تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعہ، 23 اکتوبر، 2015

Gold Smuggling

؟؟ ناظرین جو میں کہہ رہاہوں کیا وہ غلط ہے؟؟ دیکھئے سماج کی جانب ،نویں فیصد ہمار ا طبقہ آج گولڈ اسمگلنگ کے ذریعہ جلد ہی امیر بننا چاہتا ہے، اب تو لوگ کھان پان، گٹکھا اور دیگر مضر اشیاء بھی اسمگل کرنے لگ گئے ہیں، خود بھی ڈوبے ہیں صنم اور وں کو بھی لے ڈوبے کے مصداق اپنی گھروں کی عورتوں اور بیویوں کو بھی اسی راستے لگا دیا ہے، حیرت تو مجھے اُس وقت ہوئی جب کسی اطلاع دینے والے نے مجھے یہ اطلاع دی اورکوئی غلط اطلاع نہیں بلکہ میں نے تصدیق کی اپنے دوست و احباب سے خبر کو ٹھوس کیا تو پتہ چلا کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے نوجوان جن کی اچھی بھلی نوکری چل رہی تھی جو ہزاروں روپئے ماہانہ تنخواہ پارہے تھے، بہترین روزگاری تھی وہ اپنے روزگاری او ر جاب کو لات مار کر ، اور کچھ لوگ اپنے اچھی خاصی تجارت کو چھوڑ کر اس چکر میں پڑے ہوئے ہیں، بھلا سوچو اللہ جس کو عزت دینا چاہ رہاہے وہی اگر اپنے لئے ذلت مانگ لے تو اس دنیا میں اس سے بڑا بے وقوف کوئی ہوسکتا ہے، علماء بتارہے ہیں، شہر کے معزز شہری سماج کے ذمہ دار افراد بتارہے ہیں کے آپ کی وجہ سے معاشرہ، سماج اور شہر بدنام ہورہاہے تو اُن پر کوئی اثر نہیں ،ارے جن کے دماغوں میں جلد امیر بننے کا بھوت سوار ہو، جن کو کم قیمت کی چیز زیادہ داموں میں خریدنے کی لت پڑچکی ہو، ذلت کو ذلت نہیں، غلطی کو غلطی نہیں سمجھ رہے ہوں تو سوچئے بھلا ان کو سماج معاشرہ کی بدنامی کوئی معنیٰ رکھتی ہے ۔ جب کوئی کچھ بیان جاری کرتا ہے، سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو ، اب اِس کے پاس جارہا ہے، اُسکے پاس جارہا ، اُس عالم کو پکڑا ، اس مفتی کو پکڑا اور پوچھے جارہا ، پوچھے جارہا، ارے اس کی یہ بے چینی ہی اس کی تجارت کی نوعیت کو گنوارہی ہے ...میں بتاتاہوں آپ کو کچھ لوگوں کی وجہ سے کیسے پورا معاشرہ پریشان ہے ، اور کیوں کر اس کے سر گناہ آسکتا ہے۔مجھے بتائیے آج ملک کاکونسا ایسا ایرپورٹ ہے جہاں ہمیں شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جارہا؟کرنے والے کچھ لوگ اور بھگتنے والے ہزاروں لوگ، ہر دن ایرپورٹ پر شہریوں کا آنا جانا ہوتا ہے ، اب ایک ایک گھنٹہ کھڑا کرکے اس کو چیک کیا جارہاہے ، اور جب سے عورتوں کو بھی اس میں دھر لیا گیا ہے تو اب عورتوں کو بھی نہیں چھوڑا جارہا،ایک تو سفری تھکان اورپر سے کسٹم افسران کی چبھتی ہوئی نگاہیں، ذہنی و جسمانی اذیت و تھکان، سوچئے، جس کو ہم جائز سمجھ کر کررہے ہیں اُ س سے پورے معاشرہ کو تکلیف ہورہی ہے ، ان تمام لوگو ں کی تکلیف کا ذریعہ بننے والے ان اسمگلرس پر لازمی طور پرگناہ ہوگا۔ کیوں کہ اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ کے کسی عمل و قول سے کسی کو تکلیف پہنچے۔دوسرا گناہ : ملک کے آئین اور قوانین کی دھجیاں اُڑارہے ہیں، آپ ﷺ کا صاف صاف ارشاد ہے ، جس ملک میں رہتے ہو اس کی دھرتی سے محبت کرو، اور اپنی زمین کے لئے لڑنے والا شہید کہلاتا ہے ،ا ور ہم اسی ملک کے قانون کی دھجیاں اُڑائیں اور پھر پورے قوم کو بدنامی کے دلدل میں پھنسادے۔تیسرا گناہ : پھر ایسے کاموں میں رشوت کا بازار بھی گرم رہتاہے ،اور آپ ﷺکا فرمان ہے ، الراشی والمرتشی کلاہما فی النار، رشوت دینے والا، اور لینے والا دونوں جہنمی۔چوتھا گناہ: جب ان راستوں سے دولت آجاتی ہے تو انسان کی عقل ماری جاتی ہے ، تو اب وہ فضول خرچی کا دلدادہ ہوجاتا ہے ، فضول خرچی ، اسلام میں جائز نہیں، پانچواں گناہ: اس طرح کی تجارت میں بغیر جھوٹ کے ہوتی ہی نہیں، ایک تو جہاں سے لارہاہے ، اس ملک سے جھوٹ بولتا ہے ،ا ور جس ملک میں لایا جارہاہے وہاں سے جھوٹ بولتاہے۔ چھٹا گناہ: دھوکہ دہی کا، اسمگلنگ کا مطلب ہی دھوکہ دہی ۔ ناظرین! اب سوچئے :ایک ساتھ چھ چھ گناہ سے حاصل کی گئی دولت آخر کتنے دن آپ کے پاس ٹکے گی؟؟معاشرہ کو بدنام کرکے، اچھے بھلے لوگوں کے تکالیف کا باعث بن کر، جھوٹ ، دھوکہ دہی، رشوت کا بازار گرم کرکے ،اپنے ملکِ عزیز کی قانون کی دھجیاں اُڑا کر ہم اگر یہ سمجھ رہے ہیں کہ جو کررہے ہیں صحیح کررہے ہیں توپھر ہمیں اپنے ایمان کی کمزوری کے بارے میں سوچنا ہوگا کہ ہم کتنے کمزور ہوگئے ہیں اس معاملے میں،؟ان تمام غلطیوں کی باوجود آپ معاشرہ میں عزت و وقار چاہتے ہیں؟ ناظرین! عصر حاضر یعنی جن ایام سے ہم گذر رہے ہیں،اس میں ہمارا معاشرہ بے پناہ امراض کے سبب متعفنن ہوچکا ہے، ہر فرد اپنی انفرادی اور دنیوی زندگی اچھی سے اچھی بسر کرنا چاہتا ہے،ہم بنا کسی تمیز و چھان بین کے تمام وسائل مادیہ کا جائز و ناجائز استعمال کرکے اپنی ذاتی زندگی بہتر اور اچھی بسر کرنا چاہتا ہے ۔ اچھی زندگی گذارنا اس کے لئے لائحۂ عمل تیا رکرنا ،برا نہیں، معیوب نہیں، بلکہ سوچنا چاہئے ، مگر اس کے لئے جو طریقے اختیار کئے جارہے ہیں، وہ بہت ہی بھیانک اور پورے معاشرے کو بدنام کرنے اوربرائیوں کواپنے ساتھ لانے والے ہیں۔سب سے افسوس ناک پہلو اور منافقت اور دوغلے پن کا ہمارا یہ عالم ہے کہ جس میں ، میں خود کو بھی شمار کروں گا بلکہ آپ کی جانب نہیں بلکہ میں خود اپنے آپ کو اس میں تصور کرتا ہوں کہ جو شخص کسی برائی کو دیکھ کر یا کسی رسم ورواج اور خرافات پر کان پکڑ کر توبہ استغفار کراتا ہے کل وہی شخص اسی برائی اور انہی رسم و رواج بلکہ اس میں اضافہ کرنے کے لئے شیطانی بہانے ڈھونڈرہا ہوتا ہے ، جو ہمارے معاشرے کے لے سب تباہ کن عمل ہے ،۔


Gold Smuggling

Gold SmugglingUploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comThanks To FikroKhabar Tv

Posted by Azmi Islamic Zone on Friday, 16 October 2015

Post Top Ad

loading...