تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 8 جون، 2015

مہمانو ں کی ضیافت روہنگیا مسلمانوں کے لئے جرم بن گئی!!


‘‘مہمانو ں کی ضیافت روہنگیا مسلمانوں کے لئے جرم بن گئی!!’’
(علی بلال کا ایک چشم کشا مضمون۔ بشکریہ روزنامہ اسلام) 

۰۰۰سوشل میڈیا پر آئے روز ان مظلوم مسلمانوں سے متعلق غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں۔ اس لیے میں نے سوچا کہ اس مضمون کو بعینہ ٹائپ کروا کر شئیر کیا جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور لوگ جان سکیں کہ روہنگیا مسلمان کون ہیں، روہنگیا مسلمانوں کا اصل المیہ کیا ہے اور وہ کس قسم کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ۰۰۰

‘‘میانمار (برما ) روہنگیا مسلمانوں کا معاملہ پچیدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ا س مظلوم اقلیت کی مشکلات میں دردوالم کے ایک نئے باب کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ حکام کے مظالم اور ہمسایہ ممالک کی بے حسی کے با عث بکھری ہوئی اس قوم کو ملک کے اندر اور باہر کہیں بھی سرچھپانے کو جگہ میسر نہیں۔ میانمار کی فوج نے اراکان میں مسلمانوں کے ہزاروں مکانات مسمار کر دے ہیں۔ اپنے اس غیر انسانی اقدام کا جواز پیش کرتے ہوۓ فورسز نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمان ان کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہیں کیوں کہ یہ لوگ گھروں میں ایسے افراد کو پناہ دے رہے ہیں جو ملک کے خلاف سازشوں میں کردار ادا کرنے کی وجہ سے حکام کو مطلوب ہیں۔ 

میانمار کے مفتی اعظم ڈاکٹر عبد السلام بن منیر احمد نے عالم اسلام با لخصوص عرب ممالک اور اسلامی تعاو ن کی تنظیم (او آئی سی ) سے درخوست کی ہے کہ وہ میانمار حکام کے ظلم و ستم کے شکار ہونے ولے روہنگیا مسلمانوں کی فوری مدد کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔ مفتی عبد السلام کا کہنا ہے کہ جو ن ٢٠١٢ سے قبل اراکان میں ٢٠ لاکھ روہنگیا مسلمان آباد تھے۔ میانمار حکومت کی سرپرستی میں بودھوں کی غنڈہ تنظیم "میگ " کی جانب سے مسلم کشی مہم شروع کر دی گئی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوۓ اور لاکھوں نے نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کی سرحدوں پر واقع مہاجر کیمپوں میں پناہ لی تھی۔ تاہم مہاجر کیمپوں میں بھی بودھ بلوائیوں کے قاتلانہ حملوں کے سبب ان کی زندگیاں محفوظ نہیں تھیں۔ اوپر سے میانمار پولیس اور فوج نے تحفظ کے نام پر ان متاثرین کا جینا حرام کئے رکھا۔

غیر انسانی حالات ، بھوک و پیاس ، مفلسی اور ناکافی سہولیات سے تنگ آ کر روہنگیا کی بڑی تعداد جان بچا نے کے لئے ملائیشیا،انڈونیشیا ،تھائی لینڈ ، اور بنگلہ دیش کے سمندری سفر پر نکلے ہیں جن کی بڑی تعداد بے یارو مدد گار سمندر میں پھنسی ہوئی ہے۔ 

عرب جریدے " الشرق الاوسط "کو اپنے انڑویو میں ڈاکٹر عبد السلام نے بتایا کہ میانمار کی مغربی ریاست اراکان میں اپنے گھروں میں رہنے والے روہنگیا مسلمان اس وقت انتہائی سنگین صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ بودھوں کی غنڈہ تنظیم میگ اور میانمار پولیس کی ملی بھگت سے افراد ایک طرح سے محصور ہیں۔ انہیں اراکان سے جبری طور پر بے دخل کرنے کے لئے حکام نے انتہائی جابرانہ اور غیر انسانی اقدامات کا روح فرسا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ 

مسلمانوں کی معاشرتی اور اجتماعی زندگی مکمل طور پر تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔ کسی مسلمان کو اجازت نہیں کہ وہ اپنے کسی رشتے دار کو رات گھر میں ٹھہرا سکے۔ ایسا کرنے کی صورت میں اس کا گھر مسمار جب کہ پورے کنبے کے افراد کو دہشت گردوں سے تعاون کے الزام میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ دن کو مہمان کی آمد سے قبل متعلقہ تھانے اور علاقے کے بودھ سربراہ کے دفتر جا کر تحریری اجازت لینا لازمی ہوتا ہے اور خلاف ورزی کی صورت میں گھر کے سربراہ کو گرفتار کر کے بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ 

حکو مت نے امن و امان کو برقرار رکھنے کے نام پر ایک متناز ع اور متعصبانہ سکیورٹی پلان بنایا ہوا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد غیر ملکی دہشت گردوں کو ملک میں پناہ لینے ے روکنا ہے تاہم اس کا مقصد مسلمانوں کو پابند رکھنے کے سوا کچھ نہیں۔ یہ سارے ہتھکنڈے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کو کمزور کرنے او ر انہیں ایک دوسرے سے کاٹ کر تنہائ میں رکھنے کے لئے آزمائے جا رہے ہیں۔ 

رشتے داروں کو پناہ دینے کے" جرم " میں گزشتہ دو سال کے دوران ہزاروں گھر مسمار کئے جا چکے ہیں جب کہ اس جرم کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں کو جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ میانما ر کی حکومت نے مسلمانوں کی شادی بیاہ ور بھی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ٢٥ سال سے کم عمر کر کی شادی قانونا جرم ہے اور اس کی سزا قید کے ساتھ بھاری جرمانہ بھی وصول کیا جاتا ہے۔ مسلمانوں پر دو سے زیادہ بچے پیدا کرنے پر بھی پابندی عائد ہے جب کہ اس کے ساتھ خواتین کے لئے ایسے شرم ناک اور غیر انسانی قوا نین پر عمل درآمد کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو حیاء کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی وقار مجروح کرنے کا بھی با عث بن رہے ہیں۔ روہنگیا کی نوجوان لڑکیوں پر فوجی خدمات لازم کر دی گئی ہیں۔ ١٨ سال کی ہر لڑکی کو فوجی کیمپوں میں جا کر ٢ سال تک فوجی خدمات ادا کرنی ہوتی ہیں۔ 

مسلمان لڑکیوں سے لی جا نے والی بیگار میں فوجو افسران کی بیگمات کی خدمات ،بچوں کی پرورش ،برتن مانجھنے ،کپڑے دھونے اور صفائی ستھرائی کا کام شامل ہے۔ فوجی خدمت کا یہ عرصہ اگرچہ ٢ سال بتایا جاتا ہے تاہم واپسی کی کوئی مدت متعین نہیں ہے اور فوجی حکام اس پر عمل درآمد کے پابند نہیں ہیں۔ بہت سی مسلمان خواتین کو سرحدوں پر تعینات فوجی بیرکوں میں رکھ کر مردوں کی خدمات کرنے پر بھی مجبور کیا جاتا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کو ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ مسلمان نام رکھنے پر روہنگیا مسلمانوں کو طرح طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔مسلمان بچوں کے لئے میٹرک سے اوپر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی ہے۔ کوئی کالج اور تعلیمی ادارہ مسلمان طلبہ کو داخلہ دینے کو تیار نہیں۔ چونکہ میانمار کے مسلمانوں میں بہت سے گھرانے اچھے کاروبار کرتے تھے سونے کی خریدوفروخت سے وابستہ ہونے کے با عث مالی اور معاشی طور پر مستحکم بھی ہیں۔ کھاتے پیتے گھرانوں کو مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ اپنی لڑکیوں کے رشتے صرف بودھوں سے ہی کروا سکتے ہیں مسلمانوں سے نہیں۔ 
مفتی عبد السلام کا کہنا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کے مقابلے میں اراکان میں رہنے والے ان ٧ لاکھ مسلمانوں کی زندگیاں زیادہ پچیدہ اور اذیت ناک ہیں جو ابھی تک اپنے گھروں میں ٹھہرے ہوۓ ہیں۔ یہ لوگ باہر کی دنیا سے با لکل کٹ کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے نام نہاد عائلی قوانین اور انسداد دہشت گردی کے نام پر ظالمانہ پابندیاں عائد کر دی ہیں جس سے ان کی نقل و حرکت اور معاشرتی زندگی تباہ ہو کر رہ گئی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ان تک رسائی کی کوئی سبیل نہیں۔ میانمار کا سرکاری میڈیا مسلمانوں کی مشکلات پر خاموش ہے جس کی وجہ سے اذیتیں سہنے کے باوجود ان لاکھوں مسلمانوں کے پاس باہر کی دنیا تک اپنی آواز پہنچانے کا کوئی زریعہ میسر نہیں۔

واضح رہے ارکان کا نیا نام رکھنی یار خا ئن ہے۔ یہ میانمار کی مغربی ریاست ہے اس کی اکثریتی آبادی روہنگیا مسلمانوں پر مشتمل ہے ۔سیتوے یا "ویتوے " اراکان کا صوبائی دار الحکومت ہے ۔ اراکان ٣٦ ہزار ٧٥٠ مربع کلو میٹر رقبے پر محیط ساحل کے شمالی جانب واقع ہے مغرب کی جانب سے یہ چن نامی ریاست سے ملتی ہے۔ اس کے مشرق میں "ا ییئیا روادی " ریاست ہے اور مغرب میں خلیج بنگال ہے جب کہ شمال مغرب میں اراکان کی سرحدیں بنگلہ دیش سے ملتی ہیں چونکہ اراکان اور میانمار کی دیگر ریاستوں کے درمیان ایک پہاڑی سلسلہ حائل ہے جس کی وجہ سے پرانے زمانے سے روہنگیا کا زیادہ تر تعلق بنگلہ دیش سے رہا ہے ۔ 

جغرافیائی قربتوں کے ساتھ ساتھ دین اسلام کی اخوت نے بھی روہنگیا مسلمانوں کو بنگلہ دیشی مسلمانوں سے منسلک کیا ہے۔ اس وجہ سے میانمار کے دیگر مسلمانوں کے برعکس روہنگیا مسلمان اسی لب و لہجے میں بنگالی زبان بولتے ہیں جو جنوب مشرقی بنگلہ دیش میں بولی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میانمار کے حکام انہیں بنگالی کہہ کر غیر قانونی مہاجر قرار دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے غیر ملکی تنظیموں کو روہنگیا کی مدد کرنے سے منع کر دیا ہے ۔واضح رہے کہ میانمار میں ٢٠١٢ کو شروع ہونے والے مسلم کش فسادات کے اثرات ابھی تک ختم نہیں ہوئےہیں۔ ہزاروں مسلمان قتل ہوئے ہیں جب کہ ١٣ لاکھ افراد اپنے گھروں سے نقل مکانی کر کے ملک کے دیگر علاقوں میں پناہ کی تلاش میں نکلے ہیں۔ 

مفتی عبد السلام کا کہنا ہے کہ میانمار میں گزشتہ سال مارچ میں مردم شماری شروع ہوئی تھی جس میں ان مسلمانوں سے زبردستی فارم بھروا کر اقرار کروایا گیا ہےکہ وہ خود کو بنگلا دیشی شہری لکھیں میانمار کی بودھ اکثریت کی حامل حکومت اور وہاں کے بودھ مذہب کے پیروکار ان مسلمانوں کو غیر قانونی شہری گردانتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کو دنیا کی سب سے زیادہ استحصال کی شکار کمیونٹیوں میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بھی مسلمانوں کی مشکلات کم کرنے کی لئے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھاۓ گئے۔ 

مفتی عبد السلام کے مطابق نقل مکانی کرنے والے مسلمانوں کو بھی کوئی سکون نہیں ملا۔ انہیں کیمپوں میں جانووں جیسے سلوک کا سامنا ہے۔ ملک سے نکلنے والوں کو یا تو سمندر نگل لیتا ہے یا پھر کسی بھی ایشیائی ملک کی جیلیں ان کا مقدر بن جاتی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری اور اسلامی ممالک کی خدمات اور مسلمانوں کے لئے آواز اٹھانے کا شکریہ ادا کیاہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر اسلامی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت بین الا قوامی اداروں نے فوری طور پر روہنگیا مسلمانوں کے لئے کچھ نہ کیا تو ہزاروں روہنگیا نوجوان انتہا پسند تنظیموں کے نیٹ ورک میں شامل ہونے کے خطرات ہیں۔ کیوں کہ نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے۔ رشتے داروں کے قتل ہونے کا ہولناک منظر ،نقل مکانی اور بودھوں کے ہاتھوں بہیمانہ ظلم و تشدد اور کیمپوں کی بد تر زندگی نے روہنگیا نو جوانوں پر انتہائی برے اثرات مرتب کر دے ہیں اور وہ کسی پناہ کے منتظر ہیں۔ ایسے میں اگر اسلامی دنیا نے بر وقت کوئی اقدام نہ اٹھایا تو اسلامی ممالک میں بد امنی پھیلانے والے عناصر روہنگیا کے ہزاروں نوجوانوں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوے انہیں دہشت گردی کی سر گرمیوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔ 

سمندری بحران کے بعد کچھ انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے روہنگیا متاثرین کو ملائیشیا اور انڈونیشیا سمیت خطے کے اسلامی ممالک کے خلاف استعمال کرنے کے لئے متحرک ہونے کی خبریں آئی ہیں جو اسلامی ممالک کے لئے بڑا المیہ ہو گا۔ ‘‘

ماخوذ از Darsequran.com (Official)

Post Top Ad

loading...