تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 5 ستمبر، 2015

The Role of Madrasa in pre and post Independent India Complete

یہ جتنے بھی لوگ آج مدرسہ مدرسہ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں، یہ دراصل مدارس کی ترقیات نہیں چاہتے، یہ چاہتے ہیں کہ مدارس ان کے کنٹرول میں آجائے، تعلیم ا ن کے کنٹرول میں آجائے تاکہ جب جب بھی حکومتیں بدلے وہ ان طلباء کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کرے، اور تعلیمی نصاب کو کھوکھلا کرکے تعلیم کے اصل روح کو نکال کر پھینک دیں، آج پوری دنیا کے مدارس اور عصر ی درسگاہوں کا موازنہ کیا جائے تومعاشرے کو بہترین افراد اور شہری اگر مہیا کررہے ہیں تو وہ یہی مدارس ہیں۔کہتے ہیں یہاں انگریزی نہیں پڑھائی جاتی، تو پھر مدرسہ میں لغویات کا جو سبجیکٹ ہے وہ کس چڑیا کا نام ہے، کہتے ہیں یہاں کمپیوٹر کی تعلیم نہیں دی جاتی تو پھر ملک کے مختلف مدارس میں کمپیوٹر کے جو الگ الگ سیکشن بنائے گئے ہیں تو پھر اس کاکیا نام ہے ، کہتے ہیں ، یہاں میتھ میٹکس نہیں پڑھائی جاتی تو پھر ریاضی کی جو کتابیں مدارس میں پڑھائی جارہی ہیں کیا اس کو آگ لگادیں، کہتے ہیں یہاں ماحولیات، معاشیات کی تعلیم نہیں دی جاتی، تو پھر قرآن کی تفسیر کے دوران، آسمان، ستارے، چاند ، سیارے، زمین، جغرافیہ و دیگر چیزوں کی جوتعلیم دی جاتی ہے وہ کیا ہے ؟ کہتے ہیں تاریخ نہیں پڑھائی جاتی ، تو پھر کیا احادیث میں مذکورہ مدلل واقعات ، تفسیر کے دوران پڑھائے جانے والی گمراہ قوموں کی تاریخ، وہ تاریخ نہیں ہے ، او رپھر تاریخ کے نام سے ہی الگ موضوع میں الگ الگ اقوام کی جو تاریخیں پڑھائی جاتی ہیں، وہ تاریخ نہیں ہے ؟ کیا حکومت کو خوش کرنے والی، اور مسخ شدہ تاریخ کا نام ہی تاریخ ہے ؟۔کہتے ہیں سائنس نہیں پڑھائی جاتی، بھلا بتاؤ جس نے اس کائنات کو بنایا وہ ہمیں قرآن کے ذریعہ ،دنیا کو کیسے وجود میں لایا،بادلوں کے ہیرا پھیری کے راز، موسموں کے بدلاؤ کا انداز، سال، مہینے ،ہفتے اور ایام کے گذرنے کے اوقات دنیا کے آغاز سے انجام تک کی پوری داستاں سنائی ، بھلا بتائیے اس سے بھی بہتر کوئی سائنس سمجھا سکتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ طب نہیں پڑھائی جاتی ، بھلا بتائیے طب نبوی سے بھی بڑی کوئی میڈیشن ہوسکتی ہے ۔ کہتے ہیں مارکیٹنگ نہیں ہوتی ، جو شخص مسواک کے بیس فائدے ایک ییٹھک پر سنا سکتا ہو، جو آخر ت ، جنت اور جہنم کی تصویرکشی ایسے کرسکتا ہے جیسے سامنے موجود ہو، وحدت الوجود کو بیان کرکے سامنے والے کو متاثر کرسکتا ہوبھلا بتاؤ وہ سامنے موجود ایک سافٹ ویر، اور دکان کی اشیاء کی مارکیٹنگ نہیں کرسکتا۔ جو اسماء الرجال جیسے سبجیکٹ کو پڑھتا ہو بھلا بتائیے اس کے لیے تاریخ کوئی نئی چیز ہوگی، جو سراجی، قدوری اور ہدایہ پڑھ کر وراثت اور میراث کے ایک ایک جزء کو یاد رکھتا ہو، حج کے ارکان و فرائض کو یاد رکھتا ہو،حقوق العباد کے مسائل کو بیان کرسکتا ہو، بھلا بتائیے اس کو ریاضی سمجھنے میں کوئی دشواری ہوگی۔ جو فقہ کی اتنی موٹی موٹی کتابیں پڑھتا ہو بھلا بتائیے وہ ایک کامیاب وکیل نہیں بن سکتا، مخارج کے ساتھ جو عربی بول سکتا ہو بھلا بتائیے اس کے لیے انگریزی جیسی آسان زبان نہیں بول سکتا یا لکھ نہیں سکتا...تعجب ہے!! ،،حقیقت یہ ہے کہ یہاں سب کچھ ہے مگر آپ کے آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے ۔ گھر میں داخل نہیں ہوئے، دیکھا ہی نہیں کہ اندر کیا ہے اور باہر سے ہی واویلا کرنے لگے، کہ یہ نہیں ہے وہ نہیں ہے، پہلے اندر آؤ تو صحیح، جانچو تو سہی، مدرسہ کے فارغ کا امتحان لو تو صحیح، پھر آپ کی ہر بات قبول کرلیں گے۔ ناظرین!مجھے یہ بتائیے کہ آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جو اُستاد احمد لاہوری کا نام جانتے ہیں، ان کی وفات 1060ہجری میں ہوئی اور یہ دہلی کے جامع مسجد اور لال قلعہ جب تعمیر ہورہاتھا تو اس وقت چیف آرکیٹیکٹ یعنی معمار تھے، یعنی جامعہ مسجد اور تاج محل کا فائنل ڈیژائن انہوں نے کیا تھااور جانتے ہووہ کس یونیورسٹی سے فارغ تھے۔ یہ مدرسہ ملا عبدالسلام لاہور سے فارغ تھے یعنی، مدرسہ کے فارغ، اچھا ایک اور نام پیش کرتا ہوں، علی مردان خان ،ان کی وفات 1067میں ہوئی ، پتہ ہے انہوں نے لاہور کا مشہور شالیمار گارڈن بنایا تھا اور یہ بھی مدرسہ کے ہی عالم اور فاضلِ دین تھے، اچھا آپ خیر اللہ خان دہلوی کو جانتے ہیں، ان کی وفات 1161میں ہوئی انہوں نے آبزرویٹری جو آج کل دہلی میں جنتر منتر کے نام سے مشہور ہے اس کو تعمیر کیا تھا، یہ بھی مدرسہ کے فارغ تھے۔ اُستاد رومی خان کا کارنامہ سنیں گے تو آپ حیران رہ جائیں گے ان کی وفات 937ھ میں ہوئی اور بابر کے زمانے میں انہوں نے سب سے پہلے جنگی توپ کو بنایا تھا۔...بھلا بتاؤ آپ طلباء کو یہ تاریخ نہیں پڑھائیں گے اُلٹے سے مدارس کے تعلیم پر ہی اُنگلی اُٹھائیں گے؟؟صحیح تاریخ بغیر مسخ کئے طلباء کو بتائیں گے تو ایسے کئی تاریخ اور حیرتنا ت واقعات اور کارنامے ہیں جو انہی مدارس کے فارغین نے انجام دیا ہے ۔ ناظرین! یہ ہے حقیقت! مدارس پر اس کے نظام پر، اس کے نصاب پر اُنگلی اُٹھانے سے یہ سوچ لیں کہ جن مدارس کی تاریخ روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں، جن کے طلباء اور فارغین نے اس ملک و ملت کی خون سے آبیاری کی اور بہترین معاشرہ کی تشکیل کے رات دن جدو جہد کی آپ انہی کے ساتھ کیسا برتاؤ کررہے ہیں؟ تعلیم ہونا چاہئے ، تعلیم کا مقصدصرف ترقیات ہی نہ ہو؟؟تعلیم کا اصل مقصد انسان کو انسان کی پہنچا ن کرانا اور اُس کے ربِ حقیقی سے اُس کو ملانا ہو تو پھر بات بنے...آج تعلیم کے ساتھ اگر جرائم میں اضافہ ہورہاہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ہم اخلاقیات سے کوسوں سے دور ہوتے جارہے ہیں اور اپنے معبود کا ہمیں ڈر اور خوف نہ رہا۔۔۔

حصہ اول

The Role of Madrasa in pre and post Independent India Part 1
Uploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comThanks To FikroKhabar Tv
Posted by Azmi Islamic Zone on Thursday, 20 August 2015


حصہ دوم
The Role of Madrasa in pre and post Independent India Part 2
The Role of Madrasa in pre and post Independent India Part 2Uploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comThanks To FikroKhabar Tv Part -1 Facebook Link: https://goo.gl/x86HnYPart -2 Youtube Link: https://goo.gl/ygWMvq
Posted by Azmi Islamic Zone on Friday, 4 September 2015

Post Top Ad

loading...