تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعرات، 15 اکتوبر، 2015

SADAA-E-HIRA Episode 2 | ट्रेलर सदाये हिरा एपिसोड २ | صدائےحرا دوسری قسط

اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
 میں ہوں آپ کا میزبان انصارعزیزندوی اور آپ میرے ساتھ فکروخبرکا خصوصی پروگرام صدائے حرا دیکھ رہے ہیں، ناظرین یہ صدائے حراکی دوسری قسط ہے، اس سے پہلے والے پروگرام میں آپ نے دیکھا اور سناتھا کہ کیسے اقوام کی حالت بد سے بدتر ہوگئی تھی، روم و ایران کی میں نے مختصر تصویر کشی کی کوشش کی تھی،جس نے نہیں سنا وہ ضرور ہمارے یو ٹیوب کے فکروخبر ٹی وی چینل میں دیکھیں، آب آئیے میں آپ کو بتاؤں کہ اُس دور میں مسیحیت یعنی عیسائی مذہب کا کیا حال تھا،عیسائی مذہب جو اُس وقت حضرت عیسیٌ کے تعلیمات پر منحصر تھا وہ حق تھا، مگر مسئلہ اُس وقت پید اہوجاتا ہے جب اللہ کی کتاب میں اُس وقت کے پادری کہہ لیجئے وہ لوگ من مانی شروع کردی تھی، اور کرچکے تھے کیوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پردہ کئے صدیاں گذر گئی تھی، اور اس مذہب میں اس درجہ تفصیل وضاحت کے ساتھ نہیں تھی کہ جس سے یوں کہا جاسکے کہ اس میں ایک مکمل زندگی گذارنے کا طریقہ ہے جیسے کہ علی میاں ؒ نے انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عرو ج زوا ل میں اس کا کچھ یوں تذکرہ کیا ہے کہ’’مسیحی مذہب میں کبھی بھی اس درجہ تفصیل ووضاحت نہ تھی کہ جس کی روشنی میں زندگی کے اہم مسائل سلجھائے جاسکیں یا اس کی بنیاد پر تمدن کی تعمیر ہوسکے ، وہ صرف حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات کا ایک ہلکا سا خاکہ تھا جس پر توحید کے سادہ عقیدہ کا کچھ پر تو تھا۔ مسیحیت کا یہ امتیاز بھی اس وقت قائم رہا جب تک یہ مذہب سینٹ پال کی دسترس سے بچارہا ، اس نے تو آکر رہی سہی رونشی بھی گل کردی ، اس کے بعد قسطنطین کا زمانہ آیا جس نے اپنے دور حکومت میں رہی سہی اصلیت بھی کھودی ۔ناظرین! چوتھی صدی میں مسیحیت کی تصویر پر نظر ڈالی جائے تو بس اتنا کہا جاسکتا تھا کہ وہ ایک ایسا صفحہ بن چکا تھا جس پر کئی لکیریں پڑ چکی تھی، ہر کوئی اپنی مرضی سے یا جبراً یا پھر نفس کی خواہش کے مطابق اپنے مسائل کے حل اس میں جوڑ دیا تھا یا پھر یوں کہئے کہ یہ مذہب ایک معجون مرکب بن کر رہ گیا اور سب سے افسوسناک اور بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ، یہ مذہب اپنے دور اول ہی میں تحریفات کا مرکز جاہلوں کی تاویل اور رومی ونصرانیوں کی بت پرستی کا شکار ہوگیا تھا ۔ اور آتے آتے چوتھی صدی کے آخر میں اس مذہب میں توحیدکا عقیدہ پوری طرح گم ہوچکا تھا یا مسخ کردیا گیا تھا۔جب کہ عیسیٰ علیہ السلاۃ والسلام تو، توحید کا درس لے کر آئے تھے، مگریہاں تثلیث کا عقیدہ پیدا ہوگیا تھا، تثلیث یعنی اللہ رب العزت کی ربوبیت کے ساتھ حضرت مریم علیہ السلاۃ والسلام اور عیسیٰ علیہ السلاۃ والسلام کو شامل کردئے تھے۔ خود عیسائی فاضل لکھتا ہے۔ جس کا حوالہ میں آپ کو ’ New Catholic Encyclopedia vol : 14-1967’ کا دے سکتا ہوں ، وہ لکھتا ہے کہ یہ عقیدہ کہ خدائے واحد تین اقانیم سے مرکب ہے، عیسائی دنیا کی پوری زندگی اور افکار میں چوتھی صدی کے آخر ہی میں سرایت کرچکا تھا اور طویل عرصہ تک سرکاری اور تسلیم شدہ عقیدہ کی حیثیت سے جس کو پوری مسیحی دنیا مانتی تھی باقی رہے یہاں تک کہ انیسویں صدی عیسوی کے نصف ثانی میں یعنی اس صدی کے بیچ میں آتے آتے اس عقیدے کی تفسیر اور اس کی شکل تک پہنچنے کا راز فاش ہوا۔یعنی خدائے واحد کو تین اقانیم میں تقسیم کرکے اس کو مرکب کرنے کا رازجو فاش ہوا اور اس کی حقیقت کو سمجھنے اور سمجھانے میں کئی سال لگ گئے۔اس کا نتیجہ کیا ہوا پتہ ہے آپ کو۔۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک صاف و شفاف مذہب مذہبی خانہ جنگی میں تبدیل ہوگیا؟؟ آج دشمنانِ اسلام ، مذہب اسلام پر انگلی اُٹھاتے ہیں نا کہ اسلام میں کئی فرقے ہیں ، کئی مسالک ہیں،اُس دور میں عیسائیت اور آج بھی اس بات سے انکار نہیں، عیسائیت مختلف خانوں بٹ گئی تھی اور اب بھی بٹی ہوئی ہے ۔ عیسائی پادریوں کو تثلیث کا راز سمجھانے میں دشواریاں پید ا ہوئی کیوں کہ مذہبی اور آسمانی کتاب توریت جس کو بائبل کا نام دیا گیا ہے اس میں تحریفات ہوچکی تھی، دلائل کے لئے اور حوالے کے لئے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا تو پھر لوگوں کو سمجھانے میں دشواریاں ہوئی ، یہاں تک کہ نفس، روح کو لے کر مباحث شرو ع ہوئے، اس بے نتیجے کے اختلافات نے پورے قوم کو اُلجھا کر رکھ دیا تھا، جو من میں آئے بکا جارہا تھا،حضرت مریم اور حضر ت عیسیٰ علیہ السلاۃ والسلام کو خدا کا درجہ دے کر اور من گھڑت کہانیوں کے ساتھ ایک دوسرے پر طعنہ کسنے لگے،یہاں تک کہ ان خانہ جنگیوں نے بڑے پیمانے پر خونی معرکہ کی شکل اختیار کرلی ۔ یعنی اب عقیدے اور ایمان کے فیصلے تلوار کے زور پرہونے لگے اور میدانِ جنگ خون سے لت پت نظر آئے۔گرجا گھر اور ، کلیسا اور لوگوں کے مکانات حریف کیمپ بن گئے اور پورے کا پورا ملک خانہ جنگی یعنی (civil war) کا شکار ہوگیا تھا۔ عیسائیوں کی اخلاقی پستی کے بارے میں مختصر بیان کیا جائے تو اس بات کا اندازہ لگا لیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوسوسال بعد تک رہبانیت کا کوئی رواج نہیں تھا،مگر بعد میں یہ سلسلہ چل نکلا، شام ، یونان اور روم میں کثرت سے اس کی مثالیں ملنے لگی،ہر شخص جس کو عزت کا لالچ ہوتا وہ راہب بن جاتا راہب یعنی جو کلیسامیں رہے، پاٹھ پڑھائے اور شادی نہ کرے،پھر یہ رواج عورتوں میں بھی عام ہوگیا، جس کو آپ نن بھی کہہ سکتے ہیں، اب وہ خانقاہیں جو راہب مردوں اور راہبہ عورتوں کی تھی وہ قابلِ شرم حرکات کا مقام بننے لگی،عورتوں کی جائز عزت اور والدین کی تعظیم پوری طرح فوت ہوچکی تھی۔ناظرین! اس ہفتے میں آپ کو یہیں چھور جاتا ہوں اگلے ہفتے تیسری قسط میں اور بھی کئی حقائق اور آگ کی پوجا کرنے والوں کی داستاں سناؤں گا کہ اُس وقت وہ کس حال میں تھے۔۔ اپنے میزبان کو اجازت دیں ۔۔والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ....
(انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزوال کا اثر صفحہ ۴۰۔۴۱)::ماخوذ از New Catholic Encyclopedia vol : 14-1967)



SADAA-E-HIRA Episode 2 | ट्रेलर सदाये हिरा एपिसोड २

SADAA-E-HIRA Episode 2 | ट्रेलर सदाये हिरा एपिसोड २ | #صدائےحرا دوسری قسط Sadaa-E-Hira (Arab Ki Kahani Ansaar Aziz Nadwi Ki Zabani)Uploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comThanks To FikroKhabar Tv

Posted by Azmi Islamic Zone on Sunday, 11 October 2015


Post Top Ad

loading...