تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ, جولائی 4, 2015

Rozah Na Hi TootTa Hai Aur Na hi Makrooh Hota Hai


وہ صورتیں جن میں روزہ نہیں ٹوٹتا اور مکروہ بھی نہیں ہوتا
٭ کسی قسم کا انجکشن یا ٹیکہ لگوانا۔
٭ کسی عذر سے رگ کے ذریعے گلوکوز چڑھوانا۔
٭ سخت ضرورت کے وقت خون چڑھوانا۔
٭ طاقت کا انجکشن لگوانا۔
٭ ایسی آکسیجن لینا جو خا لص ہو اور اس میں ادویات کے اجزاء شامل نہ ہوں۔
٭ کلی کرنے کے بعد منہ کی تری لینا۔
٭ اپنا لعاب دہن جو اپنے منہ میں ہو نگل جانا۔ البتہ اسے منہ میں جمع کر کے نگلنا نہ چاہئے۔
٭ ضرورت کے وقت کوئی چیز چکھ کر تھوک دینا۔
٭ ناک کو اس قدر زور سے سڑک لینا کہ حلق کے اندر چلی جائے۔
٭ دانت اس طرح نکلواناکہ روزہ بے خطر ہوجائے اور خون حلق میں جائے۔
٭ دانتوں سے نکلنے والا خون نگلنا، بشرطیکہ وہ لعابِ دہن سے کم ہو اور منہ میں خون کا ذائقہ معلوم نہ ہو۔
٭ نکسیر پھوٹنا۔
٭ چوٹ وغیرہ کے سبب جسم سے خون نکلنا۔
٭ کسی زہریلی چیز کا ڈسنا۔
٭مرگی کا دورہ پڑنا،
٭ بواسیر کے مسو کو(جن کا محل عموماً پاخانہ کی جگہ کا کنار ہ ہوتا ہے) طہارت کے بعد اندر دبا دینا۔
٭ حلق میں بلا اختیار دھواں، گرد و غبار یا مکھی وغیرہ کا چلا جانا۔
٭ بھول کر کھانا پینا یا بھول کر بیوی سے صحبت کرنا۔
٭ اگر جماع کا اندیشہ نہ ہوتو بیوی سے بوس و کنار کرنا۔
٭ سوتے ہوئے (غسل کی حاجت) ہوجانا۔
٭ کان میں پانی ڈالنا یا بے اختیار چلے جانا۔
٭ خود بخود قے آنا۔
٭ آنکھوں میں دوا یا سرمہ لگانا۔
٭ عطر یا پھولوں کی خوشبو سونگھنا۔
٭ دھونی دینے کے بعد اگربتی یا لوبان کی خوشبو سونگھنا جبکہ ان کا دھواں باقی نہ رہے۔
٭ رومال بھگو کر سر پر ڈالنا یا کثرت سے نہانا۔
٭ بچے کو دودہ پلانا۔
٭ پان کی سرخی یا دوا کا ذائقہ منہ سے ختم ہونا۔

Post Top Ad

loading...