تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

منگل، 6 اکتوبر، 2015

Asaduddin Owaisi and Bihar Election

ناظرین ان تمام چیزوں کو دیکھنے کے بعد ایک بات واضح ہوجاتی ہے کہ جولوگ دوسروں سے ڈراتے ہیں وہ لوگ سامنے سے نہیں پیچھے سے وار کرتے ہیں اور کچھ لوگ سامنے سے دشمنی کا اعلان کرتے ہوئے کھوکھلا کردیتے ہیں، ایک طرف ووٹوں کا استحصال ہوتاہے ترقیات نہیں دوسری پارٹیاں، اپنے آئیڈیالوجی کو زبردستی تھوپ کر ہم سے ہمارا ایمان ہی چھین لینا چاہتے ہیں،نقصان دونوں جانب اقلیتوں کا ہی ہے ، اب ایسے حالات میں ہندوستان کی سیاسی تاریخ کو دیکھنے کے بعد واقعی یہ مشکل ترین امر ہے کہ حق رائے دہی کا استعمال کریں بھی تو کسے کریں؟؟ اس بیچ اگر فرق کیا جائے تو پہلے مرحلے میں ہمیں ہمارا ایمان بچانا ہے ، ایک پارٹی تو ویسے ہی غائب ہوجائے گی ہماری فہرست سے ۔ دوسری پارٹی ہمیں تحفظ کے نام پر اقتصادی اور تعلیمی پسماندگی میں پیچھے دھکیل رہی ہے ۔ ایسے حالات میں یہ پارٹی اُس وقت ہم اختیار کرسکتے ہیں جب ہمارے پاس دوسرا کوئی متبادل نہیں ، اگر کوئی ایسا متبادل ہے تو پھر اس متبادل کو ہی اختیار کرنا ہمارے لئے سود مند ہوگا یا بہتر ہوگا، واللہ اعلم بالصواب۔۔ناظرین! اگر ہندوستان کے سیاسی حالات پر شمال سے جنوب تک ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ بات صاف طور پر نظرآتی ہے کہ اگر مسلمان پہلے ہی سے سیاست میں دلچسپی دکھایا ہوتا تو آج شمالی ہندوستان میں شاید ہی کوئی مسئلہ حل ہوئے بغیر بچا رہتا ۔کیونکہ ہندوستان کے مسلمانوں نے ہمیشہ سیکولر جماعتوں کا ساتھ دیا ہے۔اور کسی بھی طبقہ یا سماج سے ہو اس کو اپنالیڈر تسلیم کیا۔لیکن سب سے زیادہ فرقہ پرستی کا شکار مسلمان شمالی ہندوستان میں ہی رہا ۔مالی و جانی نقصان کا تو اندازہ ہی نہیں،غریبی اور جہالت میں توشمالی ہندوستان کا مسلمان اول نظر آتا ہے۔فرقہ پرستی ہرریاست میں ہے مگر جتنا یہاں ہے شاید ہی کسی اور ریاست میں۔تو ایسے حالات میں کوئی آپ کو جھنجھوڑنا چاہتا ہے ، سیاسی بیداری لانا چاہتا ہے تو کیا فرق پڑتا ہے ، آپ بہترین مستقبل اور تحفظ کے چکر میں ساٹھ سال تک ووٹ کرتے رہے اور آپ کے دامن میں کیا آیا، وہی پسماندگی ، وہی ناخواندگی، اور تحفظ کے نام پر ،جلے ہوئے گھر بار، لٹی ہوئی عصمتیں،روتے بلکتے بن باپ کے بچے ، ٹوٹی پھوٹی چولہے پر چڑھی ہانڈیاں جو دال اور چاول کا انتظار کررہی ہیں، کچھ مسلم نیتا ہیں جن کو ان تمام مسائل کو نہ سننے کی فرصت ہے اور نہ سنانے کی۔ایسے حالات میں کوئی آواز دیتا ہے تو لبیک کہنے کے بجائے ہم کچھ مطلب پرست، سیاسی تاریخ سے ناآشنا ، قومی و ملی مفاد سے لاپرواہ لوگوں کے تبصروں پر آجاتے ہیں، منفی سوچ کے حامل یہ لوگ اپنی تحریر اور تقریروں کے ذریعہ حوصلہ دینے کے بجائے قوم کو مزید پست کرنا چاہتے ہیں، چھوڑئے بھائی،۔۔کبھی اپنی بھی سنو، کبھی اپنے دل کی بھی مانو، وہ کرو جو آپ کا ایمان کہتا ہے ، اور مجھے پتہ ہے آپ کو آپ کا ایمان کبھی مایوسی اور ڈر اور خوف نہیں سکھاتا، نام نہاد سیکولرازم کے چکرمیں کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے اندر ازل سے موجود قائدانہ صلاحیت ہی کہیں تاریخ کے پنوں میں گم ہوجائیں اور آنے والی نسلیں ہمیں کوستی رہ جائیں ۔ ناظرین آج جذبات نہیں عقل چاہئے۔ احتجاج نہیں اہتمام چاہئے۔ سیاسی حیثیت اور وقار کی ضرورت ہے، آسام ،مغربی بنگال ،بہار اور یوپی ،کرناٹک بلکہ تمام ریاستوں میں میں تعلیمی رجحان اقتصادی ترقی ،سیاسی شعوراور ایک سیاسی ذہنی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔ کہیں کہیں بیداری آچکی ہے ، کوئی ایک سرپھرا اپنا قافلہ لے کر چل نکلا ہے ، لو گ جڑرہے ہیں، کامیابی اور ناکامی کی فکرچھوڑیں، قافلے سے جڑیں، ویسے بھی ہم نے اب تک کئی ایک کو کامیاب کیا، کیا ملا؟ اب اپنی کشتی کے خود ملاح بن جائیں تو بات بنے، میرے عزیزو ! بلا شبہ ساٹھ برس جسنے بھی حکمرانی کی، تمہاری تعلیمی، معاشی اور ملّی مسائل کو حل کرنے میں اُس نے دلچسپی نہیں لی۔ 1947ء کے بعد سے ہندوستانی مسلمانوں کی مسلسل حق تلفی ہورہی ہے اور ہ ستائے جارہے ہیں۔ایسے میں کوئی آپ کو اپنا ایک خواب دکھاتا ہے تو کیوں نہ اُمید باندھ کر ایکمشت بن کر اس کی آواز کی طرف لپکے، خواب کی تعبیر کبھی پوری ہوتی ہے کبھی نہیں ، اس فکر میں کہیں ایسانہ ہوجائے کہ ہم واقعی سنہرا موقع ہاتھ سے گنوا بیٹھے ۔ ویسے بھی کھونے کے لئے ہمارے پاس بچا ہی کیا ہے کہ ہم فیصلے لینے میں تردد کریں۔ ناظرین سوچئے میں کیا کہہ رہاہوں شاید کوئی بات بن جائے۔



Asaduddin Owaisi and Bihar Election

Asaduddin Owaisi and Bihar Election

Posted by Azmi Islamic Zone on Thursday, 1 October 2015

Post Top Ad

loading...