Header Ads

سیرۃ النبی ﷺ | قسط نمبر19


حضرت ابوطالب دل کےغنی تھے لیکن کثیرالاولاد ہونےکے باعث ان کےحالات دگرگوں تھے۔ آنحضرتﷺ نے اپنے چچاپربوجھ بننا مناسب نہ سمجھا۔ ان دنوں آپﷺ اجرت پربکریاں چرایاکرتے تھے اس سے جوآمدنی حاصل ہوتی وہ اپنے چچاکی نظرکردیتے۔
صبح ہوتی تومستقبل کایہ عظیم پیغمبر بکریوں اوراونٹوں کےگلےہانکتے ہوئےصحرا اور ویران وادیوں میں نکل جاتا۔ کتاب فطرت کھلی ہوتی۔ افق کےدریچوں سےابھرتا چڑھتاسورج، دہکتاجھلستاصحرا، نرم گرم ریت، باد صرصر کےتھپیڑے، پرجلال پہاڑ، کھلی وادیاں اورسرسبزنخلستان خالق ارض وسماء کےمصوراوراق تھے جسے قدرت لوح فطرت پرابھاررہی تھی۔
ہادی برحقﷺ پہروں اس کھلی ہوئی کتاب فطرت کامطالعہ ومشاہدہ فرماتے۔ جوکہ آپﷺ کیلئےہی تخلیق کی گئی تھی۔ جب سورج اپنی تابانیوں کوسمیٹتاہوا مغرب میں غروب ہوتا، شام کےسرمئی سائےپھیلنےلگتے توپیغمبراسلامﷺ اپنےریوڑ کےساتھ گھرکولوٹتے،
اجرت پربکریاں چرانانبی کی شان نبوت کےخلاف نہیں ہے۔ آپﷺ نےفرمایا کہ انبیاء نےبکریاں چرائیں ہیں۔ جانوروں میں بکری سب سےزیادہ تنگ اورپریشا کرنے والا جانورہے۔ اونٹ گائے بھینس کاچرانااس قدردشوار نہیں ہے۔ بکری کی فطرت ہےکہ وہ ایک جگہ نہیں چرتی بلکہ پل بھرمیں ایک جگہ سےدوسری جگہ پہنچ جاتی ہے۔ ایک کامیاب چرواہاوہ ہےجواپنے ریوڑکو کسی جنگل یاوادی میں اس طرح چرائے کہ شام کوصحیح سالم واپس اپنےڈیرے پرلےآئے۔
انبیاء کابکریاں چرانا مصلحت خداوندی کےتابع ہے اوردراصل خدائی ٹریننگ ہے کہ جس طرح چرواہااپنےریوڑ کی حفاظت کےلئےہردم چوکنا رہتاہے اسی طرح انبیاء کابکریاں چرانا امت کی گلہ بانی کادیباچہ ہے کہ نبی بھی ادھر ادھر بھاگتےہوئے اپنے امتیوں پرنظررکھتےہیں تاکہ ایسانہ ہوکہ ان کی امت انتشار کاشکاہوجائے یانفس اورشیطان کاشکارنہ ہوجائے کہیں شرک وبدعت امت پرحملہ آورنہ ہوجائیں، کہیں فسق وفجور امت پروار نہ کرجائیں، کہیں طاغوتی قوتیں انہیں پڑپ نہ کرلیں۔

جنگ فجار کاپس مظر۔۔۔۔۔
آپﷺ کےبچپن میں ایک واقعہ پیش آگیا جسے"جنگ فجار" اور معاہدہ "حلف الفضول " کہاجاتاہے۔ مکہ کوخانہ کعبہ کی بدولت مرکزی حیثیت حاصل تھی۔حج کےدنوں میں قبائل عرب یہاں جمع ہوتے۔ دور دور سےلوگ یہاں آکردکانیں لگاتے، میلےٹھیلے ہوتے، بازار لگتے، محفلیں سجتیں، مستیاں سراٹھاتیں، ایک کنارے لڑکیوں کےخیمے ہوتے، ایک میدان میں بازار قصہ خوانی منعقد ہوتا، لہوولعب، عیش وطرب کی محفلوں میں آوارہ گرد اپنےدل کی پیاس بجھاتے، رقاصہ عورتیں اپنی اداؤں سے اور سریلی صداؤں سےمنچلوں کےقلوب کوتڑپاتیں، رنگ وبو اور ہوس کی اس دنیاکو تاریخ کےاوراق پردیکھ کرکسی بزرگ نےسچ کہاکہ عکاظ کا بازار عرب آج کا اولمپیاہے۔
عربی زبان فصاحت وبلاغت کی ملکہ ہے۔ بنی کنانہ کی شریراور بہادر شاعر بدربن معشر نےبھرے میلے میں زبان وبیان کاجادو جگایا اورجذبات میں کچھ اس حد تک پڑھ گیاکہ اس نے مجمع کی طرف پاؤں کرکے کہا کہ میں عرب کاسب سےمعزز آدمی ہوں۔ اگر کسی کومجھ سےزیادہ معزز ہونے کادعوٰی ہے تواسے تلوار سےکاٹ دے۔ مجمع میں ایک نوجوان احمربن مازن نے یہ چیلج سناتواس کا خون کھول اٹھا،  اس نےآگے بڑھ کرتلوارکا وار کیا، وہ گتھم گتھا ہوگئے سارا میلہ درہم برہم ہوگیا، بڑوں نے مل کرصلح کروادی اورمعاملہ رفع دفع ہوگیا۔
دوسرے برس پھر اسی محترم مہنے میں خون کابازار گرم ہوگیا، لڑائی ہوئی، معاملہ اگلے سال تک التواء میں پڑگیا۔ تیسرے سال پھر اسی محترم مہینے میں سالانہ اجتماع کےموقع پرگھمسان کارن پڑا۔بنی قریش اور بنی قیس میں گھمسان کی لڑائی ہوئی قریش کوبڑا نقصان اٹھاناپڑا۔ روایات کےمطابق چھوٹی سی بات پرشروع ہونے والی یہ جنگ انہی ایام میں کئی سال جاری رہی۔ ماہ حرام کی نسبت سے اس جنگ کانام جنگ فجاررکھاگیا۔
فجار کی لڑائیوں میں آپﷺکی شرکت ثابت ہے۔ آپﷺ حضرت ابوطالب، حضرت عباس اور حضرت حمزہ کےپیہم اصرار پر فجار کی لڑائیوں میں شریک ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمرمبارک مختلف روایات کےمطابق 14، 15، 18، 19، 20 برس تھی۔ سرکار دوعالمﷺ کی زندگی کی یہ پہلی جنگ تھی۔ اس جنگ میں آپﷺ کی شرکت جنگ جو کی نہیں تھی بلکہ اپنے چچاؤں کی مدد واعانت کےلئے تھی۔ آنحضرتﷺ دشمنوں کےآئےہوئے تیر جمع کرتے اور اپنےچچاؤں کودیتے۔

معاھدہ حلف الفضول۔۔۔
فجار کی جنگوں کاخاتمہ ایک معاھدہ پرہوا۔ حسن اتفاق سے اس معاھدہ کوطےکرنے والے تین سرداروں کے ناموں میں "فضل" شامل تھا۔ یہ سردار فضل بن فضالہ، فضل بن دوعتہ اورفضیل بن حارث تھے۔ "فضل" کی جمع "فضول" ہے۔ اسی لئے اس معاھدہ کو معاھدہ "حلف الفضول" کہاجاتاہے۔ یہ معاھدہ ظالم کےخلاف مظلوم کی حمایت سےمتعلق تھا۔
فجار کی خونی جنگوں کے بعد لوگ اپنے نقصانات ونتائج پرگردنیں ڈالے سوچ رہےتھے کہ یکایک ایک اور سانحہ رونماہوگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(جاری ہے)




مضمون نگار: مولانا ابو بکر صدیق

امام جامع مسجد طیبہ، کورنگی کراچی



A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.