تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 6 اپریل، 2015

نابالغ بچے کی قربانی اس کے مال سے جائز نہیں


س… زید کا انتقال ہوا، اس کے تین بچے ہیں، عمر، بکر، فاطمہ اور وہ تینوں بالغ نہیں ہیں، اور ان کا رشتہ دار یعنی ان کے اُوپر خرچہ کرنے والا ان کا چچا شعیب ہے، اب ان کا وارث تو وہی ہوا، اب شعیب کو شریعت یہ اجازت دیتی ہے کہ ان کے مال سے زکوٰة یا قربانی وغیرہ دے؟
ج… امام ابوحنیفہ کے ہاں نابالغ بچے کے مال پر نہ زکوٰة فرض ہے، نہ قربانی واجب ہے، اس لئے ولی کو ان کے مال سے زکوٰة اور قربانی کی اجازت نہیں۔ البتہ ان کے مال سے ان کی طرف سے صدقہٴ فطر ادا کرے، اور ان کی دیگر ضروریات پر خرچ کرے۔
گھر کا سربراہ جس کی طرف سے قربانی کرے گا ثواب اسی کو ملے گا
س… گھر کا سربراہ قربانی کرتا ہے، کیا جو لوگ گھر میں اس کی کفالت میں ہیں ان کو کوئی ثواب ملے گا؟ ایک سال گھر کے سربراہ نے اپنے نام سے قربانی کی تو دُوسرے سال وہ اپنے لڑکے، لڑکی یا بیوی کے نام سے قربانی کرے تو ثواب ملے گا؟ اور صحیح ہے یا نہیں؟
ج… گھر کا سربراہ اگر قربانی کرتا ہے تو قربانی کا ثواب صرف اسی کو ملے گا، دُوسرے لوگوں کو نہیں، اگرچہ وہ اس کی کفالت میں ہی کیوں نہ ہوں۔
          گھر کا سربراہ اگر اپنی طرف سے قربانی کرنے کے بجائے اپنے گھر والوں میں سے کسی کی طرف سے قربانی کرتا ہے تو جس کی طرف سے قربانی کر رہا ہے اس کی طرف سے تو قربانی صحیح ہوجائے گی اور ثواب بھی اسی کو ملے گا، چاہے جس کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے اس پر قربانی واجب ہو یا نہیں۔ لیکن گھر کے سربراہ کے سلسلے میں دو صورتیں ہیں، پہلی صورت یہ ہے کہ اگر سربراہ پر بھی قربانی واجب ہے تو اب سربراہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے مستقل قربانی کرے، اور نہ کرنے کی صورت میں گناہ گار ہوگا، کسی دُوسرے کی طرف سے قربانی کرنے سے اپنا ذمہ ساقط نہیں ہوتا۔
          دُوسری صورت یہ ہے کہ سربراہ پر شرعی طور پر قربانی واجب تو نہیں ہے لیکن وہ کسی دُوسرے کی طرف سے قربانی کرتا ہے تو اس صورت میں جس کی طرف سے قربانی کی ہے اس کی طرف سے قربانی صحیح ہوگی، اور گھر کے سربراہ پر چونکہ قربانی واجب نہیں تھی اس لئے اس کو مستقل قربانی کی ضرورت نہیں، واللہ اعلم بالصواب!

Post Top Ad

loading...