Header Ads

The Political Controversy on Beef And Mutton

.. ناظرین ایک بات آپ بخوبی جان لیں کہ انسانی عقائد کو گمراہ کرنے اور وحدانیت سے سے انسانیت کی نیت بھٹکانے کے لیے شیطان نے توہمات پرستی کا سہارا لے کر عقائد کو کھوکھلا کیا اور انسان کی نس میں توہم پرستی کو بھر دیا تھا، مگر اسلام وہ مذہب ہے جس نے اس کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکنے اور کائنات کا نظام اللہ رب العز ت کے اشاروں سے چلنے کا مستحکم اور ٹھوس عقیدہ انسانیت میں لانے کے لیے کم و بیش لاکھوں انبیاء کرام کو اس دھرتی پر بھیجا۔صرف اسلام ہی ہے جو انسانیت کو سیدھی راہ دکھایا اور اوہام پرستی و توہمات سے نکال کر ایک شاف و شفاف معاشرہ دنیا کے سامنے رکھا۔ انہی انبیاء میں سے ایک نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے ، جو بت فروش کے گھر پید اہوئے وحدانیت کا سبق دنیا کو پڑھایا ایک اللہ کے سامنے جھکنے کا پیغام سب کو سنایا، اس بیچ جو تکالیف پیش آئی وہ قرآن و حدیث میں درج ہیں، وہ چاہے زندہ آگ کے حوالے کرنا ہو یا پھر کئی سالوں کی اُمید کے بعد پید اہونے والے اپنے لختِ جگر،شیرخوار بچے کو اور اپنی اہلیہ کو عرب کے چٹیل میدان ،صفا و مروہ کی گھنے جنگلات و گھاٹی میں چھوڑ کر تبلیغ کے لئے اللہ کے اشارے پر نکل جانا۔ یہ وہ اللہ کی جانب سے امتحانات تھے جس میں ابراہیم علیہ السلام نے کامیابی حاصل کی ، مگر حضرت اسماعیل علیہ کواللہ کے حکم پر قربانی کرنے کا واقعہ پوری دنیا کو حیران کئے ہوئے تھا، فرشتہ بھی انگشت بدنداں تھے یہ دیکھ کر کہ اس دھرتی پر کیا ہورہاہے۔۔باپ کے ہاتھ میں چاقو،بیٹا ذبح ہونے کو تیار، بیٹا کبھی کہتا ہے کہ آنکھوں پر پٹی باندھلو تاکہ بیٹے کی محبت اللہ کی محبت کے سامنے آڑے نہ آجائے، بیٹا بھی اللہ کے حکم پر قربان باپ بھی قربان، تیاری مکمل، چاقو گردن پر چل رہی ہے ،مگر گردن کٹتی نہیں، بار بار گردن پر چاقوکا دباؤ بنارہے ہیں ، گردن نہیں کٹ رہی،یہ کیسا منظر ہے ، زمین و آسمان اس منظر کی گواہ بنے ہوئے ہیں۔امتحان ہی امتحان ہے ،مگر گردن کٹتی ہی نہیں۔ پھر یکلخت حضرت جبرئیل ایک جنت کا دنبہ لے کر حاضر ہوتے ہیں کہ اللہ رب العزت کو آپ دونوں کی قربانی قبول ہے ، اب اپنے بیٹے کے جگہ اس کو ذبح کرو، ناظرین قسم خدا کی یہ منظر تھا جس کے بیان کو میرے پاس الفاظ نہیں ، مگر باپ بیٹے کی اس قربانی کو اللہ تعالیٰ نے قیامت تک زندہ رکھنے کی ٹھان لی اور اسی کی یاد میں ابراہیم علیہ السلام کی سنت کو پوری دنیا کے مسلمان عید کے طو ر پر مناتے ہیں، اور پھر قربانی کی جاتی ہے ۔ ناظرین! ایک بات یہاں پوری طرح ذہن نشین کرلیں کہ اس دنیا میں جتنی بھی اقسام و نوعیت کی اشیاء اللہ رب العزت نے جاندار،نبانات،پیڑ پودے،یا درخت ، جنگلات ، صحراء، سمندر وندیوں کے روپ میں بنایا ہے وہ انسان کے فائدے کے لیے بنایا ہے اور مختلف جگہوں پر اللہ نے اس کا تذکرہ قرآن میں کیا ہے ، مگر انسان اپنی عقل کے راستے کبھی کبھی فطری چیزوں سے ٹکرانے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے منفی نتائج برآمد آتے ہیں، تمام تر مثالیں چھوڑ میں صرف ایک مثال یہاں آپ کو دیتا ہوں کہ انسان نے اپنے سکون اور رہائش کے لیے جنگلوں کو کاٹنا شروع کردیا تو دن بدن سورج کی تمازت میں اضافہ ہوتا جارہاہے ، کھلی ہوائیں جو درختوں سے میسر ہوتی تھی تو نہیں مل رہی ہیں، اور انسان ترقیات کے اس دوڑ میں بے سکونی کی زندگی گذارتے ہوئے نت نئی بیماریوں کا شکار ہورہاہے ، دراصل یہ فطرت سے کھیلنے کا نتیجہ ہے ۔ دراصل یہ مثال مجھے یہاں اس لئے رکھنے کی ضرورت پڑی کہ بعض لوگ اب اپنی عقلی آراء کی وجہ سے یہ دباؤ بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ آپ جانوروں کی قربانی کرتے ہیں اور آپ کو جانوروں سے ہمدردی نہیں، اور پھر حکومت کے سہارے کئی علاقوں میں عین عیدِ قرباں کے موقع پر کچھ وہ مویشی جن کا گوشت کھایا جاتا ہے اور جن کی قربانی کی جاتی ہے اُس پر پابندی عائد کردی۔ یہ بات صاف ہے کہ مذہب اسلام ہر دھرم کے عقائد کا احترام کرنے کا حکم دیتا ہے ، ملکِ ہند میں گؤ کشی پر پابندی ہے اور اس کے احترام میں کوئی بھی شخص گائے کی قربانی نہیں کرتا، اور یہ ہونا بھی چاہئے کیوں کہ یہ ملکِ ہندکے کروڑوں ہمارے ہندو بھائیوں گائے کو گو ماتا کہتے ہیں،۔ یہ بات تو سمجھ میں آگئی اور یہ کوئی کرتا بھی نہیں ہے مگرا س کے آڑ میں آپ بیل اور دنبے اور بکریوں کے گوشت پر بھی پابندی لگانے کی کوشش کریں گے اور کوئی شخص قربانی کی اُن مویشیوں کوجس میں گائے نہیں ہوتی وہ اپنے دھرم کے ایک عقیدے کو پورا کرنے کے لیے لاتا ہے تو پھر اُس کو روک کر زبردستی غیرقانونی قرار دے کر تکلیف دینے کی اجازت کوئی بھی قانون کہاں دیتا ہے۔ مسئلہ کھانے یا نہ کھانے سے نہیں ہے ، جو لوگ جانورو ں کی کاٹنے یا قربانی کو وحشیانہ طرز قرار دیتے ہیں ، اُن کو آخر یہ بات کیوں نہیں سمجھ میں آتی کہ آج دنیا میں انسان کا لہو سب سے زیادہ بہایا جارہاہے ، ہر دن لوگ ہر ملک میں آپسی ٹکراؤ کی وجہ سے مرر ہے ہیں، اللہ رب العزت نے ہر جاندار کو پید اکیا چاہے وہ جنگلی ہو، پالتو ہو یا پھر سمندری مخلوق ،اور ان جانوروں اور انسانوں کو پالنے کی ذمہ داری ان کو رزق مہیا کرنے کی ذمہ داری اللہ خود اپنے ذمہ میں لی ہے ، اُس کے ذرائع مختلف ہوسکتے ہیں، چھوٹی مچھلی بڑی مچھلی کی خوراک ہے، مگرمچھ کی خوراک مچھلیاں ہیں، وھیل جو سب سے بڑی مچھلی مانی جاتی ہے اس کی خوراک مچھلیاں ، سانپ کا خوراک پرندوں کے انڈے اور چوہے و دیگر مینڈک جیسے چھوٹے جانور، آسمان پراُڑتے وہ مختلف پرندے جن کی چونچ لمبی ہوا کرتی ہے چاہے شاہین ہو یا عقاب یا دیگر ان کا رزق اللہ نے مچھلیوں میں رکھا، شیر کا رزق اللہ نے خود جنگلوں میں ہرن اور دیگر بارہ سنگھااور جنگلی بھینس کی روپ میں رکھا، یہ سب اللہ کا انتظام ہے جو چل رہا ہے ،اس میں اگر ہم ٹانگ اڑانے کی کوشش کریں گے، تکلیف انسانوں کو ہی ہوگی، کسان اپنے بوڑھی گائے اور بیل کو گھانس نہیں دے سکتا ، فروخت کرنا چاہتا ہے مگر فروخت نہیں کررہا، اب تک اس دنیا میں کئی بیل ،بکرے اور دیگر وہ مویشی جو کھائے جاتے ہیں ،کٹتے رہے ہیں مگر کیا ان کی تعداد میں کمی آئی ، نہیں بلکہ دن بدن اضافہ ہوتا رہا، یہ نظام اللہ کا ہے ، انسان کے کھانے یا نہ کھانے کا نہیں ہے ، آج کئی میڈیشن جانوروں سے لئے جاتے ہیں، کئی کپڑے جانوروں کی کھال سے تیا ر کئے جاتے ہیں،یہ سب اللہ نے انسان کے استعمال کے لئے کیا چاہے اس کے چمڑے کی بات ہو یا گوشت کی بات تو پھر اللہ کے نظام میں قانون کا نفاذ کرکے دخل انداز ی کرنا فطرت میں دخل اندازی کے مترادف ہوگا یانہیں کیا واقعی مذہبی آزادی کا مطلب یہ ہے؟؟

The Political Controversy on Beef And Mutton

The Political Controversy on Beef And MuttonUploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comSeedhi Baat With Ansar Azeez NadwiThanks To FikroKhabar Tv

Posted by Azmi Islamic Zone on Sunday, 27 September 2015
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.