Header Ads

Roze Ke Fazayel

جس طرح ہر پھول اپنے رنگ و بو میں دوسروے سے ممتاز ہوتا ہے اور جیسے کہ ہر میوہ اور ہر پھل اپنا الگ ذائقہ رکھتا ہے اسی طرح عبادات کا بھی حال ہے کہ ہر عبادت اپنا کوئی خصوصی نتیجہ اور ثمرہ رکھتی ہے جس میں وہ دوسری عبادت سے ممتاز ہوتی ہے۔ روزہ میں بندہ اللہ کیلئے اپنی خواہشات کی قربانی کرتا ہے۔ کھانے پینے اور جنسی لذت اور خواہش نفس کو محض اللہ کے حکم کی تعمیل میں اور اس کی رضا جوئی کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔ یہ ادا اللہ پاک کو بہت پسند ہے اور اسکیلئے اس نے اپنے رسولﷺ کے ذریعے بڑے اعلیٰ درجہ کے اجرو ثواب اور بیش بہا انعامات کا اعلان فرمایا ہے۔ رمضان مبارک کی برکات کے بیان میں کچھ حدیثیں درج کی جاتی ہیں:۔ 

(1) حضرت ابو ہرہرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کے ہر اچھے عمل کا ثواب دس گنے سے سات سو گنے تک بڑھایا جاتا ہے یعنی اس امت کے اعمالِ خیر کے متعلق قانونِ الٰہی یہی ہے کہ ایک نیکی کا اجر کم سے کم دس گنا عطا ہوگا او بعض اوقات اس سے بھی زیادہ یہاں تک کہ بعضوں کے بعض اعمال حسنہ کا اجر سات سو گنا عطا ہوگا مگر اللہ پاک کا ارشاد ہے کہ روزہ اس قانون عام سے مستثنیٰ ہے اور وہ اس سے بالا تر ہے وہ بندہ کہ طرف سے خاص میرے لئے ایک تحفہ ہے اور میں ہی اسکا بدلہ اور ثواب دوں گا۔ وہ اپنی خواہش نفس اور اپنے کھانے پینے کو میرے لئے چھوڑ دیتا ہے(پس میں ہی اسکی اس فدویت کا اجر دوں گا جو بھی دوں گا) روزہ دار کیلئے دو مسرتیں خاص ہیں ۔ ایک افطار کے وقت اور دوسری اپنے مالک و مولا کی بارگاہ میں حاضری اور مشرف باریابی کے وقت۔ اور قسم ہے کہ روزہ دار کے منہ کہ بو اللہ کے نزدیک مشک کی خوشبو سے اچھی ہے اور روزہ دنیا میں شیطان و نفس کے حملوں اور گناہوں سے بچاؤ کیلئے اور آخرت میں آتشِ دوزخ سے حفاظت کیلئے ڈھال ہے۔ اور جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو چاہئے کہ وہ بیہودہ اور فحش باتیں نہ بکے اور شورو شغب نہ کرے، اور اگر کوئی دوسرا اس سے گالی گلوج یا جھگڑا ٹنٹا کرے تو کہدے کہ میرا روزہ دار ہوں۔
(بخاری و مسلم)
(2) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کیا میں تمکو خیر کے دروازے بتلا دوں(جن سے تمکو خیر کثیر حاصل ہو) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ضرور بتلائے۔
آپ ﷺ نے فرمایا (سنو!) روزہ ڈھال ہے اور صدقہ ۔۔۔۔ کو ایسا بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے (ترمذی)
(3) حضرت ابو عبیدہ سے مروی ہے کہ میں روسول اللہ ﷺ سے آپ فرماتے تھے کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کی آدمی اسکو پھاڑ نہ ڈالے ۔ (نسائی و ابن ماجہ وغیرہ )
(4) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روزہ اور قرآن دونوں بندے کی شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا اے میرے پروردگار میں نے اسکو کھانے سے اور خواہشِ نفس پورا کرنے سے روکا تھا میری شفاعت اسکے حق میں قبول فرما۔ اور قرآن کہے گا میں نے اسکو رات میں سونے سے روکا تھا میری شفاعت اسکے حق میں قبول فرما۔ حضور ﷺ نے فرمایاکہ پھر دونوں کی شفاعت قبول ہوگی۔
(5) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے کوئی عمل بتلائے جس کو میں اختیار کرلوں حضور ﷺ نے فرمایا روزہ رکھنا اختیار کرلو کہ اس کی مثل کوئی عمل نہیں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ مجھے کوئی اور عمل بھی بتلائے فرمایا کہ روزہ رکھا کرو کہ اس جیسا کوئی عمل نہیں(ابو امامہ کہتے ہیں) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے کوئی اور عمل بھی بتائے۔ فرمایا روزہ کی عادت کرلو اس کے مثل کوئی عمل نہیں۔ (نسائی و ابن خزیمہ)
(6) حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ریان ہے اس دروازے سے قیامت کے دن روزہ دار ہی داخل ہونگے ان کے علاوہ کوئی دوسرا اس سے داخل نہ ہو سکے گا۔ اور جب روزہ دار دخل ہوجائیں گے تو اسکو بند کردیا جائےگا اور پھر کوئی اس میں داخل نہ ہوسکے گا۔ (بخاری، مسلم ، ترمذی)
ترمذی کی روایت میں اتنا اضافہ بھی ہے کہ جو اس دروازہ سے داخل ہوگا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.