تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 6 جون، 2015

Rohingya (Burma/Myanmar) Muslims Massacre

آج انسانیت پر اور بالخصوص مسلمانوں پر زندگی اتنی تنگ کردی گئی ہے کہ انسانیت تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہی ہے ، موت ہر طرف رقص کررہی ہے، صحرا سے اُٹھنے والی ہوائیں جو کبھی سریلی بانسری کے گیت تھیں آج چیخ و پکار کی صدائیں بلند کرتے ہوئے کسی مسیحا کو پکار رہی ہیں کہ کوئی اہلِ دل ہے جو صحرا کے معصوم پھولوں کو بے رحم وادیوں سے باہر لے آئے ، ہر طرف سناٹا ہی سناٹا چھایا ہوا ہے، معصوم بچوں کی اُکھڑی ہوئی سانسیں آج ہمارے حکمرانوں کو صدا دے رہی ہے ہیں کہ کوئی ہے جو ان کو نئی زندگی بخش دے، کوئی مسیحا ہے جو ان کی نبض پر ہاتھ رکھ لے۔ مگر ہر طرف مردہ ضمیر انسان کا جم غفیر ہے ، کہیں سے کوئی شخص ان معصوموں کی آواز سننے کو تیار نہیں ہے، ہر روز مدد کو اُٹھنے والی صدائیں آہستہ آہستہ خاموش ہوتی جارہی ہیں، ،سینکڑوں معصوم بچے غذائی قلت اور ادویات کی عدم دستیابی کے سبب لقمہ اجل بن رہے ہیں، مگر ہمارے بے رحم حکمران اور دولت کی ہوس میں مبتلا مسیحا ان کے نزدیک آنے کو تیار نہیں،جی ہاں میرے دوستو! یہ برما کے مسلمانوں کی درد بھری کہانی ہے۔یہاں اس اسکرین پر دیکھئے تصویریں بدل رہی ہیں، یہ تصویریں خودآپ کو ساری ظلم کی داستاں بیان کریں گی۔ تین سال سے جاری ان بے چارے مسلمانوں کو دیکھئے ، برما کے بدھسٹ دہشت گردوں نے ان پر ایسے ہولناک مظالم کئے کہ خود تاریخ اس ظلم کی سفاکی سے حیران ہے، کٹے ہوئے جسم ، کٹے ہوئے پیر، گرم گرم تپتی ہوئی سلاخوں پر بچوں اور عورتوں سمیت مردوں کے جلتے ہوئے بدن،ہر طرف موت کا راج، اور بدھشٹ دہشت گردوں کی حیوانیت چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے ، برما تمہارا نہیں ہے ، مسجدیں جلادی گئی ، گھر اُجاڑ دئے گئے، رہنے کو ٹھکانہ نہیں ، زمین چھین لی گئی ، وطنیت نوچ لی گئی ، ان تصاویر کو غور سے دیکھئے یہ چہرے کیا پوچھ رہے ہیں، کوئی زندگی کی بھیک مانگ رہا ہے ، کوئی پوچھ رہا ہے کہ ہمارا قصور کیا ہے ۔ ان کے پیٹ کو دیکھئے جو پیٹھ سے جا لگے ہیں ، اپنے بھوک کی شکایت کررہا ہے ۔جل کر کوئلہ ہوئے ان عورت اور بچوں کو دیکھئے۔جو بدھسٹ کی دہشت گردی کو بیان کررہی ہے ، زنجیروں میں جکڑے قطار در قطار بیٹھے ان مظلوموں کو اور ان کے سر پر سوار بدھشٹ جلادوں کو دیکھئے جو میڈیا کہ سامنے اجتماعی قتل کررہے ہیں۔اب آپ ہی بتائیے ہزاروں کی تعداد میں اپنے بہن بھائیوں ، ماں اور بہنوں کو آنکھوں کے سامنے جلتے ہوئے دیکھنے والے ،زندگی کے ایک ایک لمحہ کو ترس جانے والے ،صرف چار فیصدمسلمان کو برما کی حکومت نے زمین دینے سے انکار کرتے ہوئے ان کی وطنیت کو ان سے چھین لیا، ان کی زندگی کو ان سے چھین لیا، آتش زنی سے ہزاروں گھروں اور مساجد کو نذر آتش کرنے اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد آج بچے کچھے بھوکے، ننگے،پیاسے،بیمار،عورت بچے اور مرد مسلمانوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں، در در بھٹک رہے ہیں، کشتیاں پکڑ کر پڑوسی ممالک کی جانب منزل کی نشان دہی کئے بغیر بے یارو مددگار بچوں ، عورتوں کو لے کر چل دئے کہ کہیں آسرا مل جائے ۔۔ مگر سمندر کی لہروں نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟؟ پڑوسی ممالک نے کیسے ان کی زندگیاں اُن سے چھین لی۔۔
Rohingya (Burma/Myanmar) Muslims Massacre

، آج انسانیت پر اور بالخصوص مسلمانوں پر زندگی اتنی تنگ کردی گئی ہے کہ انسانیت تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہی ہے ، موت ہر طرف رقص کررہی ہے، صحرا سے اُٹھنے والی ہوائیں جو کبھی سریلی بانسری کے گیت تھیں آج چیخ و پکار کی صدائیں بلند کرتے ہوئے کسی مسیحا کو پکار رہی ہیں کہ کوئی اہلِ دل ہے جو صحرا کے معصوم پھولوں کو بے رحم وادیوں سے باہر لے آئے ، ہر طرف سناٹا ہی سناٹا چھایا ہوا ہے، معصوم بچوں کی اُکھڑی ہوئی سانسیں آج ہمارے حکمرانوں کو صدا دے رہی ہے ہیں کہ کوئی ہے جو ان کو نئی زندگی بخش دے، کوئی مسیحا ہے جو ان کی نبض پر ہاتھ رکھ لے۔ مگر ہر طرف مردہ ضمیر انسان کا جم غفیر ہے ،

Posted by ‎اعظمی اسلامک زون‎ on Thursday, 4 June 2015

Post Top Ad

loading...