Header Ads

Emergency India 1975 | Unforgettable History

 سنجئے گاندھی کی ہٹ دھرمی اور پھر مطلق العنانی دیکھ کر اُس وقت کے مرکزی وزیر اندر کمار گجرال نے استعفیٰ بھی دے دیا تھا۔ ایک طرف کورٹ کا فیصلہ ، دوسری طرف ملک بھر میں احتجاجات، اور پھر پارٹی کے اندرونی مسائل کو دیکھ کر اندرا پریشان تھی کہ کیا جائے ، ایسا کیا فیصلہ لیا جائے کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے تو انہوں نے اس وقت اپنے خاص ام خاص قانون مشیر کو چھو ڑکر اُ س وقت کے مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ سدھارتھ شنکر رے، سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی آئین میں ہنگامی حالات میں نافذ کئے جانے والے قانون دفعہ نمبر352/1 یعنی ایمرجنسی کا سہارا لیا جائے۔ملک میں ایمرجنسی حالات کا نفاذ توصدرجمہوریہ کرتا ہے تواندرا نے فوری طورپر اس وقت کے صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد کے پاس ایمرجنسی کے نفاذ کے دستاویز بھیجے۔ بتایاجارہاہے کہ صدرجمہوریہ نے اس کو دیکھا بھی نہیں ، بلکہ بعض لوگوں نے تاریخ کے حوالے سے یہاں تک لکھا ہے کہ صدرجمہوریہ جب اس دستاویزات پر سفارشی دستخط کررہے تھے اُس وقت وہ نہارہے تھے اور وہیں سے انہوں نے اندراگاندھی کے فرمان پر دستخط کردئے اور پھر اس طرح 25جون 1957کا جو سورج طلوع ہوا تو ہندوستانیوں پر ظلم کی ایک ایسی داستاں لے کر آیا جسکی چیخیں تاریخ کے پنوں میں آج بھی سنائی دے رہی ہیں، ایمرجنسی کا مطلب آپ حکومت کے خلاف نہیں بول سکتے، حکومت کے خلاف سن نہیں سکتے، حکومت کے خلاف لکھ نہیں سکتے، احتجاج نہیں کرسکتے، اب جمہوریت نہیں ، عدلیہ نہیں، صرف وہی ہوگا جو باشاہ سنائے گا، صرف وہی ہوگا جو اندرا سنائے گی، کسی میں بھی ہمت نہیں تھی کہ وہ اندرا کے خلاف بولے اور جو بول رہے تھے ان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا۔واجپائی، جارج فرنانڈیز، مرارجی ڈیسائی، جیسے لوگوں کو جیل میں ڈال دیا گیا، وزیرِ اطلاعات او نشریات وی سی شکلا جو نئے نئے منتخب کئے گئے تھے ، میڈیا پر پوری پابندی لگادی،اُس وقت صرف پرنٹ میڈیا تھا، الیکٹرانک میڈیا کا تصور نہیں تھا، ریڈیو پرحکومت کے فرمان جاری ہوتے تھے اور پرنٹ میڈیا میں حکومت اپنی من مانی چھاپنے کے لیے سنسر بورڈ کا قیام لادیا، اب کوئی بھی خبر سنسربورڈ کے اجازت کے بغیر نہیں چھپ سکتی۔یہ ایمرجنسی کا پریڈ 19مہینوں تک عام عوام پر ایک کالے سایے کی طرح چھایا رہا اور اس وقفے میں اندرا کی حکومت کے کارندے اور پھر بالخصوص سنجئے گانڈھی جو اُس وقت ہٹلر کا رول ادا کررہے تھے ہر قسم کے مظالم لوگوں پر ڈھائے ، تانا شاہی، انانیت، کرسی کے بھوک اور غرور کا ایسا نشہ کے غریبی ہٹاؤ اور فیملی پلاننگ کا نعرہ لگا کر سنجئے گاندھی نے مسلمان فیملی کی نس بندی شروع کردی، حد یہاں تک ہوگئی کہ شادی شدہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ غیر شادی شدہ مسلم لڑکی اور لڑکیوں کی نس بندی کی گئی، ایک اندازے کے مطابق 1976 اور 77کے دوران تراسی لاکھ افراد کی نس بندی کی گئی تھی۔نئی دہلی کے ترکمان گیٹ کے مسلم علاقے کی جھونپڑ پڑیوں اور آشیانوں کو جبری طور پر ڈھائے گئے اور مسلمانوں پرمظالم کا ایک طوفان کھڑ اکردیا۔ جھونپڑ پٹیوں کو صاف کرنے کے بہانے جب جھونپڑیوں کو صاف کیا گیا تو یہ بھی نہیں دیکھا گیا کہ آخر اس میں کوئی انسان ہے یا نہیں۔اس طرح 19مہینے تک، جیل کی سلاخوں کی آوازیں، اور عوام کی چیخیں سنائی دیتی رہی مگر نہ عدلیہ کچھ کرسکا نہ کوئی اور ..بس چل رہی تھی تو اندرا کی اور اس کے بیٹے سنجئے گاندھی کی۔

A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.