Header Ads

SADAA-E-HIRA Episode 4 | صدائےحراچوتھی قسط

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اُس دور میں ملعون و مردو یہودیوں کا کیا حال تھا، یہودیوں کا ذکرآتے ہیں ملعون کا لفظ آنا ضروری ہے ۔ کیوں کہ وہ بدنصیب قوم ہے جس پر اللہ کی بے شمار نعمتیں نازل ہوئی اور سب سے زیادہ انبیاء کرام اس قوم میں نازل ہوئے ، مگریہ قوم ان کی عزت کرنے ان کی تعلیمات کو اپنانے کے بجائے ہٹ دھرمی کی انتہا کردی بلکہ کئی انبیاء کا قتل کردیا یہی وجہ تھی کہ اللہ نے اس قوم کی قسمت میں قیامت تک سرگرداں رہیں گے اور کوئی ایک ملک ان کا اپنا نہیں ہوگا،اور اُس زمانے میں دیکھا جائے تو یہ قوم صر ف اس وجہ سے ممتاز تھی کہ اس کے پاس تحریف شدہ ہی صحیح مگر دین کا بہت بڑا سرمایہ تھا لیکن تہذیب و تمدن میں اور سیاست میں یہ بہت پیچھے ، پیچھے کیا بلکہ کوئی مقام ان کا تھا ہی نہیں۔ان کے مقدر میں سیاست ، حکمرانی نہیں لکھی گئی ہے ۔ ان کے مقدر میں یہ تھا کہ ہمیشہ ان پر دوسرے لوگ حکومت کریں۔ جلا وطنی ، ظلم وجبر، سزا ،مصائب ومشقت کا یہ نشانہ بنتے رہے، قومیت اور عصبیت کا غرور ان کے نس نس میں سما گیا تھا، نسلی تکبر میں بڑھے ہوئے تھے۔ مال و دولت کے اتنے حریص تھے کہ مسلسل سود کے لین دین میں ملوث رہتے جس کی وجہ سے ان کے عادات تو بگڑے ہی تھے ساتھ ہی ذہنیت پوری طرح پلید ہوچکی تھی ۔ ان کی سب سے گھٹیا عادت یہ تھی کہ اگر ان کو پتہ ہوتا کہ یہ لوگ مغلوب ہورہے ہیں یا پھر کمزور پڑ رہے ہیں تو یہ ذلیل سے ذلیل بننے کو بھی تیار ہوجاتے اور جب لگتا کے یہ غالب ہورہے ہیں ان جیسا بے رحم اور ظالم آپ کو تاریخ میں نہیں ملے گا، عام زندگی میں دھوکہ دہی ،اپنوں سے سنگدلی، خودغرضی اور مطلب پرست، مفت مال کے لالچی وحریص اور حرام خوری میں سب سے آگے تھے۔سیدھے ، سچے اور راہ حق میں روڑے اٹکانا، اور پھر عوا م کو اس جانب جانے سے روکنا اس قوم کے نس نس میں بھرا ہوا ہے ۔، قرآن کریم نے چھٹی اور ساتویں صدی میں ان کی بدترین اور گھٹیا حالت کا نقشہ کھینچا ہے۔ بس یوں سمجھئے کہ اخلاقی بگاڑ ، انسانیت کی گراوٹ اور اخلاقی پستی میں ان کی کوئی مثال نہیں تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ایک زمانے تک نہیں بلکہ کئی صدیوں تک امامت جس قوم کے ہاتھ میں دی گئی تھی اورجس قوم میں سب سے زیادہ انبیاء کرام بھیجے گئے تھے اُس قوم کو اللہ نے قیامت کے لیے مردود قرار دیتے ہوئے ان کے ہاتھوں سے زعامت و سیادت چھین لی۔ تو سوچئے جس قوم کا اپنا کوئی ٹھکانہ نہیں، جو سرگرداں اور ایک بستی سے دوسری بستی مارے مارے پھرتے ہوں انکے عقائد کیسے درست اور صحیح باقی رہیں گے ، یہی وجہ تھی کہ بدلتے قوموں کی حکمرانی اور پڑوسی ملکوں کے عادت واطوار ان میں سرایت کرنے لگے اور بعض موقع پر دباؤ میں آکر مختلف قوموں کے عقائد قبول کرلئے ۔اسی لئے ان کے اندر بھی مشرکانہ اور بت پرستی جیسی روایات عام ہوگئی اور وہ اس کے دلدادہ ہوگئے ۔ اور جزیرۃ العرب میں بھی یہ لوگ تھے، یہ لوگ آپ ﷺ کی بعثت کے بارے میں کفارِمکہ کو بتاتے بھی تھے ، جس کا تذکرہ احادیث میں ملتا ہے ۔ سیرت ابنِ ہشام کے باب نمبر پینتیش یہودیوں کی روایات کا مطالعہ اس میں لکھا ہے کہ ’’ابن اسحق اور عاصم بن قتادہ کے حوالے بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور ہدایت کے ساتھ ساتھ جس چیز نے ہمیں اسلام کی جانب متوجہ کیا وہ باتیں تھی ، جوہم یہودیوں سے سنا کرتے تھے۔ ہم تو مشرک اور بت پرست تھے اور وہ اہلِ کتاب تھے، ان کے پاس ایک قسم کا علم تھا جو ہمارے پاس نہیں نہ تھا، ان میں ہم میں ہمیشہ لڑائیاں ہوا کرتی تھیں، جب ہم ان سے کوئی چیزلے لیتے، جووہ ناپسند کرتے تو وہ کہتے، ایک نبی کا زمانہ قریب آگیا ہے، اور اب وہ مبعوث ہوں گے، ہما ن کے ساتھ ہوکرتمہیں اس طرح قتل کریں گے ، جیسے عاد وارم کو قتل کیا گیا۔ یہ بات ہم اکثر سنا کرتے تھے۔پھر آپ ﷺ نبی بنا کر بھیجے گئے ہم ایمان لائے، تو ہم نے یہودیوں سے سبقت لے گئے۔ قرآن کے چھٹے پارہ سورہ نساء کی آیت نمبر 153تا 161میں اللہ نے یہود کی بہت سی جہالتوں ، سرکشیوں ،ہٹ دھرمیوں اور فرمائشی مطالبات کا ذکر کرکے ان کی ہٹ دھرمی کی تصویرکشی کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات، نشانیاں یعنی انبیائے کرام کے معجزات کا تذکرہ ، انبیائے کرام کو ناحق قتل کرنا، اور حضرت مریم علیہالسلام پر بہتان باندھنا، حضرت عیسیٰ علیہ کے قتل کا دعویٰ کرنے کے تذکرے کے ساتھ اللہ نے صاف کہہ دیا کہ ان کی کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے ۔

SADAA-E-HIRA Episode 4 | صدائےحراچوتھی قسط
#صدائےحرا چوتھی قسط | SADAA-E-HIRA Episode 4Sadaa-E-Hira (Arab Ki Kahani Ansaar Aziz Nadwi Ki Zabani)Uploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comThanks To FikroKhabar Tv
Posted by Azmi Islamic Zone on Saturday, 24 October 2015
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.