Header Ads

Islam and Business Ethics

آجکل مختلف قسم کی تجارتیں مارکیٹ میں آگئی ہیں۔ حلال تجارت کرنا چاہئے کیوں کہ یہ سنت بھی ہے ، مگر ہم اس میں کوئی مشتبہ چیز کی ملاوٹ کردیتے ہیں تو پھر یہاں سے ہماری بربادی کی اتبداء ہوتی ہے ۔ جیسے کہ آج بڑی بڑی دکاندار اشیاء کی خریداری کے لیے کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرتے ہیں اور کروڑوں کی مالیت کا سامان بطور قرض خریدتے ہیں اور پھر سود کے ساتھ بینک میں پیسہ جمع کررہے ہوتے ہیں ،ا ب ایسے حالت میں کیا یہ تجارت جائز ہوگی اور ا س سے حاصل ہونے والا منافع جائز ہے ۔ یہ بھی سوچنے کا مقام ہے ۔اسی طرح بعض لوگ بینکوں کے لون پر کار اور بائیک نکال کر کرایہ پر دیتے ہیں، سوچئے بینک تو بلا سود کے قرض دیگا نہیں، تو اب اس قسم سے خریدی جانے والی بائیک یا کار کا کرایہ پر دے کر تجارت کرنا کیا جائز ہوگا۔یہ بھی سوچنے کا مقام ہے ۔۔ بعض جگہوں پرکچھ قسموں کی تجارت میں شریعت خاموش ہے مگر جس ملک کاو ہ باشندہ ہے وہ ملک اس کو اسمگلنگ کا نام دیتا ہے تو سوچنے کا مقام ہے کہ اس قسم کی رسک والی تجارت جو قوم و ملت کو بدنام کرنے کے مترادف ہے ، اور اس میں اچھے خاصے لوگ شامل ہوچکے ہیں، اور افسوس یہ بھی ہے کہ بہترین جاب اور روزگاری کو لات مار کر مختصر مدت میں مال حاصل کرنے کے چکر میں چین و سکوت غارت کئے ہوئے ہیں اور قوم کی بدنامی کا سبب بھی؟ ، کیا یہ ان کے لئے زیبا دیتا ہے کہ ان کے کچھ غلطیوں کی وجہ سے پورے معاشرے کے نوجوانوں کو بعض مقامات پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑے اور اچھا خاصہ انسان بھی شک کے دائرے میں آجائے ۔ میں کھلے الفاظوں میں اس چیز کو نہیں لے رہا ہوں تاکہ سمجھنے والے احباب سمجھ جائیں ۔ ناظرین! آپ ہی مجھے بتائیے آج، دھوکہ دہی، جھوٹ اور ملاوٹ کا جو بازار گرم ہے آخر اس میں تجار ت کا کونسا شعبہ ہے جو چھوٹ گیا ہے ، کوئی نہیں ، گوشت میں ملاوٹ کی خبریں ہم تو سنتے ہی ہیں، چاول دال،دودھ، مکھن، روز مرہ کی اشیاء کا حال پڑھئے پتہ چلے گا۔ بند بکس میں بڑی بڑی کمپنیاں جو مشروبات مارکیٹ میں لارہی ہیں ، اس کا حال دیکھئے ، آئے دن اخبارات میں مضر مادے کے ملاوٹ کی خبریں دیتے ہی رہتے ہیں، دنڈی مارنے کا بازار گرم ہے۔ سفری اخراجات دیکھئے ۔ پٹرول ڈیژل کی قیمت بڑھتے ہی ٹکٹ کے دام بڑھادیتے ہیں مگر جب ایندھن کی قیمت میں کمی واقع ہوتی ہے تو پھر سواریاں والے قیمت گھٹانا ہی بھول جاتے ہیں مطلب یہ کہ عوام کو لوٹ رہے ہوتے ہیں،کمپنیوں کے ٹیگ بدل کر کم قیمت کی چیز زیادہ دام میں فروخت ہورہی ہیں، یہ صرف نجی کمپنیوں کا ہی حال نہیں بلکہ اس میں سرکاری و غیر سرکاری تجارتی ادارے بھی شامل ہیں،ا ور یہیں سے بدعنوانی کا دور دورہ شروع ہوجاتا ہے ، کوئی حکومت سے ٹیکس چور ی کرنے کے الزام میں دھرلیا جاتا ہے، کہیں لوک آیوکتہ پولس اچانک کسی کے گھر دھاوا بول کر کروڑوں کھربوں روپیوں کی جائداد قبضے میں لے لیتی ہے ۔ مطلب یہ ہوا کہ جو حال حکمرانوں کا ہے وہی حال رعایا یعنی عام عوام کا بھی ہے ، اسی کو کہتے ہیں جیسا باشا ویسی رعایا ،، یا پھر جیسی رعایا ویسا باشاہ ....ناظرین! اصل معاملہ آخرت کا ہے ؟ کیا ہم اس طرح کی دھوکہ دہی کرکے، ملاوٹ اور جھوٹی قسموں کے ذریعہ چھوٹ جائیں گے، ہاں ممکن ہے ہم اپنی ہوشیاری سے، چالاکی سے عیاری سے عام عوام کو اُلو بنا کر ان کے حقوق دبانے میں کامیاب ہوجائیں ؟ مگر ایک مومن کا مسئلہ تو دنیا کا نہیں ہے، یہ تو گذرگاہ ہے ، گزرجائے گی، یہ تو راستہ ہے کٹ جائے گا، منزل تک پہنچنے کی صرف ایک ڈگر ہے وہ بھی ختم ہوجائے گی،مگر جب منزل سامنے ہوگی ، یعنی قیامت اور احکم الحاکمین کے سامنے حاضری ہوگی تو سوچئے اُس وقت کیا یہ ہماری عیاری، ہوشیاری ،چالاکی کام دے گی۔

Islam and Business Ethics

Islam and Business Ethics | Sedhi Baat With Ansar Aziz Nadwi | FikroKhabr

Posted by Azmi Islamic Zone on Thursday, 23 July 2015
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.