Header Ads

بوسیدہ پیرہن میں حیا ہے ہمارے پاس

ناظرین کیا کہا جائے اور کیانہیں،اس مادیت نے، ٹیلی ویژن نے، مغربیت کی دلکشی نے ہم سے ہمارے ایمانی جذبوں کو نو چ کر ہمیں اتنا کھوکھلا کردیا ہے کہ اب اس وباء سے نہ ہماری تجارت محفوظ ہے ، نہ حیا نہ برقعہ، نہ مسجد ومحراب، نہ نماز و اذان نہ ہمارا ایمان ہمارے نام تو مسلمانوں کے ہی ہیں مگر اعمال میں صفر سے بھی کم ...یہ دم توڑتی حیا ، آبرو، چلمن، حجاب ، پردہ، دُپٹّہ، دامنی چادہ اور جلباب اپنے دامن تار تار ہوتے دیکھ میری بہنوں سے کچھ اس درد بھری آواز میں مخاطب ہیں کہ حیا قبا ہے میری، پاکیزگی روح، شرم زیور ہیں میرے، لاج و غیرت، زر ہیں میرے ، دنیا مجھے دیکھ کر عزت سے نظر نیچی کر لیتی ہے۔ یہی میری فوقیت و توقیر ہے۔ اسی غیرت سے میرا سر بلند ہے۔’آدم وحوا نے مجھے اپنایا، حاجرہ ، سارہ سے لے کر مریم و آمنہ، خدیجہ و فاطمہ تلک، میر ی توقیر کی۔میں ازل سے اللہ کی ایک عظیم نعمت ساتھ لے کر چلتی ہوں، جس نے اسے پہچانا وہ مجھے اپنایا، وہ نعمت تو نظر آتی نہیں مگر زینتِ انسانیت، قدرِ آدمیت ، چاہتِ یزداں، نغمۂ فطرت ، پوشیدہ رحمت بن کے ہمیشہ میرے ساتھ اور مجھے تھامنے والوں کے ساتھ ہے۔اللہ کی ذات بھی پردے میں اور رسولؐ کی عظمت بھی۔ مگر تم نے تو میرا بیڑا غرق کردیا، پردے کے نام پر برقعے کو تنگ کردیا۔ آزادی کے نام پر مجھے بے عزت کردیا؟ آخر تم کون ہو پتہ ہے تمہیں ؟؟ تم حوا کی بیٹی ہو حوا کی بیٹی ..جس کو جنت میں اُس وقت پیداکیا جب آدم سورہے تھے اور جب اُٹھ کے دنیا کی پہلی عورت کو دیکھا تو پردے میں تھی...مگر تم کو برہنہ اداکاروں کے فیشن کے نام یاد ہیں، مگر حیاکی پیکر فاطمہؓ کی چادر نہیں۔افسوس ہے تم پر کے حیاکو بھی تم نے بے حیا کردیا۔ ناظرین یہ درد تھا اُس حیا کا جس کو کچھ ہماری بہنوں نے زخم دیا ہے..ایسا ہی کچھ حال ہمارے نوجوانوں کا بھی کے ایک مہذب لباس اپنانے کے بجائے نت نئے ایسے لباس زیبِ تن کرتے ہیں جس کو کسی بھی زمرے میں لباس کہنا مشکل ہوتا ہے ، بحرکیف !غلطی کسی ایک کی نہیں سب کی ہے، سرپرستان کو سمجھانا ہوگا کہ ایک مہذب لباس کیا ہوتا ہے ، اور لڑکیوں کو بتانا ہوگا کہ اصل پردہ کیا ہوتا ہے ، جب اس کی روح سے واقف ہوجائیں گے تو پھر سرپرستان کو اپنی ذمہد اری کا احساس ہوگا اور اولاد بھی اُس لبا س کو نہیں اپنائے گی جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ناراض ہوتے ہیں۔ اس کو نہ اپنانے والوں کے حالات تو دنیا میں روز روشن کی طرح عیاں ہیں مغربی ممالک میں دیکھئے اور اُن ممالک کو بھی جہاں بے پردگی عام ہے کیسے وبائیں پھیلی اور پھر نسل کی شناخت تک باقی نہ رہی۔ عورت ،مردوں کے آگے ننگی آنا شان سمجھتی ہے، اور مرد عریانیت کا پجاری ہوگیا، اور عورتوں کو آگے رکھ کر اپنی تجارتیں کر رہا ہے۔بے پردگی اتنی بڑھی کہ دنیا والوں کے نسلی سلسلے خطرہ میں پڑ گئے، ان کا وجود خطرہ میں پڑ گیا۔ نہ عصمت رہی نہ آبرو، حد یہاں تک ہوگئی کہ جنس کی پہچان بھی مرگئی ہے۔

بوسیدہ پیرہن میں حیا ہے ہمارے پاس

ناظرین کیا کہا جائے اور کیانہیں،اس مادیت نے، ٹیلی ویژن نے، مغربیت کی دلکشی نے ہم سے ہمارے ایمانی جذبوں کو نو چ کر ہمیں اتنا کھوکھلا کردیا ہے کہ اب اس وباء سے نہ ہماری تجارت محفوظ ہے ، نہ حیا نہ برقعہ، نہ مسجد ومحراب، نہ نماز و اذان نہ ہمارا ایمان ہمارے نام تو مسلمانوں کے ہی ہیں مگر اعمال میں صفر سے بھی کم ...یہ دم توڑتی حیا ، آبرو، چلمن، حجاب ، پردہ، دُپٹّہ، دامنی چادہ اور جلباب اپنے دامن تار تار ہوتے دیکھ میری بہنوں سے کچھ اس درد بھری آواز میں مخاطب ہیں کہ حیا قبا ہے میری، پاکیزگی روح، شرم زیور ہیں میرے، لاج و غیرت، زر ہیں میرے ، دنیا مجھے دیکھ کر عزت سے نظر نیچی کر لیتی ہے۔ یہی میری فوقیت و توقیر ہے۔ اسی غیرت سے میرا سر بلند ہے۔’آدم وحوا نے مجھے اپنایا، حاجرہ ، سارہ سے لے کر مریم و آمنہ، خدیجہ و فاطمہ تلک، میر ی توقیر کی۔میں ازل سے اللہ کی ایک عظیم نعمت ساتھ لے کر چلتی ہوں، جس نے اسے پہچانا وہ مجھے اپنایا، وہ نعمت تو نظر آتی نہیں مگر زینتِ انسانیت، قدرِ آدمیت ، چاہتِ یزداں، نغمۂ فطرت ، پوشیدہ رحمت بن کے ہمیشہ میرے ساتھ اور مجھے تھامنے والوں کے ساتھ ہے۔اللہ کی ذات بھی پردے میں اور رسولؐ کی عظمت بھی۔ مگر تم نے تو میرا بیڑا غرق کردیا، پردے کے نام پر برقعے کو تنگ کردیا۔ آزادی کے نام پر مجھے بے عزت کردیا؟ آخر تم کون ہو پتہ ہے تمہیں ؟؟ تم حوا کی بیٹی ہو حوا کی بیٹی ..جس کو جنت میں اُس وقت پیداکیا جب آدم سورہے تھے اور جب اُٹھ کے دنیا کی پہلی عورت کو دیکھا تو پردے میں تھی...مگر تم کو برہنہ اداکاروں کے فیشن کے نام یاد ہیں، مگر حیاکی پیکر فاطمہؓ کی چادر نہیں۔افسوس ہے تم پر کے حیاکو بھی تم نے بے حیا کردیا۔ ناظرین یہ درد تھا اُس حیا کا جس کو کچھ ہماری بہنوں نے زخم دیا ہے..ایسا ہی کچھ حال ہمارے نوجوانوں کا بھی کے ایک مہذب لباس اپنانے کے بجائے نت نئے ایسے لباس زیبِ تن کرتے ہیں جس کو کسی بھی زمرے میں لباس کہنا مشکل ہوتا ہے ، بحرکیف !غلطی کسی ایک کی نہیں سب کی ہے، سرپرستان کو سمجھانا ہوگا کہ ایک مہذب لباس کیا ہوتا ہے ، اور لڑکیوں کو بتانا ہوگا کہ اصل پردہ کیا ہوتا ہے ، جب اس کی روح سے واقف ہوجائیں گے تو پھر سرپرستان کو اپنی ذمہد اری کا احساس ہوگا اور اولاد بھی اُس لبا س کو نہیں اپنائے گی جس سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ ناراض ہوتے ہیں۔ اس کو نہ اپنانے والوں کے حالات تو دنیا میں روز روشن کی طرح عیاں ہیں مغربی ممالک میں دیکھئے اور اُن ممالک کو بھی جہاں بے پردگی عام ہے کیسے وبائیں پھیلی اور پھر نسل کی شناخت تک باقی نہ رہی۔ عورت ،مردوں کے آگے ننگی آنا شان سمجھتی ہے، اور مرد عریانیت کا پجاری ہوگیا، اور عورتوں کو آگے رکھ کر اپنی تجارتیں کر رہا ہے۔بے پردگی اتنی بڑھی کہ دنیا والوں کے نسلی سلسلے خطرہ میں پڑ گئے، ان کا وجود خطرہ میں پڑ گیا۔ نہ عصمت رہی نہ آبرو، حد یہاں تک ہوگئی کہ جنس کی پہچان بھی مرگئی ہے۔

Posted by ‎اعظمی اسلامک زون‎ on Friday, 19 June 2015


A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.