تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

جمعہ، 10 جولائی، 2015

TV serials and muslim womens

آج ہماری خواتین کس جانب کو چل پڑی ہیں، میری بہنیں اپنے دل پر ہاتھ رکھ کرمجھے یہاں بتائیں کہ پتہ نہیں ہم میں سے کتنے ہیں جو سالوں سال سے اس خطرناک بیماری کو اپنے ذہن ودماغ سے بٹھائے ہوئے کئی کئی گھنٹے صرف کردیتے ہیں،آج تک کچھ ملا ، ان سیریلوں سے، کچھ حاصل ہوا؟ کیا دکھایا جاتا ہے اس میں بتائیے مجھے۔۔یہی نا کہ،، شوہر سے کیسے لڑا جاتا ہے ، ساس اور سسر سے کیسے جھگڑنا چاہیئے۔ بیٹی کو یہ بتایا جاتا ہے کہ گھر والوں سے چھپ چھپ کر کیسے اپنے عاشق سے ملا جاتا ہے ، بہو کو سکھایاجاتا ہے کہ شوہر اور ساس کے خلاف کیسی چالیں چلنی چاہئے ، گھریلو جھگڑے، ان بن، تو تو میں میں، طلاق کی نوبتیں، شوہر چھوڑ دیا تو دوسرے کو کیسے پھانسا جائے اور سب سے بڑھ کر نت نئے ناموں سے تہوار اس میں کسی بت کی پوجااور اسکا بھجن۔گھریلو سکون برباد اور ازدواجی زندگی تہس نہس کرنے کے ساتھ ساتھ یہ سیرئیلیں بت پرستی کے مناظر اور بھجن کے آوازوں سے ہم سے ہمارا ایمان کھروچ کر نکال رہے ہیں ، اور ہماری بہنوں کو پتہ بھی نہیں چل رہا ہے ، بس وقت گذارے کے نام پر، گھر میں بیٹھے بیٹھے بوریت کا بہانہ بنا کر گھر گرہستی کو نیست و نابود کررہے ہیں اور دھیرے دھیرے ایمان سے نکلتے جارہے ہیں اور ہمیں اسکا احساس بھی نہیں، اب تو حد ہوگئی ، شوہر، بیوی، جوان بیٹیاں ، بیٹے سب کے سب ایک ساتھ بیٹھ کر فحاشی کو دیکھ رہے ہیں، کوئی روکنے والا نہیں ،کوئی ٹوکنے والا نہیں، من مانی چل رہی ہے ، پھرجب گھر سے بیٹی بھاگ جاتی ہے ، یا بیٹی کسی عاشق کے ساتھ فون میں بات کررہی ہوتی ہے تو ماں ایک طرف غصے میں لال، باپ ایک طرف پریشان...بھائی مجھے یہ تو بتاؤ اس اس کے ذمہ دار کون ہیں ، آخر کیوں تمہاری اولاد تمہاری نہیں سن رہی ؟؟تم ہی تو تھے جو بیٹیوں اور جوان بیٹوں کو ساتھ میں لے کر بچوں کو ساتھ بٹھا کر سیئرئیل کے فحش مناظر دکھا رہے تھے حیاباختہ مناظر کے ساتھ ساتھ عشق و معاشقہ کی گفت وشنید سنارہے تھے ، آپ وقت گذاری کررہے تھے اور آپ کی بیٹی اس مناظر کو لے کر ایک حسین خواب بن رہی تھی وہ تو آسمان کے تاروں پر زندگی بسانے کی سوچ رہی تھی ، موقع ملا تو اب اس نے بھی بغاوت کردی۔ اب شکایت کرنے سے کیا فائدہ کہ بیٹی بھاگ گئی ، لڑکا بگڑ گیا،بات نہیں سنتا ، وجہ تو آپ ہی بنے اس کے.... ناظرین !آج کی اس ترقیات نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔، ان ڈراموں میں سب سے زیادہ مرعوب ہماری نوجوان نسل ہورہی ہے ۔ جب کہ یہی لڑکیاں آگے چل کر ایک خاندان کی بنیاد ڈالتی ہیں، آج خواتین ،بہو بیٹیوں اور بہنوں کا موضوعِ گفتگو یہی ڈرامے اور کہانیاں ہوکر رہ گئی ہیں، اور جب ایک جگہ جمع ہوتی ہیں تو آپس میں اسٹوریاں سنانا شروع کردیتی ہیں اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس کو اتنا فیشن اور موڈرن بنا کر پیش کیا جارہاہے کہ اچھا خاصہ دیندار کہلائے جانے والا معاشرہ بھی اس کو معیوب نہیں سمجھتا۔ حیرانی اُس وقت ہوتی ہے کہ سینکڑوں ڈراموں کے نام یاد ہیں اس میں کردار ادا کرنے والی اور والوں کے نام یاد ہیں ، کہاں آغاز ہو ا کہاں ختم ، کل کہاں سے شروع ہونے والا ہے ، سب پتہ ہے مگر انہی کو آپ غلطی سے صحابیات کے نام پوچھ لیں ،ا سلام کی تاریخ مکی و مدینہ دور کے حالات پوچھ لیں تو بغلیں جھانکنے لگیں گے ، اور بے شرم اور بے حیا ہوکر یہ کہیں گے کہ کتاب میں درج ہے جاکے خود پڑھلو۔۔ ناظرین یہ ہے آج کے ہمارے حالات...میں اگر غلط کہہ رہاہوں تو میرا گریہبان پکڑ کر مجھ سے کہیں کہ میں غلط کہہ رہاہوں۔۔ مگر مجھے نہیں لگتا کہ آپ ایسا کریں گے، کیوں کہ آج یہی ہورہاہے جو میں کہنے کی کوشش کررہاہوں، سوائے اُن احباب کے جو لوگ اس فتنے کے شکار نہ بنے۔مجھے ان ماؤں سے ، ان خواتین سے یہاں پوچھنے کی اجازت دیں کہ اگر آپ ہی اپنے بچوں کو لے کر اس طرح ڈراموں سے لطف اندوز ہونے کے لیے بیٹھ جائیں گے تو پھر ان کو صحابیات کے قصے کون سنائے گا۔ کھانا بنانا،کھلانا،کپڑے دھونا، اسکول و کالج بھجوانے کی تیار ی کرنا، جو مانگے اس خواہش کو پورا کرنا کیا صرف یہی ذمہ داری ہے ،

TV serials and muslim womens

TV serials and muslim womensUploaded by:Mohammad Zahid Azmi | CEO of Azmi GroupContact CEO: www.mzazmi.blogspot.com#Seedhi_Baat With Ansar Azeez NadwiThanks To #FikroKhabarTv

Posted by ‎اعظمی اسلامک زون‎ on Thursday, 9 July 2015

Post Top Ad

loading...