرہ نے جواب دیاکہ یہ نوجوان قریشی ہیں اورحرم کےہمسایہ ہیں۔ بوڑھے راہب نے میسرہ  کواپنے پاس بلوایا اور پوچھا کہ اس قریشی کی آنکھیں کیسی ہیں؟ میسرہ نے جواب دیاکہ ان کی بڑی سیاہ اور دلکش ہیں۔ البتہ سفید حصے میں سرخ ڈورےہیں۔ نسطورا راہب نے اپناہاتھ فضاء میں بلند کرتے ہوئے کہا کہ قسم ہے اس پروردگارعالم کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے یہ نوجوان وہی نبی آخرالزمان ہیں جن کی آمد کادنیا کوشدت سے انتظار ہے۔ راہب نےبتایا کہ جس سوکھے درخت کےنیچے آپﷺ بیٹھے اس کے نیچے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بعد سے اب تک آپﷺ کےسوا کوئی نہیں بیٹھا۔ بعدازاں حضورﷺ مال واسباب کی خریدوفروخت میں مشغول ہوگئے۔ نسطورا راہب نے میسرہ کوبتایا کہ اس نوجوان میں پیغمبرانہ صفات بدرجہ اتم موجود ہیں۔ یہ باتیں سن کر  میسرہ کی دلچسپی آپﷺ کی ذات میں مزید بڑھ گئی۔راستے بھر میں میسرہ نے اعجاز پیغمبر کےجلوے دیکھے۔ پھر بصرہ سے تجارت کامال لیکر آپﷺ میسرہ کے ساتھ مصر پہنچے۔ مصرکابازار بہت مشہورتھا یہاں مال فروخت کرنے سےنفع کئی گنا ملتاتھا۔ باہم مشورہ ہوا کہ یہاں مال فروخت کردیاجائے اورحاصل نفع حضرت خدیجہ تک پہنچا دیاجائے۔

خدیجہ کی چشم حیرت۔۔۔
کامیاب کاروباری دورے کےبعد نبی اکرمﷺ مکہ واپس تشریف لائے۔ آپﷺ کاقافلہ مکہ کی وادی میں داخل ہوا توحسن اتفاق سے تاجدار رسالتﷺ کی رفیقہ حیات بننےوالی عظیم المرتبت خاتون اپنے گھر کےبالاخانے پرکھڑی قافلے کی آمدکانظارہ کررہی تھیں۔ انہوں نے مکہ میں پلنے والے پیکرعزم وہمت، سراپا شرم وحیا اور انبیاء کےسرتاج کوپرشکوہ انداز میں آتےہوئے دیکھا تو ان کی حیرت کی انتہاء نہ رہی کہ ابرکاایک ٹکڑا سائبان کی طرح آپﷺ پر سایہ کیے ہوئے ان کےاوپر ان کےساتھ ساتھ چلا آرہاہے۔ ہرکوئی خوش تھا لیکن حضرت خدیجہ اور ابوطالب کی خوشی کاکوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اتنا نفع حضرت خدیجہ کو اپنے مال پرکبھی نہیں ہوا تھا جتنا نفع تاجداررسالتﷺ کے وجود بابرکت کی بدولت انہیں نصیب ہوا۔ میسرہ نےسفر کےتمام حالات وواقعات حضرت خدیجہ سےبیان کئے۔ حضرت خدیجہ آپﷺ کے پیغمبرانہ اخلاق وعادات، راست بازی، ایمان داری، دوست داری اور وجود کی برکات وانوارات کے واقعات سن کر نبی آخرالزماںﷺ کی گرویدہ ہوگئیں۔
(جاری ہے)






مضمون نگار: مولانا ابو بکر صدیق

امام جامع مسجد طیبہ، کورنگی کراچی

A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.