تازہ ترین

Post Top Ad

loading...

سوموار، 6 اپریل، 2015

جس پر قربانی واجب نہ ہو، وہ کرے تو اسے بھی ثواب ہوگا


س… ہمارا خاندان پانچ افراد پر مشتمل ہے، محدود آمدنی ہے، بڑے بھائی کا اپنا چھوٹا موٹا کاروبار ہے، اور میری ۱۰۰۰ تنخواہ ہے، جس میں ۸۰۰ ملتی ہے۔ ۱۹۷۴ء میں تباہ حال ہوکر مشرقی پاکستان سے آئے ہیں، کرائے کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہتے ہیں، صرف ضرورت کی اشیاء موجود ہیں، جو کچھ کماتے ہیں وہ تمام خرچ ہوجاتا ہے، اس سے بچت مشکل ہے، نہ ہی سونا چاندی ہے۔ کیا میرے تمام حالات کے تحت مجھ پر قربانی فرض ہے؟ اور کیا اس طرح ۱۰ روپے روزانہ جمع کرکے اس سے جانور لانا اور اس کی قربانی کرنا جائز ہے؟ قربانی کن حالات میں جائز ہے؟
ج… قربانی اس شخص کے ذمہ واجب ہے جس کے پاس ضروری استعمال کی اشیاء اور ضروری اخراجات سے زائد نصاب کی مالیت ہو، یعنی ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت کے برابر۔ آپ نے جو حالات تحریر فرمائے ہیں ان کے مطابق آپ کے ذمہ قربانی واجب نہیں، لیکن اگر آپ کچھ رقم پس انداز کرکے قربانی کردیا کریں تو بہت اچھی بات ہے۔ راقم الحروف کو رقم پس انداز کرنے کی عادت تو کبھی نہ پڑی، البتہ اس خیال سے قربانی ہمیشہ کی کہ جب ہم اپنے اخراجات میں کمی نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کی ایک عبادت کے معاملے میں ناداری کا بہانہ کیوں کیا جائے؟ الغرض اگر آپ قربانی کریں گے تو آپ کو پورا ثواب ملے گا۔

Post Top Ad

loading...