Header Ads

Syrian Refugee Crisis

ناظرین! کس سے شکایت کریں؟ شام، یمن، عراق، فلسطین اور برما پر میری الگ الگ عنوان سے سیدھی باتیں آچکی ہیں وہاں میں نے کئی حقائق کو سامنے رکھا بھی تھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی اس حالتِ زار کے ذمہ دار کون ہیں، اور آخر شکایت کریں بھی تو کس سے کریں؟ مالک الملک سے کرتے ہیں تو ہمارے اعمال اتنے کھوکھلے ہوچکے ہیں اور ہم خود اتنے دنیا پرست،مطلب پرست اور اخلاق سے عاری ہوچکے ہیں کہ گناہوں کے اس انبار کولے کر اللہ سے دعا تو کرسکتے ہیں مگر قبولیت کے نہ ملنے پر شکایت نہیں کرسکتے کیوں کہ ہمارے اعمال اُس لائق نہیں ہے۔ حقیقت پر نظر کریں تو دل کہتا ہے کہ ضرور ہم پچاس سے زائداُن ممالک کے رویوں پرماتم کریں جواسلامی یا مسلم ملک سمجھے جاتے ہیں،جن کا سرکاری مذہب اسلام ہے ۔،کیایہ ممالک شام و عراق سمیت دیگر ملکوں کے مظلوم ،نہتے، بے یارومددگار مسلمانوں کے لیے کچھ نہیں کر سکتے،؟ ناظرین تاریخ کے پنوں کو جب میں نے پلٹ کر دیکھا توہسپانیہ کی تاریخ نے مجھے ایک طرف حیران کردیا تو دوسری جانب نمناک، یہ ایسی تاریخ ہے کہ جتنی بھی بار پڑھی جائے کم ہے اور حالیہ دنوں میں تو ہر مسلمان کو بلکہ ہر عرب کو پڑھنا ضروری ہے تاکہ وہ تاریخ سے تو کچھ سبق حاصل کرلے ۔ ہسپانیہ کی آٹھ سوسالہ تاریخ بھلائے نہیں بھولتی ،مگر اس کے انجام کی خوفناک تاریخ ہماری تمام تر خوشیوں کو ملیامیٹ کردیتی ہے ۔ خوشی کے آنسوؤں کو خون میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی ، جب یہ جملہ کہاجائے کہ ایک نااہل اور عیش پرست حکمراں کے سبب غرناطہ پر مسلمانوں کا آٹھ سوسالہ دور اقتدار ختم ہوگیا تھا ۔ 806 سالوں کے بعد قلعہ الحمراء کے سب سے اونچے برج سے ہلالی پرچم اتار کر صلیب لٹکا دیا گیا تھا ۔اورمسلمان اپنے گھروں کا دروازہ بندکرکے اپنے نااہل حکمرانوں کی عیش پرستی کے سبب اپنی بے بسی اور بدنصیبی کا ماتم کررہے تو خون منجمد ہوجاتاہے ، تاریخ کے پنوں پر اعتماد اور یقین کرنا مشکل ہوجاتا ہے مگر!! ہم اپنے آئینے کے عکس کو جھٹلا نہیں سکتے ، تاریخ میں لکھی گئی تحریر کو بھول نہیں سکتے ،حقیقت یہی ہے کہ اسی عیش پرستی نے اندلس کے آٹھ سوسالہ اسلامی دور کو ختم کرکے مسلمانوں کو غلامی کے دور سے آشنا کردیا تھا۔ فرنانڈیز جس نے اندلس پر قابض ہوا تھا اس نے مسلمانوں پر قیامت برپا کردیا تھااور اعلان کیا تھا کہ مسلمان یاتو یہاں سے ہجرت کرجائیںیامرتد ہوجائیں یا پھر مرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ ان حالات میں جن مسلمانوں نے مراکش کی جانب ہجرت کیا ان کو بھی بیچ راہ میں قتل کردیا گیا۔ان مہاجرین میں سے اکثر لوگ جو بے سرو سامان تھے سمندر ی موجوں نے ان کو نگل لیا، اور آج کی تصویریں بھی وہی مناظر پیش کررہے ہیں اور جنہوں نے عیسائی مذہب اختیار کیا پتہ ہے کیا ہوا ان کے ساتھ ؟؟اُن کو منافق قراردے کر قتل کردیا گیا ۔ ابو عبد اللہ، اس کاچچا سلطان الزغل اور حکومت کے وہ افسران جنہوں نے ضمیر کا سوداکیا تھااور فرنانڈیز کا ساتھ دیا تھاان کے ساتھ فرنانڈیز نے ایسا سلوک اپنایا کہ تاریخ کے پنے اس لاچاری کے آج بھی گواہ بنے ہوئے ہیں۔اُس نے کہا تم سے جو مطلب نکالنا تھا نکال چکے ،تمہارے اپنوں سے تمہاری غداری اور چاپلوسی کا ہم صرف اتنا انعام دے سکتے ہیں کہ تم کو زندہ ہجرت کرنے کی اجازت دیں ۔ناظرین ایک طرف یہ تاریخ تو دوسری جانب ہماری ایک تاریخ ایسی بھی تھی کہ اگر ایک مسلمان بیٹی دریائے سندھ سے مدد کے لئے آواز لگاتی تھی،توکوفہ و دمشق تک وہ آوازپہنچتی اور اس ایک بیٹی کو بچانے کے لیے پوری فوج روانہ ہوجاتی ،مگر آج روزانہ تناسب کے حساب سے سینکڑوں مائیں ، کئی بیٹیاں، کئی نہتے نوجوان، کئی معصوم بچے ہر دن مررہے ہیں، بے گھر ہورہے ہیں، سمندر میں ڈوب کر جان دے رہے ہیں ، بشار کی گولیوں سے بھونے جارہے ہیں ، یہودی ظالم فوج کے ہاتھوں ہر دن ظلم ہورہاہے ، دہشت گردی کومٹانے کے نام پر امریکہ اور اس کے حواری ہر دن کئی ملکوں میں درون کا سہارا لے کر معصوموں کے جان کے ساتھ کھیل رہے ہیں مگرکسی تک آواز نہیں پہنچتی ۔جب کہ عالمی آبادی کا غیر معمولی حصہ ہمارا ہے ،قدرتی وسائلِ معیشت سے مالامال ہیں،دنیاکے زرخیزخطوں کے مالک ہیں، مگر اس کے باوجود، سب سے مظلوم، سب سے مقہور،بے وقار، و اعتبار، کوئی قوم ہے تو وہ ہماری قوم ہے ۔شام میں جنگ کے شعلوں کو بھڑکے پورے پانچ سال مکمل ہورہے ہیں ، ظالم بشار کی فوج مسلمانوں کے خون سے پورے ملک کو خون سے تر کرچکی ہے، دسیوں لاکھ انسان جاں بحق، ہزاروں کی تعداد شامی بے گھر ہوچکے ہیں۔ابھی مصروعراق،یمن، افغانستان، فلسطین ،صومالیہ ،کے حالات کیسے ہیں،اس سے بھلا ہم میں سے کون ناواقف ہوسکتا ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ سارے مشرقِ وسطیٰ میں قیامت سے پہلے ہی ایک قیامت برپاہوچکی ہے۔ہرچہارجانب ہاہاکار،انسانوں کاخون پانی سے بھی زیادہ ارزاں ،ظالم اپنے ظلم میں بے باک اورمظلوم کی حالت ہرلمحہ ابترسے ابتر....بے چارگی وبے بسی کے ایسے عالم میں میں مسلم ممالک کے حکمرانوں کا رول کیا ہے پتہ ہے ؟؟عیش و عشرت کے دلدادہ،شیخی بگھارنے والے،عوام کی دولت پر عیش کرنے والے ،ڈکٹیٹر شپ کے دلدادہ، جمہوریت کا خون چوسنے والے،حکومت کواپنے آباء و اجداد کی جاگیر سمجھنے والے،اسلامی تحریکوں پر پابندی لگانے والے، دولت و ثروت کومسلمانوں کی بہتری میں صرف کرنے کے بجائے پلوں کی تعمیر، آسمان سے بات کرتی بلند عمارتوں کو بنانے،شاہی محلات کی تزیین کرنے میں خرچ کرنے والے اورشراب و شباب کے دلدادہ ۔اس کے علاوہ آپ کو ان حکمرانوں میں کچھ اور نظرآتا ہے ؟؟

Syrian Refugee Crisis

Uploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comSeedhi Baat With Ansar Azeez NadwiThanks To FikroKhabar Tv

Posted by Azmi Islamic Zone on Thursday, 10 September 2015
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.