تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

ہفتہ، 2 مئی، 2015

حج کمیٹی کا قربانی کے سلسلے میں نیا فیصلہ خلافِ شرع ہے


حج کمیٹی کا قربانی کے  سلسلے میں نیا فیصلہ خلافِ شرع ہے
ہندوستان کے تمام مکاتبِ فکر کے مفتیانِ کرام اور بڑے دینی اداروں کا فتویٰ
پندرہ دن کے اندر حج کمیٹی اپنا فیصلہ بدلے ورنہ آل انڈیا علماء کونسل عوامی تحریک چلائے گی
ممبئی 30 / اپریل: آج ممبئی کے مراٹھی پتر کار سنگھ میں آل انڈیا علماء کونسل کی جانب سے ایک اہم پریس کانفرنس بلایا گیا جس میں ہندوستانی مسلمانوں کے تمام بڑے یعنی دیوبند، بریلی، اہل حدیث اور شیعہ مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور مفتیانِ عظام نے خطاب کیا اور حج کمیٹی میں ہونے والی مسلسل بد عنوانیوں پر اظہارِ تشویش کیا۔  مفتیانِ کرام نے کہا کہ خاص طور پر  اس سال قربانی میں سہولت کے نام پر تمام عازمین حج سے جو ایک بڑی رقم وصول کی جارہی ہے وہ صریح  جبر، ظلم اور قرآن مجید کی خلاف ورزی ہے کیونکہ قربانی تمام حاجیوں خصوصاً افراد حج کرنے والوں پر واجب نہیں ہے، حج قران اور تمتع کرنے والوں میں بھی ضرورت مندوں کو  قربانی کے بدلے روزہ رکھنے کی سہولت  قرآن مجید کی سورۃ البقرہ آیت نمبر 196/ میں دی گئی ہے۔  اس لئے حج کمیٹی کا ہر حاجی سے قربانی کی رقم زبردستی وصول کرنا قرآن کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ عمل خلاف شرع ہے جسکی قطعی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ پریس کانفرنس میں مفتی عزیز الرحمٰن فتح پوری( دیوبند مکتبہء فکر) ، مفتی سلیم اختر ( بریلی مکتبہء فکر) مولانا عبد السلام سلفی (اہلحدیث مکتبہء فکر) اور مولانا سید احمد علی عابدی (شیعہ عالم دین) نے تفصیل سے بیان کیا اور بتایا کے  حج کمیٹی آف انڈیا کا حالیہ عمل  قرآن و سنت کی سراسر خلاف ورزی  اور شریعت میں مداخلت ہے۔
آل انڈیا علماء کونسل کے جنرل سکریٹرے مولانا محمود دریا بادی نے ہندوستان کے بڑےدینی اور عالمی مرکز دارلعلوم دیوبند، دارالعلوم اشرفیہ مبارک پور، اہل حدیث اور شیعہ اداروں کے فتوؤں کو  میڈیا کے سامنے پیش کیا جن میں بھی حج کمیٹی کے اس فیصلےکو ناجا ئز قرار دیا گیا اور کہا گیا ہے کہ حج کمیٹی کو صرف انتظامی امور کے علاوہ دینی امور میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہئے، نیز تمام حجاج کرام سے ان کی مرضی کے خلاف قربانی کا پیسہ وصول کرنا التزام مالا یلزم (یعنی کسی شخص پر ایسی چیز لازم کردینا جس کا وہ شرعی طور پر مکلف نہیں) ہے  جس کا حج کمیٹی کو بالکل حق نہیں ہے۔ مفتیانِ کرام کے علاوہ ممبئی کے اکابر علماء  اور  آل انڈیا علماء کونسل کے ممبران مولانا مستقم احسن اعظمی، مولانا سید اطہر علی، مولانا ظہیر عباس رضوی، مولانا محمد برہان الدین قاسمی، مولانا انیس اشرفی، مولانا زین الدین خان، جناب فرید شیخ اور جناب عبد الحافظ فاروقی وغیرہ  بھی  پریس کانفرس میں موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے مختلف گروپ میں  متعدد مرتبہ حج کمیٹی  آف انڈیا  کے صدر دفتر ممبئی میں جناب عطاء الرحمٰن صاحب CEO سنٹرل حج کمیٹی آف انڈیا سے قربانی کے مسئلہ پر وفود  اور میمورنڈم کے ساتھ ملاقاتیں کی ، ہم نے متعدد صوبائی حج کمیٹیز کو ای میل اور خطوط کے ذریعہ اس مسئلہ کی سنجیدگی  کا احساس دلایا اور اسے جلد از جلد حل کرنے  کی اپیل کی  لیکن افسوس، لگتا ہے کہ تمام حج کمیٹیز کو حجاج کرام کے ارکان حج کے ادائیگی میں تعاون کے بجائے انکے قربانی اور فارم سے حاصل شدہ پیسہ کی زیادہ فکر ہے۔
لہذا آل انڈیا علماء کونسل نےطے کیا ہے ان تمام فتوؤں اور مسلمانان ہند کے تمام مکاتب فکر کے  علمائے کرام کی آراء کے پیش نظر حج کمیٹی آف انڈیا کو اپنے فیصلے کو تبدیل کرنے کے  لئے  آج سے 15/ دن کا وقت دیا جائے اگر اس دوران فیصلہ تبدیل نہیں کیا جاتا ہے تو آل انڈیا علماء کونسل حج کمیٹی کے خلاف عوامی تحریک شروع کرے گی۔

Post Top Ad

loading...