تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 19 دسمبر، 2015

سیرۃالنبیﷺ | قسط نمبر20


معاھدہ حلف الفضول۔۔۔
فجار کی خونی جنگوں کےخاتمے بعدلوگ اپنےنقصانات ونتائج پرگردنیں ڈالے سوچ رہے تھے کہ یکایک ایک اورسانحہ رونما ہوا۔
زبیدی قبیلےکایمنی تاجر مکے آیا۔ یہاں اس نےعاص بن وائل نامی سردار کےہاں مال فروخت کیا لیکن عاص نےصحیح دام دینےمیں اتنی گڑبڑ کی کہ سوداگر مایوس ہوگیا۔ ایک دوسری روایت کےمطابق اس زبیدی تاجرکوبھرے بازار میں لوٹ لیاگیا۔ تاجرنے سوچا کیوں نہ سرداران مکہ کواخلاقی ماردی جائے۔ ایک دن مختلف قبیلوں کےسردار اپنی محفلیں سجائے بیٹھےتھے۔ یمنی تاجرنے موقع غنیمت جانا اور قریبی ابوقبیس نامی پہاڑی پرچڑھ گیا۔ وہاں سےاس نےنہایت درد بھرے لہجےمیں کچھ اشعارپڑھے۔ جوپہاڑ کی بلندی سے فضاء میں گونجتےہوئے مکہ کےسرداروں کانوں میں پڑے۔۔۔۔ اس نےکہا
"اے وادی مکہ میں جمی ہوئی محفلوں کےسردارو! اس مظلوم کی فریاد سنو! حرم کعبہ تو اس لئےحرم ہے کہ جویہاں محفوظ رہ جائے آج مجھے یہاں لوٹ لیاگیاہے"۔
اس آواز نےبنوہاشم کوبےچین کردیا۔ حضرت عبدالمطلب کےفرزند "زبیر" کی تحریک پرایک عظیم الشان اجتماع ہوا جس میں ظالم کےخلاف مظلوم کےحق میں قدیم معاھدہ "حلف الفضول" کی تجدید کی گئی۔
قریشی بزرگوں کےساتھ آپﷺ بھی اس میں شریک ہوئے۔ اس شرکت پرآپﷺ کوبہت ناز تھا۔ سرکار دوعالمﷺ نےفرمایا کہ اگر مجھےاس معاھدے کےعوض سرخ اونٹ بھی دئےجاتے تومیں قبول نہ کرتا۔

اعلٰی اقدار۔۔۔
آقائے نامدارﷺ کی عمرمبارک جب بیس برس سےاوپر ہوئی تو آپﷺ کوفکرمعاش لاحق ہوئی۔ قریش فطرتاًتجارت پیشہ تھے۔ آپﷺ نےاوائل عمری میں ہی تجارتی میلوں میں شرکت شروع کردی تھی اور اس غرض سے مختلف شہروں کےسفر بھی کئے۔ اس چھوٹی عمر میں ہی اہل مکہ آقائے نامدارﷺ کی صداقت، شرافت، ذہانت، فطانت، امانت، بصیرت، معاملہ فہمی، اعلٰی اخلاق اورکردار وگفتار کےگرویدہ ہوگئےتھے۔ آپﷺ نے پیشہ تجارت میں قدم رکھاتو نیک شہرت کی دھوم مچ گئی۔

ایفائے عہدکاواقعہ۔۔۔
عبداللہ بن ابی الحمساء کی روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سرورکائناتﷺ سےتجارتی معاھدہ کیا۔ ابھی بات طےنہ ہونےپائی تھی کہ مجھےایک ضروری کام یاد آگیا۔ میں نے حضوراقدسﷺ سےکہاکہ آپ یہاں ٹھہریں میں ابھی آتاہوں۔ کام میں ایسامشغول ہوا کہ بات ذھن سےنکل گئی تیسرے دن اتفاقاً وہاں سےگزرا تو کیادیکھتاہوں کہ جناب رسالت ماٰبﷺ وہیں کھڑے میرےلئے سراپاانتظار ہیں۔ میں نے انہیں دیکھا توسخت نادم ہوا لیکن آپﷺ نے بس اتنا جملہ کہاکہ تم نےمجھے بڑی زحمت دی میں اسی مقام پرتین دن سےہوں۔

عرب کی پاکباز بیوہ۔۔۔
سرکار دوعالمﷺ کے کاروباری معاملات میں صداقت۔ امانت۔ راست بازی اور صفائی معاملہ کی بناء پرلوگ آپﷺ کےساتھ تجارت میں شرکت کرناباعث فخرسمجھتے تھے۔ ایسےمیں عرب کی ایک بیوہ مالدار خاتون جوزمانہ جاہلیت کےباوجود عفت وعصمت کاپیکر تھیں۔اپنی نسبی شرافت، پاکدامنی اور پاکبازی کی بدولت طاہرہ کے نام سے مشہورہوئیں۔ یہ بی بی خدیجہ تھیں جنہیں سرکار دوعالمﷺ سے نسبت ہوئی توخدیجۃ الکبرٰی کہلائیں۔
حضرت خدیجہ نے آپﷺ کی دیانت وامانت کی تعریف سنی تو انہوں نے چاہاکہ سرکاردوعالمﷺ میرا مال تجارت ملک شام لیکرجائیں۔ حضرت خدیجہ کامال تجارت قریش کے کل مال تجارت کے برابر ہوتاتھا۔ آپﷺ نے اس پیشکش کوقبول کرلیا۔۔۔۔
(جاری ہے)





مضمون نگار: مولانا ابو بکر صدیق

امام جامع مسجد طیبہ، کورنگی کراچی

Post Top Ad

loading...