Header Ads

Eid-ul-Fitr


اسلام دینِ فطرت ہے اور اس میں فطرت انسانی کے تقاضوں کی آخری ممکن حد تک رعایت رکھی گئی ہے رمضان مبارک کا مہینہ روحانیت اور ملکوتیت میں ترقی کے لئے بظاہر بہت خشک مجاہدہ کا مہینہ تھا۔دن کو روزہ اور رات کو تراویح، اور توفیق ملے تو اس کے علاوہ بھی اور نوافل میں مشغولیت اور ذکر و تلاوت کی کثرت۔
اب جب یہ مہینہ ان اشغال میں اور اس مجاہدہ اور ریاضیت کے ساتھ ختم ہوگیا تو انسانیت کے دونوں پہلوؤں (مادیت اور ملکوتیت) کے تقاضوں میں اعتدال اور توازن قائم رکھنے کیلئے ضروری ہوا کہ ان دنوں کےلئے نشاط و انبساط کا بھی کوئی خاص موقع اور مناسب ماحول فراہم کیا جائے۔ چنانچہ رمضان کے ختم پر شوال کی پہلی تاریخ کو یوم العید قرار دیا گیا۔ یہ مسرت و شادمانی اور تشکر و امتنان کا دن ہے، مسرت اس بات کی اور شکر سپاس اس امر کا کہ حق تعالیٰ نے رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے بہرہ ور ہونے کی توفیق دی، روزے رکھوائے، قرآن پاک پڑھوایا، اور سنوایا، اور محض اپنے فضل و کرم سے اس مبارک مہینہ کے دنوں اور راتوں میں عبادت و انابت کا کوئی حصہ عطا فرمایا۔
پھر اس عید کی مسرت اور شادمانی میں بھی خدا پرستی کے عناصر کو ایسا سمویا گیا کہ قالب اگر چہ جشن و نشاط اور سرور و انبساط کا ہے لیکن روح اس میں بھی عبدیت و انابت کی ہے۔
حکم ہے کی آج سب سے پہلے نہانے، دھونے اور کپڑے بدلنے سے بھی پہلے کرنے کا کام یہ ہے کہ جو لوگ کچھ وسعت رکھتے ہوں(باصطلاح ِشرع جو صاحب نصاب ہوں) وہ اپنی طرف سے اور اپنے بچوں کی طرف سے مقررہ مقدار کے مطابق( جو عام طور پر معلوم ہوتی ہے) اپنے حاجت مند ، قرابت داروں اور پڑوسیوں کو یا پھر جو بھی اہل حاجت غرباء و مساکین ان کے علم میں ہوں ان کو صدقہ ادا کریں۔
("اس صدقہ کی حکمت خود رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث میں یہ بیان فرمائی ہے کہ روزوں میں جو ناروا اور نا مناسب حرکتیں لوگوں سے ہوجاتی ہیں (مثلاً فضول اور بیہودہ باتیں کرنا) سو یہ صدقہ فطر ایک تو اس قسم کی باتوں کا کفارہ اور فدیہ ہے دوسرے اس سے اللہ کے مسکین و غریب بندوں کی مدد ہوجاتی ہے اور پھر وہ بھی مطمئن ہوکر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کے قابل ہوجاتے ہیں")
صدقہ فطر کے علاوہ عید کے دن کا دوسرا خاص عمل نماز عید ہے اس کی حیثیت بھی یہ ہے کہ اس مبارک اور مقدس مہینے کے حقوق و فرائض کی ادائیگی اور اس کی برکات کی قدردانی میں جو کوتاہیاں ہم سے ہوئیں اجتماعی طور سے انکی استدعاء معافی کا، اور جو بے حساب رحمتیں اور برکتیں نازل ہوئیں ان کی شکر گذاری کا ، اور جن اعمال صالحہ کی توفیق ملی ان کی اجر طلبی کا ایک خاص اجتماعی موقع ہے جو خود رب کریم نے اپنے بندوں کیلئے مہیا فرمایا ہے۔
صدقہ فطر اور نماز عید کے علاوہ آج تکبیر و تہلیل کی کثرت کا بھی خاص طور سے حکم ہے حتیٰ کہ نماز عید کی دونوں رکعتوں میں حنفیہ کی تحقیق کے مطابق تین تین اور دیگر ائمہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ تکبیریں بڑھا دی گئی ہیں اور عید گاہ کے راستہ میں بھی آتے جاتے تکبیر وتہلیل اور تحمید کا جامع کلمہ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد وردِ زبان رکھنے کا حکم ہے۔
سبحان اللہ یہ ہے اسلامی عید اور اللہ و رسولﷺ کا بتلایا ہوا یوم جشن و نشاط کہ نہا دھوکر اچھے کپڑے پہننے کا بھی حکم ہے، نفیس سے نفیس جو خوشبو میسر ہو اسکے لگانے کا بھی حکم ہے، کھانا ، پینا بھی مرغوب و محبوب ہے اور تفریح و خوش طبعی کیلئے جائز قسم کے کھیل کود کی بھی ہمت افزائی کی گئی ہے کہ جشن و نشاط کے دنوں اور سرور و انبساط کی ساعتوں میں یہ چیزیں انسانی فطرت کی مانگ ہیں۔ لیکن ان تفریحی اور جشنی عناصر کے ساتھ ساتھ صدقہ ہے نماز ہے، دعا ہے استغفار ہے، تکبیر ہےو تہلیل ہے بس یہ ہے ہماری عید۔
(ان لکل قوم عیداً و ھذا عیدنا اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہٰ الا اللہ وا للہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد")
اس دن اللہ پاک اپنے بندوں سے جو رمضان کو عبادت و مجاہدہ میں گذار کے نماز پڑھنے کیلئے گھروں سے نکلتے ہیں، کتنا خوش ہوتا ہے اور کس لطف کرم سے انکی دعا و عبادت کا استقبال کرتا ہے اسکا اندازہ اس حدیث سے کیجئے۔
(مندری نے ترغیب و ترہیب میں ابوالشیخ، ابن حبان اور بیہقی کے حوالہ سے رمضان اور عید الفطر کے متعلق ایک طویل حدیث نقل کی ہےعید کے متعلق اسکا آخری حصہ یہ ہے۔
"عید کے دن جب مسلمان نماز عیدکرنے کیلئے عید گاہ یا مسجد جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص فرشتوں سے فرماتا ہے (بتلاؤ) جو مزدور اپنے متعلق کیا ہوا کام پورا کردے اس کو کیا معاوضہ ملنا چاہیے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں خدا وندا! اسکا معاوضہ یہی ہے کہ اس کی مزدوری پوری پوری دے دی جائے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے میرے فرشتو میں تم کو بھی گواہ بناتا ہوں کہ ان لوگوں کے روزوں اور رات کی ان کی عبادت کے بدلے میں نے انکو اپنی رضا اور مغفرت عطا فرما دی۔ پھر نماز عید کیلئے حاضر ہونے والے ان بندوں سے خطاب رحمت ہوتا ہے کہ اے میرے بندو!! جو تم کو مانگنا ہو مانگو، میرے عزت و جلال کی قسم آج اس موقع پر آخرت کی جو چیز بھی تم مجھ سے مانگو گے میں ضرور تم کو وہ عطا کروں گا اور دنیا کے متعلق بھی جو تم دعا کرو گے اسکے بارے میں خود تمہاری ہی مصلحت پر نظر کرکے تمہارے لئے بہتر فیصلہ کروں گا، میرے زور و قوت کی قسم تم جبتک میرا اور میرے احکام کا خیال رکھو گے میں تمہاری لغزشوں کی ستاری کرتا رہوں گا اور قسم میری عزت و جلالت کی میں تمہیں مجرموں کے سامنے رسوا نہیں کروں گا۔ اب تم بخشے بخشائے گھروں کو واپس جاؤ تم نے رمضان میں مجھے راضی کر دیا اور میں تم سے خوش ہوں ۔(اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہٰ اللہ و اللہ ااکبر اللہ الحمد)
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.