Header Ads

Rozah Na Hi TootTa Hai Aur Na hi Makrooh Hota Hai


وہ صورتیں جن میں روزہ نہیں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہیں ہوتا
٭ کسی قسم کا انجکشن یا ٹیکہ لگوانا۔
٭ کسی عذر سے رگ کے ذریعے گلوکوز چڑھوانا۔
٭ سخت ضرورت کے وقت خون چڑھوانا۔
٭ طاقت کا انجکشن لگوانا۔
٭ ایسی آکسیجن لینا جو خا لص ہو اور اس میں ادویات کے اجزاء شامل نہ ہوں۔
٭ کلی کرنے کے بعد منہ کی تری لینا۔
٭ اپنا لعاب دہن جو اپنے منہ میں ہو نگل جانا۔ البتہ اسے منہ میں جمع کر کے نگلنا نہ چاہئے۔
٭ ضرورت کے وقت کوئی چیز چکھ کر تھوک دینا۔
٭ ناک کو اس قدر زور سے سڑک لینا کہ حلق کے اندر چلی جائے۔
٭ دانت اس طرح نکلواناکہ روزہ بے خطر ہوجائے اور خون حلق میں جائے۔
٭ دانتوں سے نکلنے والا خون نگلنا، بشرطیکہ وہ لعابِ دہن سے کم ہو اور منہ میں خون کا ذائقہ معلوم نہ ہو۔
٭ نکسیر پھوٹنا۔
٭ چوٹ وغیرہ کے سبب جسم سے خون نکلنا۔
٭ کسی زہریلی چیز کا ڈسنا۔
٭مرگی کا دورہ پڑنا،
٭ بواسیر کے مسو کو(جن کا محل عموماً پاخانہ کی جگہ کا کنار ہ ہوتا ہے) طہارت کے بعد اندر دبا دینا۔
٭ حلق میں بلا اختیار دھواں، گرد و غبار یا مکھی وغیرہ کا چلا جانا۔
٭ بھول کر کھانا پینا یا بھول کر بیوی سے صحبت کرنا۔
٭ اگر جماع کا اندیشہ نہ ہوتو بیوی سے بوس و کنار کرنا۔
٭ سوتے ہوئے (غسل کی حاجت) ہوجانا۔
٭ کان میں پانی ڈالنا یا بے اختیار چلے جانا۔
٭ خود بخود قے آنا۔
٭ آنکھوں میں دوا یا سرمہ لگانا۔
٭ عطر یا پھولوں کی خوشبو سونگھنا۔
٭ دھونی دینے کے بعد اگربتی یا لوبان کی خوشبو سونگھنا جبکہ ان کا دھواں باقی نہ رہے۔
٭ رومال بھگو کر سر پر ڈالنا یا کثرت سے نہانا۔
٭ بچے کو دودہ پلانا۔
٭ پان کی سرخی یا دوا کا ذائقہ منہ سے ختم ہونا۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.