تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 27 جون، 2015

یوگا، اسلام اور مسلمان

بنیادی سنسکرت کے الفاؔ ظوں میں جب یوگاکے معنی کو لیا جائے تو، اس کا مطلب مراقبہ ہے، اس کا مطلب تصرف میں لانے یا قابو میں لانے کیلئے اعضاء و احساسات کو اکھٹے کرنایاجوئے کے تحت لانا ہے۔یا یوں سمجھئے کہ یوگا ایک ایسا عمل یا نظام ہے جو روحِ کائنات یا مافوق الفطرت قوت کے ساتھ اتحاد کا باعث بنتا ہے،یوگا کہ سلسلہ میں جب مختلف کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو اس کی تاریخ سندھی کی وادیوں میں تیسری صدی قبل مسیح کے درمیان مسو پتامیہ کی تہذیب سے جوڑا جاتا ہے۔دراصل سندھ اور مسو پتامیہ کی تہذیب پر غور کریں اور عقائد پر یہ سامنے آتا ہے کہ ان کی تمام تر مصنوعی چیزیں ایک انسان ایک دیوتا کی نمائندگی کرتی ہے ، جس کے سر پر سینگ نما تاج ہے اور اس کے اطراف میں جانور ہیں اور جو شکاری سورما نمرود کی دلالت کرتا ہے،۔اور ہندو عقیدے کے مطابق یوگاکی حالت میں بیٹھا ہوا شخص دراصل شیو دیوتا کی شبیہ ہے جو جانوروں اور یوگاکا مالک تھا ، جسکی پرستش اکثر تخلیقی قوت کی علامت لنگ سے کی جاتی ہے۔ جب آپ ہندو ورلڈ نامی کتاب کا مطالعہ کریں گے تو یہ تفصیل آپ کو ملے گی اور اسی کتاب نے اسکو آریہ سماج سے بھی پہلے والا عمل بتایا ہے۔ یوگا میں مختلف قسم کے آسن جو کئے جاتے ہیں اس کی حد کیا ہے ، اس کی حد یہ ہے کہ یہ آخر میں جاکر یہ صورت اختیار کرجاتی ہے، اس تصویر کو بغور دیکھیں، یہ یوگا کی حقیقت صرف ورزش نہیں ہے ، یہ صرف باور کرایا جارہاہے ،ا س کی حقیقت آپ کے حواسِ خمسہ کو آپ سے چھین کر کسی اور کے حوالے کرنا،یا آسان لفظوں میں اس کو یوں سمجھئے کہ ہم بری روح کواپنے حواس پر قابو کرنے کے لئے اپنے آپ کو بری روح کے حوالے کررہے ہیں،یہ تصویر جو آپ اسکرین پر دیکھ رہے ہیں، اس کو ہولگر نیلسن نامی ایک عیسائی مبلغ نے شائع کی ہے ، اور اس نے ایک مضمون لکھا ہے ’’ اور یوگا ہندو مت کا بھیس بدل رہا ہے‘‘ اس عنوان کے تحت لکھی گئی تحریر میں جو کے نیٹ پر ابھی بھی موجود ہے اس نے وہ ساری پوشیدہ راز کھول بیٹھا ہے جو یوگا کے آڑ میں پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس نے یوگا کو برہما نامی ہندو دیوتا سے بھی ملاتے ہوئے لکھا ہے کہ ،شو دیوتا کہ سر پر سانپ ہوتا ہے ، دراصل یوگا کنڈلی مارتے ہوئے سانپ کی شکل ہے، مثلا آپ نے کئی ایسی یوگا کی تصاویر دیکھی ہوں گی جس میں ایک کنڈلی یعنی پالتی مارکرایک ہی ہاتھ پر شخص کھڑا ہوجاتا ہے اسی پر کئی کرتب دکھاتا ہے،یہ اصل سانپ کی شکل ہے، نلسن نے اپنی تحریر میں یوگا کو وحدانیت سے ٹکرانے والا عمل قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے کہ دراصل یوگا ورزش نہیں بلکہ سازش ہے پوری دنیا کو شیو لنگ کے سامنے جھکانے کی۔نلسن اپنی مضمون میں یہ خلاصہ کیا ہے کہ ہندوستان میں عیسائیت کو بڑھتے دیکھ کروشوا ہندو پریشد نے1979میںیہ فیصلہ لیاتھا کہ مغربی ممالک میں ہندومت کو داخل کرنے کے لئے یوگا کا سہارا لیا جائے اور پھر ہند و مشنری نے ایک بڑی کامیابی کے ساتھ اس کو یوگا کا خوبصورت تاج پہناکرمغربی ممالک میں گھسا دیا۔ ناظرین آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یوگا کو مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے عوامی سطح پر مقبول کیا گیا۔ بیرون ہندوستان 19ویں صدی میں این سی پال اور میجر باسو نے سائنٹیفک ریسرچ کے ذریعہ مغربی دنیا میں اسے عام کیا۔ اور 1890کے اواخر میں سوامی ویویکانند نے امریکہ اور یوروپ کے دورہ کے دوران یوگا کا پرچار کیا۔ بیسویں صدی میں اسے زبردست فروغ حاصل ہوا۔ سوامی سچیدانند کے چیلے Dean Ornish نے 1980ء میں یوگا کو عارضہ قلب کا بہترین علاج قرار دیتے ہوئے اسے مغربی دنیا میں مقبول عام کردیا۔ 2012ء تک 20ملین کے لگ بھگ امریکی یوگا سنٹرس سے وابستہ تھے۔

یوگا، اسلام اور مسلمان

نلسن اپنی مضمون میں یہ خلاصہ کیا ہے کہ ہندوستان میں عیسائیت کو بڑھتے دیکھ کروشوا ہندو پریشد نے1979میںیہ فیصلہ لیاتھا کہ مغربی ممالک میں ہندومت کو داخل کرنے کے لئے یوگا کا سہارا لیا جائے اور پھر ہند و مشنری نے ایک بڑی کامیابی کے ساتھ اس کو یوگا کا خوبصورت تاج پہناکرمغربی ممالک میں گھسا دیا۔ ناظرین آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یوگا کو مختلف ادوار میں مختلف طریقوں سے عوامی سطح پر مقبول کیا گیا۔ بیرون ہندوستان 19ویں صدی میں این سی پال اور میجر باسو نے سائنٹیفک ریسرچ کے ذریعہ مغربی دنیا میں اسے عام کیا۔ اور 1890کے اواخر میں سوامی ویویکانند نے امریکہ اور یوروپ کے دورہ کے دوران یوگا کا پرچار کیا۔ بیسویں صدی میں اسے زبردست فروغ حاصل ہوا۔ سوامی سچیدانند کے چیلے Dean Ornish نے 1980ء میں یوگا کو عارضہ قلب کا بہترین علاج قرار دیتے ہوئے اسے مغربی دنیا میں مقبول عام کردیا۔ 2012ء تک 20ملین کے لگ بھگ امریکی یوگا سنٹرس سے وابستہ تھے۔

Posted by ‎اعظمی اسلامک زون‎ on Friday, 26 June 2015

Post Top Ad

loading...