Header Ads

Dadri Incident A Well planned Conspiracy

ناظرین!
اس شرمناک اور اندوہناک واردات کے بعد کئی سوال اُٹھے، کئی لوگوں نے اُٹھایا،کسی نے کہا کہ اگر ایسے ہی ایک جنونی بھیڑفیصلہ کرتی ہے ،آئینِ ہند ، عدالتوں اورفیصلوں کی کیا ضرورت، کسی نے کہ کہا کہ چیلنج کرکے کھائیں گے تو کوئی کیوں کر خاموش بیٹھے گا؟کسی نے اس قتل کو حادثہ بتایا کوئی میڈیا ملک کے اس سنگین ترین واردات کے بیچ ایک کٹرپنت ہندو لیڈر کی بے تکے جوابات عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرکے پرانے ایپی سوڈ کودکھا رہا تھا تاکہ اور آگ بھڑکے ۔ کوئی ایک میڈیا صرف آگ اگلنے والے مذہبی لیڈران کے بیانات دکھا دکھا کر سیاست چمکانے کا بہانہ بنا کر لوگوں کو اُکسا رہا ہے ، کوئی نان اسٹاپ پرورچن دکھا رہاہے ، کوئی پراچی کی بکواس تو کوئی ساکشی اور سوم اور دیگر لیڈران کا آگ اگلنے والا لہجہ دکھا رہاہے ، بہار میں لالو کے بیان کو پکڑ کر مسلم ووٹ بٹورنے کا الزام لگتا ہے تو یو پی میں اعظم خاں صاحب کہتے ہیں کہ اب بہت ہوگیا ، یہاں کچھ نہیں ہونے والا میں اب یواین یعنی اقوامِ متحدہ کو خط لکھ کر ہندوستانی مسلمانوں کی زبوں حالی بیان کروں گا، اور وقت دینے کے لئے انہوں نے خط بھی لکھ دیا۔ مجھے تو یہ پوچھنا ہے کہ آپ کی پولس نے یہاں تو سب کو حیران کرنے والا کارنامہ انجام دیا تھا، خاطیوں کو پکڑ لر جیل میں ڈالنے کے بجائے فریج سے گوشت اُٹھالے گئے یہ دیکھنے کے لیے کہ واقعی گوشت گائے کا تھا یا نہیں ۔ آپ کی حکومت، آپ کے چاہنے والے، آپ کے حکمراں، آپ کی پولس ،۔ سب پتہ ہے آپ کی پولس کو کہ ، کیا ہوا یہاں، سازش کیسے ہوئی ، افواہ کیسے پھیلی، مندر میں جاکر پجاری کو لاؤڈ اسپیکر پر اعلان کرنے کے لیے کس نے اُکسایا، اور لوگ کہاں سے آئے تھے، سب پتہ ہے ، مگر اسکے باوجود آپ کو سیاست کرنی ہے ، کارروائی نہیں کرنی، اب یہاں بھی وہی ہوگا، سی بی آئی جانچ ، بڑے بڑے دعوے، مہلوک کے ورثاء کو تو پینالیس لاکھ روپئے دینے کا وعدہ، ایک وقت آئے گا، کارروائی بھی نہیں ہوگی، سب بھول بسر جائیں گے، پھر اُس وقت جاگیں گے جب دوبارہ اس طرح کا سانحہ پیش آجائیگا۔یہی تو ہورہاہے یہاں۔ادھر دو دن پہلے کی کانپور کی خبر پڑھئے آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ اقلیتی طبقہ اب اپنے آپ کو کس طرح غیر محفوظ تصور کررہاہے ، میں یہاں کسی بھی پارٹی سے شکایت نہیں کروں گا، کیوں کہ ہندوستان میں اب کوئی بھی سیاسی پارٹی بھروسے کے قابل نہیں رہی ۔ اور آنے والی پارٹیوں کا بھی کوئی بھروسہ نہیں، تمام پارٹیوں کو حکمرانی کے لیے صرف اقلیتوں کا خون چاہئے ، چاہے وہ مسلمان کا ہو یا دلت کا؟ یاپھر کسی اور سماج و طبقے کا،۔ترقیات کے نعرے صرف مالداروں کے لیے ہے۔ یہاں کے غریب کو مالدار ہونے کا حق نہیں و ہ صرف برائٹ انڈیا کے خواب دیکھ سکتا ہے تعبیر کے بارے میں سوچ سکتا ہے ،مگر وہاں تک پہنچنے کے راستے کے بارے میں پوچھے گایا کسی نیتا کو اُس کاوعدہ یاد دلوائے گا تو پھرخبردار!!! یہاں ہندو مسلم کے نام پر دنگا پھیلایا جائے گا، میڈیا حکومت کے وعدوں کو ایک طرف پھینک کر یہ حساب لگانے میں جٹ جائے گا کہ کتنے مرے، کیوں مرے،کیوں ہوا، کیوں کر ہوا،کونسی پارٹی کا کیابیان ہے، اُس پارٹی کا کیا کہنا ہے ، اُس نے کیاکہا۔ اُس کے جواب میں دوسرے نے کیا کہا،۔یہ دکھا دکھا کر ہی عوام کو شش وپنج میں مبتلا کردے گی کہ کونسا صحیح اور کونسا غلط۔؟ناظرین ڈیجیٹل انڈیا کی حقیقت بتاؤں! ابھی دو دن قبل ہمیر پور ضلع میں بدھ کی شام مند جارہے ایک دلت بزرگ کو جس کی عمر قریب 92کے قریب ایک اعلیٰ ذات کا شرابی اس وجہ سے مار مار کر اس کو زندہ جلادیتا ہے کہ وہ ایک مندر میں جانا چاہتا ہے ، مگر میڈیا اس کو نظر انداز کردیتا ہے ان کو اس غریب سے کیا لینا دینا؟دو جنور ی 2015کو Vasant Kunj، دہلی میں ایک چرچ کو توڑ پھوڑ کر نقصان پہنچایا دیا جاتا ہے ، اسی تاریخ کوجھارکھنڈ کے Barharwa، صاحب گنج میں 1000سے زائد لوگوں کی ایک بھیڑ، مختلف مذہبی نعروں کے ساتھ، گائے کا گوشت کھانے والے واپس جاؤ، ہم تمہارے عیسائی مجسموں کو توڑیں گے وغیرہ نعرے لگاتے ہوئے ایک عیسائی اسکول کے احاطے میں گھس جاتے ہیں پھر اینٹ اور پتھر سے حملہ کرکے اسکول اور چرچ کے املاک کو نقصان پہنچاکر بھاگ جاتے ہیں، دس جنوری کو گورکھپور پارلیمانی حلقہ کے رکن پارلیمان یوگی جی واراناسی میں کہتے ہیں کہ وہ ہر مسجد میں گوری گنیش کی مورتی نصب کرکے دکھائیں گے، Palnamkuppam، اسی سال تمل ناڈو کے ترباپور میں ایک عیسائی پادری کو چرچ سروس کا انعقاد کرنے کے جرم میں ایک ہجوم نے ملکر اس کی پٹائی کردیتا ہے ، کرناٹک کے ساحلی علاقے سرتکل کی مسجد پر پتھراؤ ہوتا ہے، اسی سرتکل میں فیس بک پر تصویر ڈالنے پر govinda dasa college کے طالب علم اور اس کے ساتھیوں کی بری طر ح پٹائی کردی جاتی ہے۔اسی سال پچیس فروری کو خوشی نگر ضلع ، Madhopur گاؤں میں مبینہ طور پر 150مسلم خاندان اپنے گھر چھوڑ کر چلے گئے۔ اُن کو اس بات کا ڈر تھا کہ زمین تنازع معاملے میں بی جے پی ، رکن پارلیمان یوگی آدتیا ناتھ کی تنظیم یوا واہنی ردعمل کے طور ان پر حملہ کردے گی۔ اسی سال یکم مارچ کومنگلور میں انعقاد کئے گئے ہندو سماج اتسوا اجلاس میں سادھوی سرسوتی مشرا کہتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہندو لڑکی کی طرف دیکھے گا اس کی آنکھیں نکال لی جائیں گی۔ مہاراشٹر میں جب مسلمانوں کے لیے ریزریشن کی مانگ ہوتی ہے توایک لیڈر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شیو سینا کہتی ہے کہ مذہبی بنیاد پر ریزرویشن چاہئے تو وہ پاکستان چلے جائیں۔ناظرین! کیا کیا بتاؤں آپ کو میں یہ تو وہ سانحہ ہے جو دنیا نے دیکھا اور اس لئے دیکھا کہ یہ اپنی سنگینی میں سبھی حدیں پار کرچکا تھا، ایک سال کے عرصے میں اگر فرقہ پرست تنظیمیں اتنی بے باک ہوسکتی ہیں تو میں مذہب کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ ایک انسانیت کے ناطے ہر ہندوستانی سے پوچھتا ہوں کہ یہ سب کیا صحیح ہورہاہے ، اور جب اس طرح کے بھاشن آتے ہیں تو میڈیا آخر اس کو اتنا بڑھا چڑھا کر جلتی میں تیل کا کام کیوں کرتاہے، آخر وہ فرقہ پرست تنظیموں کے ناپاک مقاصدکو کامیاب کرانے پر کیوں تلا ہوا ہے ؟؟


Dadri Incident A Well planned Conspiracy

Dadri Incident A Well planned Conspiracy Seedhi Baat With Ansar Azeez Nadwi | FikroKhabarTv Uploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comThanks To FikroKhabar Tv

Posted by Azmi Islamic Zone on Sunday, 11 October 2015
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.