تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 28 ستمبر، 2015

The Real threat to India's democracy

آپ ہندوستان کی اس پینسٹھ سالہ دور میں پلٹ کر دیکھیں گے تو آپ کو یہی ملے گا،یہی وجہ ہے کہ کئی تبصرہ نگار، تنقید نگار ہندوستان کی تاریخ پر نظر رکھنے والے لوگوں نے جو کسی سیاسی پارٹی کے حامی نہیں ہے ان کا تبصرہ یہی کہتاہے اورہم بھی اگر سوچیں گے تو یہی ملے گا ہمیں ، ناظرین! یہ مقولہ مشہور ہے کہ بدترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے ، اکثر یہ مقولہ دہرایا جاتا ہے ، مگر سوال یہ ہے کہ جسے بدترین جمہوریت کہا جاتا ہے کیا وہ جمہوریت ہی ہے یا کچھ اور،شخ۔۔۔ی جمہوریت اور خاندانی جماعتوں کو جمہوریت کا نام دینا جمہوریت کے منھ پر ایک طماچہ ہے، کوئی بھی نظام اُس وقت کامیاب ہوتا ہے جب وہ اپنی شکل میں ہوتاہے، مگر یہاں تو جمہوریت کے نام پر اقلیتوں کا، دلتوں کا، پسماندہ اقوام کا استحصال کیا جارہاہے ، اور ملک کے کچھ امیرترین لوگ جمہوریت کے تمام ستونوں پر قابض ہوچکے ہیں، ہرطرف سکوں کی جھنکارسنائی دیتی ہے، ایک قوم کو پوری طرح مغلوب کرنے اور اس کی مذہبی آزادی کو چھیننے کے لیے میڈیا میں ڈبیٹ کروائے جارہے ہیں اور مخصوص ذہن کے افراد کو اس میں شرکت کی دعوت دے کر اپنے عقلی فلسفوں سے عام عوام کے ذہن میں یہ زہر بھرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مذہبی آزادی کوئی معنیٰ نہیں رکھتی بلکہ اکثریتی طبقہ جو چاہتاہے وہی ہونا چاہئے ۔ آپ کو میں آسانی سے سمجھاتا ہوں کہ اصل آغاز کیسے کیا جاتا ہے ۔مثلاًپہلے کوئی سوشیل میڈیا پر بیان دیتا ہے کہ مدارس میں فلاں تعلیم نہیں ہے، ایک شخصی رائے اب قومی رائے بن جاتی ہے ، وہ میڈیا جس پر قبضہ یہودیوں کا ہے جو ازل سے مسلمانوں کے دشمن ہیں، اب انکا قبضہ ہندوستانی میڈیا پر بھی ہوچکا ہے ، وہ اس اشو کو اُٹھاتاہے، پھر سارے کہ سارے چینل الگ الگ انداز میں بھڑکاؤ سرخیوں کے ساتھ سامنے آجاتے ہیں، اور ڈبیٹ کے لیے کچھ سیاسی افراد اور کچھ سماجی کارکن اور کچھ تعلیم کے اسپیشلٹ کو بلایا جاتا ہے ، اور یہ لوگ عوام کی ذہن سازی کرنا شروع کردیتے ہیں اور اب یہ ڈبیٹ تعلیمی مسئلہ کو چھوڑ کر مسلم اور مدارس مخالف بن جاتا ہے، اس کے بعد یہاں دہشت گرد،پیداہوتے ہیں، بنیاد پرست ہوتے ہیں، وہ جمہوریت کو قبول نہیں کرتے، پتہ نہیں کیا کیا بکا جاتا ہے پھر تین چار دن تک یہ اشو اس طرح اُچھالاجاتا ہے کہ حکمران بھی آجاتے ہیں اور پھر یوں حکومت اب فیصلہ لیتی ہے کہ نہیں اب اس میں وطن پرستی اور ترقیاتی چیزوں کو ضم کیا جائے۔ سوریہ نمسکار کوضروری قرار دینے یوگا جو ایک مذہبی عبادت ہے اس کو ورزش قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کی ذہن سازی کے لیے بھی میڈیا کا سہارا لیا جاتا ہے، تاکہ مخالف میں جو زبانیں اُٹھے ان کو دبایا جائے، بیف پر پابندی کے لیے آزادی رائے کا حوالہ دے کر گؤ کشی اور گائے ماتا کے قتل کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ماحول سازگار کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر پابندی کا قانون لاگو کردیا جاتا ہے ، اس سے نقصان مسلمانوں کی معیشت پر ہوتی ہے۔ اب آپ خود دیکھئے، ہریانہ، کشمیر مہاراشٹرا وغیرہ میں کیسے راتوں رات پابندی عائد کردی گئی، مسئلہ گوشت کھانے یا نہ کھانے کانہیں بلکہ وہ لوگ جانتے ہیں کہ اس تجارت سے مسلمان طبقہ براہِ راست جڑا ہوا ہے ، اور اسے کروڑہا کروڑ کی آمدنی ہوتی ہے ، اس پر پابندی لگاؤ یہ لوگ خود بخود معیشت میں پیچھے آجائیں گے۔ جو لوگ مسلمانوں کی ترقیات کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں ان کی اصل حقیقت یہ ہے کہ بھری محفل میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے اور ان کی ترقیات کے گن گاؤپھر دیمک کی طرح ان کواندر ہی اندر سے کھوکھلا کرتے چلے جاؤ۔ تازہ مثال دیکھئے کہ کس طرح کی خطرناک سیاست نئی دہلی میں ڈاکٹر عبدالکلام اور اورنگ زیب عالمگیر کو لے کر کی گئی ، اب ایک کی حمایت کریں گے تو دوسرے کی مخالفت اور دوسرے کی حمایت کریں گے توپہلے کی مخالفت،جب کہ فرقہ واریت کا ذہن رکھنے والے لوگ ہمیشہ سے وہ مسلم حکمراں جو سیکولر رہے، جن کی وجہ سے ملک ترقی پر گیا، اور پھر ہندو مسلم بھائی چارگی کی مثال پیش کی ان کی تاریخ کو مسخ کرکے ایک نیا تنازعہ کھڑا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اور اس کی پہلی مثال یہی ہے، جب کہ اورنگ زیب کے خلاف فرقہ پرستوں نے پہلے ہی سے ان کو بدنام کرنے کی سازشیں رچتے رہے ہیں، اور اب اس کے پھیلاؤ کے لیے میڈیا اور حکومت کا سہارا لے رہے ہیں، جب کہ ڈاکٹر عبدالکلام مرحوم کا نام کسی نئے تعمیر راستے پر یا پھر دہلی میں کئی ایسی سڑکیں ہیں جو آج بھی انگریزو ں کی غلامی کی تصویر بنے ہوئے ہیں وہاں رکھ سکتے تھے، مگر اسی کو منتخب کیا گیا تاکہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔اورنگ زیب عالمگیرؒ اُن بدعنوان سیاست دان اور حکمرانوں کے لئے طماچہ ہیں جنہوں نے اقتدار کو دولت کے حصول کا ذریعہ بنایا کیوں کہ یہ وہ باشاہ ہے جومغلوں کی حکومت میں پچاس سال طویل بادشاہت کی اور پھر اس کے باوجود وہ سرکاری خزانوں سے ایک روپیہ نہیں لیا بلکہ قرآن مجید کی کتابت اور ٹوپیوں کی سلائی سے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے وصیت کردی تھی کہ ان کی تجہیز و تکفین بھی اسی رقم سے کی جائے، کسانوں سے ٹیکس وصول کرنے کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کو ختم کرنے والے یہی پہلے باشاہ تھے،۔ان کا ایسا دربار ہوتا تھا کہ ہر عام و خاص بلا جھجک آسکتا تھا اور پھر دن میں دو تین بار عوام کے لیے دربار کھول دیا جاتا تاکہ اپنی حوائج و ضروریات کو عوام باشاہ کے سامنے رکھ سکے۔ یہاں تک کے رشوت خوری اور بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے انہوں نے تمام وزراء اور حکومت کے کارندوں پر کسی بھی قسم کا نذرانہ قبول کرنے پر پابندی عائد کردی تھی ۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ہندو سماج میں ستی کا رواج عام تھا یعنی اگر شوہر کا انتقال ہوتا تو پھر عورت کو بھی شوہر کے چتا کے ساتھ زندہ جل جانا پڑتا، ، عالمگیرؒ نے اس کو مذہبی سمجھ کر کبھی مداخلت نہیں کی مگر اس رواج کو ختم کرنے کے لیے اصلاح اور ذہن سازی کا طریقہ اختیار کیا اور کہا کہ عورتوں کو اس بارے میں سمجھایا جائے ۔

The Real threat to India's democracy

The Real threat to India's democracyUploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comSeedhi Baat With Ansar Azeez NadwiThanks To FikroKhabar Tv

Posted by Azmi Islamic Zone on Friday, 18 September 2015

Post Top Ad

loading...