Header Ads

میں مجبور ہوں بیٹا ایک باپ کی فریاد


ہم کتنے بدل گئے ہیں نا.اتنا بدل گئے کہ باپ کی پہنچان تک نہ رہی ۔۔پھر بھی ہم کو شکایت ہے کہ زلزلے کیوں آتے ہیں...اُس شخص نے اپنی شناخت بیان کرنے سے کتراتا رہا ، اور ایسا درد اس کے دل میں سمیٹا تھا کہ میں اُس درد کو اپنے الفاظوں میں نہیں بیاں کرسکتا وہ درد و کڑھن کی ایسی تصویر بنے ہوئے تھا کہ ’’ میں عمر کے آخری دہلیز پر پہنچ چکا ہوں..تین نوجوان کھاتے پیتے خوشحال زندگی گذارنے والی اولاد ہے ، مگر مہینے گذرجاتے ہیں اولاد کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس جاتی ہیں،کوئی اس لئے نہیں آتا کہ کہیں ہم کوئی بیماری کا بہانہ کرکے اُن سے روپئے نہ مانگ بیٹھے، زندگی کی کمائی کی پونجی ایک گھر تھا وہ بھی زندگی میں ہی بٹوارہ کرکے فروخت کرنے کے بعد ہمیں کرایہ کے گھر میں رہنے پرمجبور کردیا ہے۔بیٹوں کے غصے کے ڈر سے ہم احتجاج نہیں کرتے ‘‘ ناظرین آگے آپ خود اندازہ لگالیں کہ اُس باپ کے اس شکایت میں کتنا درد تھا۔ناظرین یہ وہی باپ ہے جس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنی اہلیہ کو لے کر خواب دیکھے پھر شادی بھی ہوئی تو اولاد کا سلسلہ چل نکلا تو اولاد کو لے کر خواب دیکھا ، ایک زمانہ اس باپ کا بھی تھا جس کوبدلتے موسم کے ساتھ درختوں اور پتوں کے بدلتے رنگ اور حسن کو دیکھ کر مزہ آتا تھا، پاؤں کے نیچے سرسراتے چر مر چرچراتے ہوئے پتوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوجایا کرتا تھا، ہوا چلتے ہی لہرالہرا کر پتے گرنے میں وہ اپنی زندگی کا عکس دیکھا کرتا تھا اور خوش ہوا کرتا تھا، ایک ایسا انوکھا احساس تھا کہ اپنی بیوی ، اپنے بچے اور ان کا خوبصورت مستقبل ہی اس کا خواب تھا ، ایسا احساس کہ جیسے دنیا میں کوئی غم کوئی دکھ ہی نہیں ، 

لیکن ! میرے دوستو،، بدلتے ہوئے موسم اور وقت کے ساتھ یہ لمحہ بھی فوراً گذر جاتا ہے کیوں کہ اس کو گذرنا ہی ہے، یہاں بھی لمحے گذرے، موسم بدلے ، اولادجوا ن ہوئی ، خواب وہی تھے ،مگر تعبیر بدل گئی ۔ جس اولاد کے حسین مستقبل کے لیے کندھوں پر بوجھ کو ڈھویا، اولاد کو سایہ دینے کے لیے جس نے ساری عمر گھر سے دور گذاری اس کی اولاد نے اُس سے اس کے زندگی کاسایہ اور زندگی کا سکون چھین لیا۔ جیسے ایک مجبور باپ ،بے بس و لاچار باپ اپنی بگڑی اولاد کو دیکھ کر کچھ یوں التجا کررہا ہوکہ..ہاتھ مرے گر کمزوری سے کانپ اُٹھیں، اور کھانا مجھ پر گر جائے تو ،مجھ کو نفرت سے مت تکنا، لہجے کو بیزار نہ کرنا، بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھا، تم جب چھوٹے تھے، کھانے کا سلیقہ نہیں آتا تھا تو میرے کپڑوں پر اپنے ہاتھ مسل دیتے تھے مگر میں تمہاری پیشانی پر بوسہ دے دیا کرتا تھاور تمہاری ماں بڑے لاڈسے تم کو دیکھا کرتی تھی، آج کپڑوں کو بدلنے میں بڑی دیر لگتی ہے ، کیوں کہ بڑھاپے کا تھکان ہے۔



میں مجبور ہوں بیٹا ایک باپ کی فریاد
ہم کتنے بدل گئے ہیں نا.اتنا بدل گئے کہ باپ کی پہنچان تک نہ رہی ۔۔پھر بھی ہم کو شکایت ہے کہ زلزلے کیوں آتے ہیں...اُس شخص نے اپنی شناخت بیان کرنے سے کتراتا رہا ، اور ایسا درد اس کے دل میں سمیٹا تھا کہ میں اُس درد کو اپنے الفاظوں میں نہیں بیاں کرسکتا وہ درد و کڑھن کی ایسی تصویر بنے ہوئے تھا کہ ’’ میں عمر کے آخری دہلیز پر پہنچ چکا ہوں..تین نوجوان کھاتے پیتے خوشحال زندگی گذارنے والی اولاد ہے ، مگر مہینے گذرجاتے ہیں اولاد کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس جاتی ہیں،کوئی اس لئے نہیں آتا کہ کہیں ہم کوئی بیماری کا بہانہ کرکے اُن سے روپئے نہ مانگ بیٹھے، زندگی کی کمائی کی پونجی ایک گھر تھا وہ بھی زندگی میں ہی بٹوارہ کرکے فروخت کرنے کے بعد ہمیں کرایہ کے گھر میں رہنے پرمجبور کردیا ہے۔بیٹوں کے غصے کے ڈر سے ہم احتجاج نہیں کرتے ‘‘ ناظرین آگے آپ خود اندازہ لگالیں کہ اُس باپ کے اس شکایت میں کتنا درد تھا۔ناظرین یہ وہی باپ ہے جس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی اپنی اہلیہ کو لے کر خواب دیکھے پھر شادی بھی ہوئی تو اولاد کا سلسلہ چل نکلا تو اولاد کو لے کر خواب دیکھا ، ایک زمانہ اس باپ کا بھی تھا جس کوبدلتے موسم کے ساتھ درختوں اور پتوں کے بدلتے رنگ اور حسن کو دیکھ کر مزہ آتا تھا، پاؤں کے نیچے سرسراتے چر مر چرچراتے ہوئے پتوں کو دیکھ کر دل باغ باغ ہوجایا کرتا تھا، ہوا چلتے ہی لہرالہرا کر پتے گرنے میں وہ اپنی زندگی کا عکس دیکھا کرتا تھا اور خوش ہوا کرتا تھا، ایک ایسا انوکھا احساس تھا کہ اپنی بیوی ، اپنے بچے اور ان کا خوبصورت مستقبل ہی اس کا خواب تھا ، ایسا احساس کہ جیسے دنیا میں کوئی غم کوئی دکھ ہی نہیں ، لیکن ! میرے دوستو،، بدلتے ہوئے موسم اور وقت کے ساتھ یہ لمحہ بھی فوراً گذر جاتا ہے کیوں کہ اس کو گذرنا ہی ہے، یہاں بھی لمحے گذرے، موسم بدلے ، اولادجوا ن ہوئی ، خواب وہی تھے ،مگر تعبیر بدل گئی ۔ جس اولاد کے حسین مستقبل کے لیے کندھوں پر بوجھ کو ڈھویا، اولاد کو سایہ دینے کے لیے جس نے ساری عمر گھر سے دور گذاری اس کی اولاد نے اُس سے اس کے زندگی کاسایہ اور زندگی کا سکون چھین لیا۔ جیسے ایک مجبور باپ ،بے بس و لاچار باپ اپنی بگڑی اولاد کو دیکھ کر کچھ یوں التجا کررہا ہوکہ..ہاتھ مرے گر کمزوری سے کانپ اُٹھیں، اور کھانا مجھ پر گر جائے تو ،مجھ کو نفرت سے مت تکنا، لہجے کو بیزار نہ کرنا، بھول نہ جانا ان ہاتھوں سے تم نے کھانا کھانا سیکھا، تم جب چھوٹے تھے، کھانے کا سلیقہ نہیں آتا تھا تو میرے کپڑوں پر اپنے ہاتھ مسل دیتے تھے مگر میں تمہاری پیشانی پر بوسہ دے دیا کرتا تھاور تمہاری ماں بڑے لاڈسے تم کو دیکھا کرتی تھی، آج کپڑوں کو بدلنے میں بڑی دیر لگتی ہے ، کیوں کہ بڑھاپے کا تھکان ہے،
Posted by ‎اعظمی اسلامک زون‎ on Thursday, 21 May 2015



A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.