تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 29 جون، 2015

Mah-E-Ramazan Ki Fazilat

ارشادِ خداوندی ہے:۔

ترجمہ:۔ ”ماہِ رمضان ہے جس میں قرآن مجید بھیجا گیا، جس کا وصف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے (ذریعہ) ہدایت ہے اور واضح الدلالت ہے، من جملہ ان کتب کے جو (ذریعہ) ہدایت (بھی) ہیں اور (حق و باطل میں) فیصلہ کرنے والی (بھی) ہیں۔ سو جو شخص اس ماہ میں موجود ہو اس کو ضرور اس (ماہ) میں روزہ رکھنا چاہئے، اور جو شخص بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دُوسرے ایام کا (اتنا ہی) شمار (کرکے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب) ہے۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے ساتھ (اَحکام میں) آسانی کرنا منظور ہے اور تمہارے ساتھ (اَحکام و قوانین مقرّر کرنے میں) دُشواری منظور نہیں، اور تاکہ تم لوگ (ایام ادا یا قضا کی) شمار کی تکمیل کرلیا کرو (کہ ثواب میں کمی نہ رہے) لہٰذا تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بزرگی (و ثنا) بیان کیا کرو اس پر کہ تم کو (ایک ایسا) طریقہ بتلادیا (جس سے تم برکات و ثمراتِ رمضان سے محروم نہ رہوگے) اور (عذر سے خاص رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت اس لئے دے دی) تاکہ تم لوگ (اس نعمتِ آسانی پر اللہ کا) شکر ادا کیا کرو۔
 (ترجمہ حضرت تھانوی)

احادیثِ مبارکہ:۔

حدیث:۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمیں خطبہ دیا، اس میں فرمایا: “اے لوگو! تم پر ایک بڑی عظمت والا، بڑا بابرکت مہینہ آرہا ہے، اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض کیا ہے، اور اس کے قیام (تراویح) کو نفل (یعنی سنتِ موٴکدہ) بنایا ہے، جو شخص اس میں کسی بھلائی کے (نفلی) کام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرّب حاصل کرے، وہ ایسا ہے کہ کسی نے غیررمضان میں فرض ادا کیا، اور جس نے اس میں فرض ادا کیا، وہ ایسا ہے کہ کسی نے غیررمضان میں ستر۷۰ فرض ادا کئے، یہ صبر کا مہینہ ہے، اور صبر کا ثواب جنت ہے، اور یہ ہمدردی و غمخواری کا مہینہ ہے، اس میں موٴمن کا رزق بڑھادیا جاتا ہے، اور جس نے اس میں کسی روزہ دار کا روزہ اِفطار کرایا تو وہ اس کے لئے اس کے گناہوں کی بخشش اور دوزخ سے اس کی گلوخلاصی کا ذریعہ ہے، اور اس کو بھی روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا، مگر روزہ دار کے ثواب میں ذرا بھی کمی نہ ہوگی۔” ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص کو تو وہ چیز میسر نہیں جس سے روزہ اِفطار کرائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اللہ تعالیٰ یہ ثواب اس شخص کو بھی عطا فرمائیں گے جس نے پانی ملے دُودھ کے گھونٹ سے، یا ایک کھجور سے، یا پانی کے گھونٹ سے روزہ اِفطار کرادیا، اور جس نے روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلایا پلایا اس کو اللہ تعالیٰ میرے حوض (کوثر) سے پلائیں گے جس کے بعد وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا، یہاں تک کہ جنت میں داخل ہوجائے (اور جنت میں بھوک پیاس کا سوال ہی نہیں)، یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا پہلا حصہ رحمت، درمیان حصہ بخشش اور آخری حصہ دوزخ سے آزادی (کا) ہے۔ اور جس نے اس مہینے میں اپنے غلام (اور نوکر) کا کام ہلکا کیا، اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمائیں گے، اور اسے دوزخ سے آزاد کردیں گے۔” (بیہقی شعب الایمان، مشکوٰة)

حدیث:۔ ابنِ عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “رمضان کی خاطر جنت کو آراستہ کیا جاتا ہے، سال کے سرے سے اگلے سال تک، پس جب رمضان کی پہلی تاریخ ہوتی ہے تو عرش کے نیچے سے ایک ہوا چلتی ہے (جو) جنت کے پتوں سے (نکل کر) جنت کی حوروں پر (سے گزرتی ہے) تو وہ کہتی ہیں: اے ہمارے رَبّ! اپنے بندوں میں سے ہمارے ایسے شوہر بنا جن سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور ہم سے ان کی آنکھیں۔”
(رواہ البیہقی فی شعب الایمان، کما فی مشکوٰة، ورواہ الطبرانی فی الکبیر والأوسط کما فی المجمع ج:۳ ص:۱۴۲)

حدیث:۔  حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے خود سنا ہے کہ: “یہ رمضان آچکا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھل جاتے ہیں، دوزخ کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، اور شیاطین کو طوق پہنادئیے جاتے ہیں، ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جو رمضان کا مہینہ پائے اور پھر اس کی بخشش نہ ہو۔” جب اس مہینے میں بخشش نہ ہوئی تو کب ہوگی؟
(رواہ الطبرانی فی الأوسط، وفیہ الفضل بن عیسیٰ الرقاشی وھو ضعیف کما فی مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۴۳)

حدیث:۔  حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب رمضان داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں (اور ایک روایت میں ہے کہ: جنت کے دروازے۔ اور ایک اور روایت میں ہے کہ: رحمت کے دروازے کھل جاتے ہیں)، اور جہنم کے دروازے بند ہوجاتے ہیں، اور شیاطین پابندِ سلاسل کردئیے جاتے ہیں۔” (بخاری و مسلم)
اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “تم پر رمضان کا مبارک مہینہ آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کا روزہ فرض کیا ہے، اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، اور سرکش شیطان قید کردئیے جاتے ہیں، اس میں اللہ کی (جانب سے) ایک ایسی رات (رکھی گئی) ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو شخص اس کی خیر سے محروم رہا، وہ محروم ہی رہا۔” (احمد، نسائی، مشکوٰة)
اور ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جن قید کردئیے جاتے ہیں، اور دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں، پس اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا، اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، پس اس کا کوئی دروازہ بند نہیں رہتا، اور ایک منادی کرنے والا (فرشتہ) اعلان کرتا ہے کہ: اے خیر کے تلاش کرنے والے! آگے آ، اور اے شر کے تلاش کرنے والے! رُک جا۔ اور اللہ کی طرف سے بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کردیا جاتا ہے، اور یہ رمضان کی ہر رات میں ہوتا ہے۔”
(احمد، ترمذی، ابنِ ماجہ، مشکوٰة)

Post Top Ad

loading...