Header Ads

SADAA-E-HIRA Episode 3 | صدائےحرا تیسری قسط

ناظرین عیسائیوں کی اخلاقی بگاڑ کے سلسلہ میں کیا کہا جائے ۔ چھٹی صدی عیسوی کے عالمی نقشے پر نظر دوڑائیں تو دو سو پر پاور طاقتوں کا نام ملتا ہے ۔ ایک رومی سلطنت جس کو بازنطینی سلطنت بھی کہا جاتا ہے اس کے زیرِ سایہ جو ممالک تھے اس میں یونان ، بلقان ، ایشیاء کوچک ، سیریا ، فلسطین ، پورا بحرِ روم کا علاقہ اور کل شمالی افریقہ اس ملک کا مرکزی شہر یعنی راجدھانی جسکو ہم پایہ تخت کہتے ہیں وہ قسطنطینیہ تھا ، اس سلطنت کا آغاز ۳۹۵ ؁ء میں ہوا اور اختتام عثمانی ترکوں کے ہاتھوں ۱۴۵۳ ؁ء میں قسطنطینیہ پر قبضے کے ساتھ ہی ہوگیا۔ ان ممالک کے اخلاقی بگاڑ کا ایسا حال تھا کہ عام عوام پر ٹیکسوں کا اتنا بار لاد دیا کرتے تھے کہ اہل ملک اپنی حکومت چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے۔بغاوتیں باربار ہوتی۔ یہاں تک کے انسائیکلو پیڈیا برنانیکا میں موجود جسٹینین نامی مصنف کے مقالے کا مطالعہ کریں تو وہ لکھتا ہے کہ ۵۳۳ ؁ء میں ہوئے ایک فساد کی بات کریں تو قسطنطینیہ کے تیس ہزار آدمی قتل کردیے گئے تھے۔ وہ لوگ مال و دولت کے حریص تھے اور ان کا مشغلہ صرف کسی نہ کسی ذریعہ سے مال حاصل کرنا عیش کرنا ، ان لوگوں میں ظلم وخباثت بھری ہوئی تھی ،ان کے کھیل تماشوں پر نظر کی جائے تو وہ بڑے خونریزتکلیف پہنچانے والے ہوتے ، حکماء کی اذیتیں ہولناک ہوتی تو مالداروں کی زندگی عیش وطرب، بھیانک سازشوں اور گھٹیا برائیوں سے بھری ہوئی ہوتی ۔ نبی رحمت کے صفحہ نمبر 44دیکھیں کیا لکھتے ہیں ؟کہ یہ ان مذاہب کا حال تھا جن میں سے اکثر اپنے اپنے زمانہ میں اللہ کی طرف بلانے کے لیے آئے تھے جہاں تک ان متمدن ممالک کا تعلق ہے جہاں عظیم الشان حکومتیں قائم تھیں ، علوم وفنون کا بازار گرم تھا اور جو تہذیب وتمدن ، صنعت وحرفت اور علوم وفنون کا مرکز سمجھے جاتے تھے وہاں مذاہب کی شکل بالکل مسخ ہوچکی اور انہوں نے اپنے اصل حقیقت اور قدروقیمت کھودی تھی ۔ (نبی رحمت صفحہ نمبر ۴۴) بلکہ واقعہ تو یہ ہے کہ پوری دنیا ہلاکت کے دہانے پر پہنچ چکی تھی اور انسانی معاشرہ جانوروں سے بھی بدتر زندگی گزاررہا تھا۔ ناظرین ! اب آئیے بات کرتے ہیں آگ کی پوجا کرنے والے مجوسیوں کی ....سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا بھلا آگ کبھی کسی کو ہدایت دے سکتی ہے ؟ اس وجہ سے یہ قوم چند رسم و روایات میں کھو کر رہ گئی تھی ۔عیاشی نے ان کے دل ودماغ کو کمزور کردیا اور ایوان سلطنت کی بنیادوں کو متزلزل کردیا پروفیسر محمد اقبال میڈیکل کالج لاہور ،ایران بعد ساسانیان نامی اپنی ترجمہ والی تصنیف میں لکھتے ہیں کہ۔ ایران بعہد ساسانیاں کے مصنف آرتھر کرسٹین نے اس زمانہ کے مذہبی فرائض او رذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ سرکاری ملازمین کے لیے لازمی تھا کہ وہ دن میں چار بار سورج کی پوجا کریں ، چاند کی ، آگ کی ، اور پانی کی پوجا اس کے علاوہ تھی، سونے جاگنے ، نہانے ، پہننے ، کھانے پینے ، جھینکنے ، حجامت بنوانے اور ناخن ترشوانے، قضائے حاجت اور شمع جلانے ہرکام کے لیے دعائیں تھیں اور ان کاکرنا ان پر ضروری تھا ، ان کو اس کا بھی حکم تھا کہ آگ کسی وقت بجھنے نہ پائے اور آگ پانی ایک دوسرے سے نہ ملیں ، دھات کو زنگ نہ لگے، اس لیے کہ معدنیات بھی ان کی نگاہ میں مقدس تھیں۔ ایرانی مجوسیوں پر لکھی گئی تاریخی کتابوں پر نظر کیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہندوستانی دیومالاؤں ،بھوت پریت کی کہانیوں سے ملتی جلتی ہیں، یہاں تک کہ انہوں نے میتھلوجی جیسا سبجیکٹ ہی تیار کرلیا جس میں مختلف قسم کے اصنام، دیو اور عجیب و غریب قسم کی داستانیں ملتی ہیں جو عقل اور عقیدے سے پرے ہے۔ناظرین ایران کی قدیم تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ ایک باعزت ملکوں میں شمار ہوتا تھا، عہد قدیم میں جو مذہب یہاں قائم تھا اس کا نام آبادی تھا، پھر مہ آبادی نامی مذہب عروج میں آیا، یہاں تک کے ززتشت نامی شخص نے آتش پرستی یعنی آگ کی پوجا اس مذہب میں جان بھرا، زرتشت نے خود کو ہادی بتایا اور بہت جلد ایران کا سرکاری مذہب زرتشی دین بن گیا تھا، پھر دھیرے دھیرے ان کے اندر اتنی خرابیاں پیدا ہوئی کہ زرتشت کو خدائی صفات دے کر اسی کی پوجا شروع کردی، پھر اپنے دومعبود بنائے ایک خیر کا خالق جس نام یزداں اور ایک شر کا خالق جس نام اہرمن رکھ دیا، چاند، سورج ،ستاروں ، سیاروں کی پرستش کے ساتھ ساتھ ، چوری، رہزنی بھی شروع ہوگی، زنا کا رواج اس درجہ بڑھ کہ مزدک نامی ناہنجار نے عام دربار میں ایک لڑکی کو بے عصمت کرنے کی فرمائش کردی جس کو بانوئے سلطنت سمجھا جاتا تھا، ناظرین بس اتنا سمجھیں کہ یہ ایران کی قوم جو تہذیب یافتہ سمجھی جاتی تھی، ان کی تہذیب کی گراوٹ کی انتہا یہ تھی کہ وہ چوپایوں سے بھی زیادہ درندگی کی حدوں کو پار کرگئے تھے۔ تمام انسانی خوبیاں وہاں سے خالی ہوچکی تھیںِ جو کسی زمانے میں تہذیب وتمدن کا منبع و مرکز سمجھا جاتا تھا۔۔


SADAA-E-HIRA Episode 3 | صدائےحرا تیسری قسط

SADAA-E-HIRA Episode 3 | सदाये हिरा एपिसोड 3 | #صدائےحرا تیسری قسط Sadaa-E-Hira (Arab Ki Kahani Ansaar Aziz Nadwi Ki Zabani) Uploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi Group Contact CEO: www.mzazmi.blogspot.com Thanks To FikroKhabar Tv

Posted by Azmi Islamic Zone on Sunday, 18 October 2015
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.