Header Ads

Marriage and Dowry in Islam

کیا کریں بیچارے والدین بھی پریشان ہیں۔ان پڑھے لکھے بھکاریوں نے ڈگریوں اور جاب کے بل بوتے پر جہیز کا مطالبہ کرتے ہیں۔ والدین بیچارے چلو اپنی بیٹی خوش رہے گی یہ دیکھ کر یہاں وہاں سے اکھٹا کرکے دلہا کے چونچلے پورے کرتے ہیں مگر دلہا تو دلہا نکلا ، ایک نمبر کا لالچی وہ دلہن کو خوشی دینے کے بجائے اسی کا استحصال کرنے لگ جاتا ہے، کتنی خبریں ہیں، کتنی رپورٹیں میرے پاس کے ہر دن جہیز کے لئے عورت ہراساں کی جاتی ہے یا پھر مار دی جاتی ہے۔ اللہ سب کی حفاظت فرمائے۔ ایک طرف یہ حال تو دوسری طرف جلدی نکاح نہ کرنے کی ایسی وباء اس دنیا میں پھیل گئی کہ اب ایک طرف ایک طبقہ جرائم کا اتکاب کرہاہے ، زنا بالجبر میں ملوث ہورہاہے تو وہیں یہ سوشیل میڈیارہی سہی کسر بھی پوری کردی۔ نکاح کے فطری ضرورت کو نظر انداز کرنے سے جبلی تقاضہ میں بڑھوتری پیدا ہوجاتی ہے، یہ بازاروں میں گھومنے والی ٹائٹ فٹ کپڑے پہلے نوجوان لڑکیوں کی بھرمار، انٹرنیٹ اور موبائل پر فحاش و عریانیت کے ویڈیوز، اشتہار کے نام پر عورتوں کی نسوانی کشش کے فیشن، بے حجابی،فلمیں، نت نئے ڈرامے ، ریالٹی شوش کے نام پر ننگاپن یہ سب دیکھنے والی نوجوان نسل جب وقت پر نکاح نہیں کرے گی تو پتہ ہے کیا ہوگا؟؟ میں بتاتا ہوں کیا ہوگا؟ برطانیہ سے ایک سال پہلے ایک سروے رپورٹ جاری ہوئی تھی شاید آپ کو بھی معلوم ہوگا اس میں رپورٹ پیش کی گئی تھی کہ ایک سو لڑکیوں میں سے 99برطانوی لڑکیاں شادی کے وقت کنواری نہیں ہوتی؟ کنواری نہیں ہوتی کا مطلب آپ جانتے ہی ہیں، مجھے اس کی تفصیل میں نہیں جانا، اور نوجوان لڑکا کیا کررہاہے ، وہ جنسی ہوس مٹانے کے لئے پورن فلموں کا عادی ہوچکا ہے ، وہ والدین سے چھپ چھپا کر سار ی رات دوست و احباب کے ساتھ گھر سے باہر وقت گذار رہاہے ، ٹیوشن کے نام پر کہاں جارہا ہے کسی کو پتہ نہیں ،لڑکیو ں کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے ، وہ کالج جانے میں اتنی دلچسپی نہیں دکھاتی جتنا کسی ٹیوشن میں جانے کے لیے دلچسپی دکھاتی ہیں، اور یہ دلچسپی پڑھائی سے نہیں کسی اور چیز سے ہے ،مجھے اس کی تفصیل میں نہیں جانا، اہلِ مغرب نے ساری حدیں پار کردی ہیں، لیو ان پارٹنر کے نام پر زنا کے پورے دروازے کھول دئے ہیں۔یاد رکھئے اگر اولاد بگڑ رہی ہے اور غلط راستہ اختیار کررہی ہے تو اس کے ذمہ دار ان کے والدین ہے، وقت پڑتے شادی کروادیں، یہ والدین کی ذمہ داری ہے، بڑی شادی کرنا ہے، اتنے لوگوں کو بلانا ہے، یہ سب کرنا ہے، رسم و رواج کرنا ہے، بڑا شامیانہ لگانا ہے، اتنے لوگوں کو بلانا ہے ، یہ کرنا وہ کرناہے کہ چکر میں روپئے جماتے جماتے لڑکا ہاتھ سے نکل جائے گا اور جب تک ان کی شادی ہوگی وہ جنسی خواہشات کا مزہ پہلے ہی لے چکے ہوتے ہیں، اب رسماً شادی کربھی لی تو دلچسپی نہیں دکھاتے اور گذرتے ایام کے ساتھ میاں بیوی میں دوریاں پیدا ہوتی ہیں، وہ اس کواپنی کہانی سناتاہے، لڑکی اس کو اپنی کہانی سناتی ہے اورایک دن نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔ کیا والدین یہی چاہتے ہیں؟آج پورے دنیا کی جانب نظر کیجئے اور بالخصوص اپنے ملک کا حال دیکھئے وقت پر جنسی تسکین کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے مجرمانہ ذہنیت کا شکارہوچکاہے۔ لڑکیاں گھروں سے بھاگ رہی ہیں، اب وہ نہیں دیکھ رہی ہیں کہ وہ کس کے ساتھ بھاگ رہی ہیں اس کا مذہب کیا ہے ، اس کو تو بس تسکین چاہئے۔ سیکشول ہراسمنٹ کے جرائم میں اضافہ ہورہاہے ، ابھی دو دن قبل دہلی میں چار سالہ بچی کو ہوس کا نشانہ بنایا گیا ۔دنیا تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے ایسے حالات میں ہم خود کو سنبھالیں ۔اچھے رشتوں کے چکر میں کہیں ایسا نہ ہو کہ زندگی کا معیار ہی بدل کر رکھ دیں اور بے چینی و بے سکونی زندگی سے چمٹ جائے۔ اچھی جگہ ، آراستہ گھر، عمدہ ملبوسات اچھے رشتوں کی ضرورت نہیں مجبوری ہے ،۔ اچھے رشتے گھربار، دولت، نہیں دیکھتے وہ وقت کا تقاضہ اور شریعت دیکھتے ہیں۔ اور شادی کو صرف شادی نہ سمجھیں جیسے میں نے پہلے کہا ، نکاح محبت کا عجیب احساس پیدا کرتا ہے،جذبات میں طوفان کھڑا کردیتا ہے۔ دلوں کو خوشیوں سے ہمکنار کرتا ہے،بنجر زندگی کو سرسبز و شاداں بنا دیتا ہے ،زندگی میں ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے ، اس میں ایک قسم کی برتری کا احساس ہوتا ہے، نکاح کئی مفسدات کو روک دیتا ہے ، کئی گناہوں سے روک دیتا ہے ، اولاد کی نعمت ملتے ہی انسان خود کو دنیا کا امیر ترین انسان اور خوش نصیب انسان تصور کرتاہے اور یہی ہے اصل محبت کا راز۔ اس میں یادیں جنم لیتی ہیں، اپنے پر پھیلاتی ہیں اور جہاں جہاں بھی جائے میٹھی میٹھی یادوں سے زندگی کی تنہائیوں کو دور کرتی ہیں، زندگی ٹہرنے اور رکنے بجائے وہ اپنی منزل کی جانب ، خوشگواریت کے ساتھ، ویرانی اور تنہائی کی تمام رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے چل نکلتی ہے اور ایک دن اپنی منزل پاہی لیتی ہے۔ یہ ہے نکاح ، یہ ہے شادی، یہی ہے اصل محبت اور عشق کی انتہا: ناظرین اخیر میں یہ بات واضح کرلیں ، جہیز لے کر رچائی جانے ازدواجی زندگی میں برکت نہیں ہوتی اور اگر نوجوان نکاح میں دیر کرتاہے اسکی وجہ والدین بنتے ہیں وہ نوجوان کے بگڑنے کی وجہ سے گناہ گار بن جاتے ہیں۔ اس لئے معاشرہ اور سماج اس بات کو سنجیدگی سے لے کہیں ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہوجائے اور ہم افسوس کرتے رہ جائیں۔

Marriage and Dowry in Islam

Marriage and Dowry in Islam Uploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comThanks To FikroKhabar Tv

Posted by Azmi Islamic Zone on Friday, 23 October 2015
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.