Header Ads

Yes!! We Are All Morsi.

سوچنے کی بات یہ ہے کہ غلطی کس کی ہے ، یہ صرف مصر کی صورتحال نہیں،۔۔جب جب بھی یاجہاں جہاں بھی جمہوریت کو توڑا گیا، ظالم اور جابر حکمرانوں نے ظلم کا بازار گرم کیا۔ ملک کی عدالتیں حکمرانوں کے اشارے پر فیصلے سنانے لگی تو پھر بغاوت بھڑک اُٹھی، عوام ناانصافی اور ظلم سے پریشان ہوکر عدلیہ نظام اور حکمرانوں کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے، بنگلہ دیش ،پاکستان سے لے کر مصر ، عراق، لیبیا، تونس خود امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کے ساتھ نانصافی اور قتل کے بعد اور روس کے کیف کا حال اور ہندوستان کے بعض علاقوں میں نکسلیوں کی دہشت گردی دیکھ لیجئے تو آپ کو اندازہ لگ جائے گا، باغیوں کی یہی شکایت رہی ہے کہ جمہوریت کے نام پر ان کو لوٹاجارہاہے ، جمہوریت اور حقوقِ انسانی اب صرف الفاظ کے علاوہ کچھ نہیں۔ ہر طرف کمزور اور ناتواں ہی عدلیہ اور حکمرانوں کے شکار ہوتے نظر آرہے ہیں۔ناظرین!معاملات اُسی وقت سمجھ میں آسکتے ہیں جب سفید کو سفید اور کالے کو کالا کہا جائے، مجرم کو مجرم اور غاصب کو غاصب کہا جائے، سیدھی سی بات ہے کہ مرسی کو ہٹانے کا حق صر اور صرف مصری عوام کو ہے۔ یہ مصری عوام کا بنیادی حق ہے کہ وہ کس کو اپنا سربراہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح کسی عورت کو مغرب یہ حق دیتا ہے کہ وہ برہنہ ہوکر سڑکوں پر ڈانس کرتی پھرے،۔ اسی طرح اسی عورت کو یہ بھی حق حاصل ہے کہ وہ حجاب کرسکتی ہے۔ جس طرح کسی کو کلین شیو ہونے کا حق حاصل ہے اتنا ہی کسی شہری کو ڈاڑھی رکھنے کا بھی حق حاصل ہے، یہی جمہوریت ہے۔ مگر ہوکیا رہاہے کہ ننگا ہونا اور کلین شیو ہونا جمہوریت ہے،۔ اور حجاب لینا اور ڈاڈھی رکھنا دہشت گردی۔ ڈاکٹر محمد مرسی کے وہ الفاظ بھلا کیسے بھول سکتے ہیں کہ انہوں نے یو این او کے اجلاس میں کھڑ ے کر کہے تھے کہ آقا محمد ﷺ کا جو احترام کرے گا ،مسلمان اس کا احترام کریں گے، جو گستاخی کرے گا اس کا احترام نہیں کیا جائے گا، اس بات پر مغرب کے سارے شیطانی چیلوں کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ 
ناظرین! شراب اور ڈانس کلبوں پر پابندی عائد کرنے کا اعلان ،کرپٹ فوجی جرنیلوں کا احتساب کرکے اربوں ڈالر قومی خزانے میں واپس جمع کرنا، مغربی ممالک کو مسلم ممالک پر حملے کی صورت میں جنگ کی دھمکی دینا، اللہ تعالیٰ کے احکامات اور حضور ﷺ کے طریقوں کو قانون بنانا، حضور ﷺ کی شان میں کی گئی گستاخی پر سخت موقف اپنانا مرسی کی بڑی غلطی تسلیم کرلی گئی ، پھرچار جولائی کا سورج جہاں السام کے سپاہیوں کے لیے ایک درد ناک دن لے کر ابھرا تھا وہیں آج کتنے ہی چہرے دنیا کے سامنے برہنہ ہوگئے تھے ، جمہوریت کے نام پر برسوں سے مسلمانوں کے ساتھ عیاری و مکاری کرتے آرہے چہرے بے نقاب ہوگئے تھے۔ ایک طرف حق تھااور دوسری طرف پوری باطل قوتیں اور اس میں ہمارے بھی کچھ شہنشاہیت کے بھوکے لیڈران، ۔لگتا تھا کہ رب نے آج چھانٹی کرنی تھی۔جمہوریت کے علمبرداروں کو شام کا وہ خونی منظر نظر نہیں آرہا جہاں ایک ایک دن میں ہزاروں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہاہے، برما میں مسلمان بدھوں کے ہاتھوں زندہ جلائے گئے اور اب تک روہنگیائی مسلمان دانے دانے تک ترس رہے ہیں، لہو میں نہایا ہوا گزہ اورسسکتے معصوم بچوں کو تو عالمی طاقتیں انصاف مہیا نہیں کرسکیں، اور جس نے آواز اُٹھانے کی کوشش کی اس کو اخوانی ، مذہب پرست، اور لبرل کہہ کر جمہوریت کے سینے پر لات مار کر نیچے اُتار دیا گیا، حق کے طلبگار کو دہشت گرد بنا دیا اور جو برسوں سے دہشت گردی کررہے ہیں اس کو کھلی چھوٹ ،،کیا واقعی یہی جمہوریت ہے ، اور جمہوریت کے یہی نام لیوا آج مرسی اور ان کے ساتھیوں کو تختۂ دار پر چڑھانے کی کوشش میں ہیں، واہ رے جمہوریت .... دراصل اگر مرسی کی داڑھی نہ ہوتی، نمازی نہ ہوتا، اللہ اس کے رسو ل اللہ ﷺ کا نام لیوا نہ ہوتا، شرابی ہوتا، لبرل ، اور روشن خیال ہوتا، اس کی بیٹیاں منی اسکرٹ میں گھومتیں تو باطل طاقتیں اس کو ہاتھوں ہاتھ لیتی، مگر یہاں تو مرسی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بول رہا تھا تو اس کی یہ درگت بنادی گئی اورپھانسی کی سزا سنائی گئی۔۔ ناظرین تاریخ گواہ ہے کہ اخوان نے کس طرح صبرو حوصلے سے کڑی سے کڑی آزمائشوں سے گزرے ، یہ آدھی صدی مصر کی تاریخ کا وہ سیاہ باب ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیاجاسکتا، آج پھر اخوان پر ظلم و ستم کا بازار گرم ہے ، آج پھر تاریخ خود کو دہرارہی ہے۔

Yes! We Are Mursi.

Yes!! We are Mursi..

Posted by ‎اعظمی اسلامک زون‎ on Thursday, 28 May 2015
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.