تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 15 اگست، 2015

Life of APJ Abdul Kalam

اپنی لگن ،محنت اوربلند اخلاق کی وجہ سے اپنے اساتذہ کی نظروں میں بسے رہے اورآخر بلندیوں کو سرکرلیا۔یہ کم اہم بات نہیں کہ ایک ملاح کا بیٹا ایروناٹیکل انجنئر بن گیا۔ میزایل سازی میں نمایاں خدمات انجام دیں ۔ میزائل مین کہلایا۔ سرکار نے ان کی خدمات کے اعتراف میں پدم بھوشن اورپدم وبھوشن سے سرفراز کیا ۔ملک کا سب سے بڑاعزار بھارت رتن بھی ملا۔انہوں نے انتہائی حساس شعبوں میں خدمات انجام دیں۔ وہ نیک دل،خوش عقیدہ اورباعمل مسلمان تھے۔ لیکن وہ کسی بھی مرحلہ پر تعصب کا شکارنہیں ہوئے۔ ان کو ان کی لیاقت اورخدمت کے جذبہ نے ہمیشہ آگے ہی بڑھایا اور قصر صدارت تک پہنچایا۔ان کوایک امتیاز یہ حاصل ہوا کہ وہ ڈاکٹر رادھا کرشنن اور ڈاکٹرذاکرحسین خان کے بعد تیسرے ایسے صدرجمہوریہ بنے جس کواس منصب پر پہنچنے سے پہلے ہی بھارت رتن کا اعزاز مل چکا تھا۔ ملک اوربیرون ملک کی 30 یونیورسٹیوں نے ان کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں تفویض کیں۔بڑی بات یہ ہے کہ اتنے اعزازات مل جانے کے باوجودان میں بڑبولا پن نہیں تھا۔ انکی انکساری ، خوش اخلاقی اوراپنے گرد لوگوں کے ساتھ حسن سلوک نے ان کی شخصیت میں چارچاند لگادئے۔ نوجوانوں کے لئے ان کو مینارہ نور بنادیا۔ان کو ہردل عزیزبنادیا ۔اٹھے تو وہ بھی زمین سے ہی تھے۔اخبارفروشی بھی کی۔ لیکن سوال یہ نہیں کہ کس نے زندگی کی شروعات چائے فروشی سے کی اور کس نے اخبار فروشی سے ۔بلکہ یہ ہے کہ جب وہ بلند مرتبہ پرپہچا تواس کی ذہنی سطح کتنی بلند ی پر پہنچی؟ وہ انکساری، شرافت اور انسانیت کا نمونہ بنا ،یا اس کا سینہ کبر وغرورسے تن گیا ؛گردن اکڑی رہی ، مطلق العنان حاکم بن گیا ،ببول کی طرح ہرکسی کی تواضع کانٹوں سے کی یا اس کے بازو پھل داردرخت کی شاخوں کی طرح جھکے رہے؟ناظرین ان کی سیدھی سادھی زندگی کے بارے میں کہاں تک بولا جائے ۔۔ وہ قصرصدارت میں بھی رہے تومعمولی شہری کی سی زندگی جئے۔اپنا بہت سا کام خود کرلیتے تھے۔ جب صدر جمہوریہ تھے تو اُس وقت اُ ن کے سکریٹری سبکدوش آئی اے ایس افسرجناب پی ایم نائر تھے انہوں نے دور درشن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کئی سارے اہم پہلوؤں کا تذکرہ کیا تھا، انہوں نے کہا کہ صدر کلام صاحب جہاں بھی جاتے ان کو انعامات ملتے، کلام صاحب اس کو ضرور قبول کرتے تاکے کسی کا دل نہ دکھے اور سب انعامات ابھی بھی راشٹر پتی بھون میں ہے ان میں سے ایک پنسل بھی انہوں نے اپنے ساتھ گھر نہیں لے گئے ، نائر نے ہی کلام صاحب کی زندگی کے اُس رخ کو عوام کے سامنے لایا تھا جب کلام صاحب کے خاندان میں سے پچاس افرا د کاایک وفد راشٹرپتی بھون دیکھنے آیا تو اُس وقت ان کے اخراجات قریب دو لاکھ روپئے صدر صاحب نے اپنے ذاتی پیسوں سے ادا کیا حتی کہ ایک چائے بھی حکومتی لین دین میں داخل نہیں کیا۔ اسی طرح رمضان کے مہینے میں صدر صاحب کی جانب سے افطار پارٹی ہوا کرتی ہے ، انہوں نے سکریٹری صاحب سے پوچھا تھا کہ افطار پارٹی میں کتنا خرچ آتا ہے ، فوری جواب ملا کہ اس کا بجٹ 22لاکھ روپئے تک آتا ہے تو ، کلام صاحب نے کہا کہ افطار پارٹی میں تو سب کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگ آتے ہیں کیوں نہ ان روپیوں کو یتیموں میں بانٹ دیا جائے تو ، پھر نائر سے کہا کہ ایسے یتیم خانوں کی فہرست تیار کی جائے پھر ان کو یتیم خانوں میں تقسیم کیا جائے ،یہاں تک کہ اپنے ذاتی پیسے بھی انہوں نے یتیموں میں بانٹ دئے تھے۔سکریٹری نائر کا کہنا ہے کہ جب صدرجمہوریہ کی سبکدوشی کا وقت آیا تو راشٹرپتی بھون کا پورا اسٹا ف مع فیملی کے ان کو الوداع کہنے آیا تھا، مگر نائر تنہا گئے ، ان کی اہلیہ ساتھ نہیں تھی، ڈاکٹر کلام صاحب نے کسی سے پوچھا کہ نائر اکیلے کیوں تھے، تو بتایا گیاکہ ان کی اہلیہ کا پیر فیکچر ہونے کی وجہ سے نہیںآئی ، دوسرے دن نائر کے گھر کے پاس سیکیوریٹی تعینا ت کردی گئی تھی ، نائر اچھنبے میں تھے کہ اتنی سیکوریٹی کیوں تو اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ صدر ڈاکٹر عبدالکلام صاحب ان کی اہلیہ کی عیادت کے لیے ان کے گھر پہنچ گئے تھے، نائر کہتے ہیں کہ مجھے یقین نہیں ہورہاتھا کہ ملک کا صدر ایک سرکاری نوکر کے گھر اس کی بیوی کی عیادت کے لیے پہنچا ہے ۔ ناظرین ! یہ تھے صدر جمہوریہ ڈاکٹر کلام کے اخلاق ، وہ تو ملک کو سوپر پاوراور نیو کلیر پاور کی فہرست میں شامل کراہی دیا تھا مگر جتنا وہ اپنے اخلاق سے متاثر کیا وہ سب سے بڑی بات تھی اور آجکل کے ہمارے سیاستدانوں اورلیڈران کے لیے مشعلِ راہ۔آجکل جب کہ ہرطرف سیاست دانوں کی بے ایمانیاں اوربداعمالیاں عیاں ہو رہی ہیں، ڈاکٹرکلام ہرطرح کے داغ دھبوں سے پاک رہے۔ وہ اختیاراوراقتدار کے اہم منصبوں پرفائز رہے، مگران کی طرف کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہیں ملا۔ وہ ایک سفری چھوٹی اٹیچی اورکپڑوں کی ایک بڑی اٹیچی کے ساتھ راشٹرپتی بھون میں داخل ہوئے اورپانچ سال بعد وہی دواٹیچیاں لے کر وہاں سے رخصت ہورہے تھے، اور پھر ہندوستان کی اتنی بڑی شخصیت تیس جولائی کو رامیشورم کے ساحل پر ملک کے بڑے بڑے لیڈروں کی سلامی لے کر سپردخاک کیا گیا۔ جس منظر کو دیکھ کر ہندوستان کا ہر فرد اشکبار تھا،جی ہاں ہر فرد اشکبار۔۔

Life of APJ Abdul Kalam

Uploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comThanks To FikroKhabarSeedhi Baat With Ansar Azeez Nadwi

Posted by Azmi Islamic Zone on Thursday, 13 August 2015

Post Top Ad

loading...