Header Ads

Yakub Memon and the story of death

پھر بھی سنئے کہ وہ کیا سوالات ہیں؟وہ یہ کہ جب بائیس سال پہلے یعقوب میمن ٹائیگر کے علاوہ پورے اہلِ خانہ کے ساتھ خود سپردگی کی تھی تاکہ اپنی بے گناہی کو ثابت کرسکے جیسا کہ را کے سابق سرابرہ ’’رامن‘‘ نے بھی تصدیق کی تھی اُسے جب اُس کو جیل کے سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جارہا تھا تو مسلمان کہاں تھا؟؟بائیس سال تک اُس کو اذیتیں دی گئی تھیں کہ وہ اکثر جیل میں رویا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ میں بے گناہ ہوں اس وقت اے مسلمان تو کہاں تھا، ٹاڈا خصوصی عدالت نے جب یعقوب کو سزا ئے موت دینے کا فیصلہ سنایا تھا تو اے مسلمان تو کہاں تھا؟؟جب ٹاڈا خصوصی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا اس وقت اے مسلماں کہا تھا؟جب سپریم کورٹ نے اس کی اپیل کو مسترد کردیا تو کہاں تھے ، پھر جب تین ججز کے ذریعہ ٹاڈا خصوصی عدالت کو صحیح قرار دیا گیا تو کہاں تھا؟جب رحم کی اپیل خارج کردی گئی تو مسلماں کہا ں تھا؟جب آخری بار رات کے دو بجے ہندو وکیل پرشانت بھوشن کی قیادت میں درجنوں وکیل جج کے گھر گئے اوردوبارہ کچھ مہلت مانگا تو اس میں کوئی مسلم چہرہ نظر نہیں آرہا تھا؟ اے مسلماں تو کہاں تھا؟جب بائیس سال ظلم وتشدد میں گذارے جارہے تھے تو تو کہاں تھا؟ بتا میرے بھائی کہاں تھا؟ نعرے لگانے والے کہا ں کھوگیا تھا تو ۔۔بتا تو صحیح مجھے ۔۔۔۔.......ناظرین! حقیقت یہ ہے کہ ہم افسانوی دنیا میں جینے کے عادی ہوگئے ہیں، مصیبت پڑتی ہے تو ہوش میں آتے ہیں، ہمارے پاس وکیل نہیں ، ہمارے پاس قیادت نہیں ،ہمارے پاس سیاست نہیں، جی ہاں ہم کو آپس میں لڑنا بہت اچھا آتا ہے : مسلکوں کی بنیاد پر ایک دوسرے کو کافر کہنا بہت ہی اچھا آتا ہے ۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں ہم ماہر ہیں۔ ذاتی دشمنیوں کے لئے ادارو ں کی اینٹ سے اینٹ بجاناتو ہمارے بائیں ہاتھ کا کھیل ،دین پسندوں کے ساتھ بدتمیزی کرنا اوربرا بھلا کہنے میں تو ہم سب سے آگے، ہروگیری اورکسی ہیرو کے فین بننے میں ہمیں کوئی ہچک نہیں۔جوش میں آکر نعرے لگانا آتا ہے ،؟ کسی کو اُکسانے میں ہمارا کوئی ثانی نہیں ، مگر کبھی سنجیدگی میں بیٹھ کر ہم نے اپنے مسائل کے حل کے لیے سوچا؟ ملک کی عدلیہ کا اس کے قانون کا ہم واقعی پالن کرتے ہیں، ہم احترام کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہئے ،سرآنکھوں پر بٹھاتے ہیں، کوئی اس کی مخالفت نہ کرے، جی ہاں ! کبھی کبھی کچھ سیاسی پارٹیاں اپنے زور کے بل بوتے پر عدلیہ پر حاوی ہوجاتی ہیں اس کی روک تھام کے لیے ہم نے کتنی قانونی کتابوں کو کھنگال ڈالاکہ ہم بھی اپنے دعوے کو پیش کرسکیں۔ جی ہاں آپ کا ماننا اور کہنا صحیح ..سب کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے ، جی ہاں سب خاطیوں کو سزا ملنی چاہئے ۔ جی ہاں بولنا چاہئے ، سننا چاہئے ، مگر یہ جوش کچھ دونوں کے لئے کیوں؟؟ ملک کے آئین کے مطابق ہم اپنے وکلاء کو تیار کیوں نہیں کرتے؟ بھڑک کر دشمن کو یہ کہنے کا کیوں موقع دے دیتے ہیں کہ یہ لوگ دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں؟ ناظرین ! حقیقت بتاؤں ! دراصل آج ہمیں سنجیدہ ہونا پڑے گا؟؟ اپنے آپ کو قانونی داؤ پیچ سے ٹکرانے کے لیے تیار کرنا پڑے گا؟ آج ہماری شام و سحر پر نظر ڈالئے!؟؟ پھر وہ ساٹھ سال پہلے لوٹئے ؟ْپھرمجھے بتائیے کہ ہم میں کیا بدلاؤ آیا، ایک دو افراد کے بدلاؤ کا نام تبدیلی نہیں جب پوری قوم بدلتی ہے تو پھر تاریخ رقم ہوتی ہے ، ڈاکٹر عبدالکلام میزائل مین نے تو ایک مسلم ہندوستانی کے ناطے ایسی تاریخ رقم کرکے چلے گئے کہ ایسی مثال کم از کم ہندوستانی تاریخ میں نہیں ملتی ، ملک کے سب بڑے عہدے پر بیٹھنے والے شخص کی پونجی صرف ایک سوٹ کیس تھی۔۔۔انصاف سب کو ملے گا۔۔ملنا چاہئے ..مگر ہم اپنے آپ کو تیار توکرلیں؟؟ یعقوب میمن کیا تھا کیا نہیں تھا ، یہ اُلجھن اُلجھن ہی رہے گی ناانصافی ہوئی ہے تو بڑے دربار میں انصاف مل جائے گا، اور ایک مومن کا یقین بھی یہی ہے اور اس کی آخری آرزو بھی یہی ہوتی ہے کہ اس کی آخرت بن جائے، ہمیں اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنے گھر پہنچ گئے، سوال میرا اور آپ کا ہے، سوال زندوں کا ہے جو مردوں کی طرح بے حسی کی زندگی بسر کررہے ہیں،سوال اُن مردہ ضمیروں کا ہے جس کو لاکھ جھنجھوڑو، سنبھلتے نہیں، موذن لاکھ پکارے بستر سے اُٹھتے نہیں، سوال یہ نہیں کہ کون چلا گیا؟؟سوال یہ ہے کہ جانے والا ہمیں کیا پیغام دے گیا؟؟ پیغام کو سمجھ جائیں تو پھر بات بنے۔ اچھے اخلاق سے عاری ہم لو گو ں کو صرف جذبات سے آشنائی ہوئی ہے ۔ بھڑکنے پر مزہ آتاہے ، حقیقت جب اُٹھ کر ہمیں ہمارا حقیقی چہرہ دکھاتی ہے تو پتہ ہے ہمارا رویہ کیا ہوتاہے،۔ وہ نہیں آیا، اُس نے نہیں آیا؟؟ اس نے نہیں کیا؟ اُس نے نہیں بتایا؟ یہاں پر غلطی ہوگئی؟ وہاں پر بھول ہوگئی ؟واہ رے مسلمان؟ تیرے بہانوں پر قربان جاؤں...؟؟

Yakub Memon and the story of death

Seedhi Baat With Ansar AzeezUploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.comThanks To FikroKhabarTv

Posted by Azmi Islamic Zone on Friday, 7 August 2015
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.