Header Ads

زلزلوں کے قیامت خیز جھٹکے


زلزلوں کے قیامت خیز جھٹکے
مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللہ
امیر : عالمی اتحاد اہل السنت والجماعت

نیپال اور پاک و ہند کے بعض علاقوں میں حالیہ زلزلہ سے  بہت تباہی پھیلی ہے اور بہت بڑی تعداد میں جانی اور مالی نقصان ہوا ہے ۔اور کئی انسانی جانوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیا ہے ۔ تادم تحریر 2000 افراد اس کا شکار ہو کر دنیا سے چل بسے ہیں اور سینکڑوں شدید زخمی ہیں ۔
 جب سے دنیا بنی ہے اس وقت سے لے کر اب تک اور تا قیامت آفات و حوادثات پیش آتے رہتے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ آفات و بلیَات کے اسباب و عوامل اور عناصر معلوم کر کے ان کی روک تھام کا بندوبست کیا جائے یہ عقل انسانی کے عین مطابق بھی اور وقت کا اہم تقاضا بھی ۔
زلزلے کے اسباب
بعض لوگ اس کو محض سائنس کا ہی کرشمہ تصور کرتے ہیں اور اس کے اسباب کو سائنسی وجوہات کے زاویے سے ہی پرکھتے ہیں جبکہ اہل اسلام کا اس بارے نظریہ وہی ہے جو قرآن و سنت سے ماخوذ ہے ، سائنسی وجوہات کا دارومدار بھی اللہ احکم الحاکمین کے حکم کے پر ہے ۔ اس لیے محض سائنسی وجوہات تک محدود رہنے کی بجائے اس کے آگے اللہ رب العزت کے حکم   اور ارادہ کو اثر انداز ماننا چاہیے۔دنیا میں جو کچھ فساد رونما ہوتا ہے اس بارے میں اللہ رب العزت کا واضح ارشاد موجود ہے : ظہر الفساد فی البر والبحر بما کسبت ایدی الناس  ۔ بر و بحر میں فساد لوگوں کے اپنے کرتوتوں کا کیا دھرا ہے ۔
جامع ترمذی میں روایت ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: حضور صلی اﷲ علیہ والسلام نے ارشاد فر مایا کہ
جب مال غنیمت کو گھر کی دولت سمجھاجانے لگے ۔
امانت غنیمت سمجھ کر دبالی جائے ۔
زکوٰة کو تاوان سمجھا جانے لگے ۔
دینی تعلیم دنیا کے لئے حاصل کی جا ئے ۔
انسان اپنی بیوی کی اطاعت کر نے لگے اور ماں کو ستا ئے ۔
دوست کو قریب کرے اور ماں باپ کو دور کرے ۔
انسان کی عزت اس لئے کی جا ئے تاکہ وہ شرارت نہ پھیلا ئے ۔
گانے بجانے والی عورتیں اور گانے بجانے کے سامان کی کثرت ہو جائے۔
شرابیں پی جا نے لگیں۔
اور بعد میں آنے والے لوگ امت کے پچھلے لوگوں پر لعنت کرنے لگیں ۔
تواس زمانہ میں سر خ آندھیوں اورزلزلوں کا انتظار کرو،زمین میں دھنس جانے اور صورتیں مسخ ہوجانے اور آسمان سے پتھر برسنے کے بھی منتظر رہو اور ان عذابوں کے ساتھ دوسری ان نشانیوں کا بھی انتظا ر کروجوپے در پے اس طرح ظاہرہوں گی جیسے کسی لڑی کا دھاگہ ٹوٹ جا ئے اور پے در پےاس کے  دانے گر نے لگیں۔
امام ابن ابی الدنیا نے روایت کی ہے کہ حضرت انس رضی الله عنہ فرماتے ہیں:میں ایک شخص کے ساتھ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور میرے ساتھی نے ان سے سوال کیا ” ام المؤمنین ہمیں زلزلہ کے متعلق بتائیے کہ وہ کیوں آتا ہے ؟ “ اس کے جواب میں انہوں نے فرمایا” جب لوگ زنا کو حلال کر لیں، شراب پینے لگیں اور گانے بجانے کا مشغلہ اپنالیں تو الله تعالیٰ کی غیرت جوش میں آتی ہے اورزمین کو حکم ہوتا ہے کہ زلزلہ برپا کر دے، بس اگر اس علاقے کے لوگ توبہ کر لیں اور بد اعمالیوں سے باز آجائیں تو ان کے حق میں بہتر ہے ورنہ ان کے لیے ہلاکت ہے۔ “
حضو راقدس صلی الله علیہ وسلم کے مبارک زمانے میں زلزلے کا جھٹکا محسوس ہوا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے زمین پر اپنا مبارک ہاتھ رکھ کر فرمایا” اے زمین! تو ساکن ہو جا“ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا” تمہارا رب چاہتا ہے کہ تم اپنی خطاؤں کی معافی مانگو۔ اس کے بعد زلزلے کے جھٹکے رک گئے۔
سیدنا عمر بن الخطاب رضی الله تعالیٰ عنہ کے زمانہ خلافت میں زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے تو حضرت عمر رضی الله تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا ” اے لوگو! یہ زلزلہ ضرور کسی بڑے گناہ کی وجہ سے آیا ہے ۔“

فقیہ امت جلیل القدر صحابی سیدناعبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ایک مرتبہ کوفہ میں زلزلہ آیا تو انہوں نے یہ اعلان کیا:
أيها الناس! إن ربَّكم يستعتِبُكم  فأعتِبُوه”؛ أي: فاقبَلُوا عتبَه، “وتوبوا إليه قبل ألا يُبالِيَ في أي وادٍ هلكتُم”.
ترجمہ: اے لوگو!  یقینا تمہارا رب تم سے ناراض ہوچکا ہے اور اپنی رضا مندی چاہتا ہے تو تم اسے راضی کرو اور اسی کی طرف رجوع کرتے ہوئے توبہ کرو، وگرنہ اسے یہ پرواہ نہ ہوگی کہ تم کس وادی میں ہلاک ہوتے ہو۔
حضرت عمران بن حصین رضی الله تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اُمّت میں زمین دھنسائے جانے اور صورتیں مسخ ہونے کا اور پتھر برسنے کا عذاب بھی ہو گا“ ایک شخص نے عرض کیا کہ کب ہو گا؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب گانے والی عورتیں اور گانے بجانے کا سامان ظاہر ہو جائے گا اورشرابیں پی جانے لگیں گی ۔“ (سنن ترمذی(
کرنے کے کام
حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ الله علیہ نے اپنے گورنروں کو پیغام بھیجا تھا کہ ”سنو! اچھی طرح جان لو کہ زلزلے کے جھٹکے سزا کے طور پر آتے ہیں۔ تم لوگ صدقہ خیرات کرتے رہا کر و اور استغفار میں لگے رہو۔ نیز حضرت آدم علیہ السلام کی دعا ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا و ترحمنا لنکونن من الخٰسرین ( ترجمہ) ”اے پروردگار !ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ،اگر تو ہمیں معاف نہ کرے گا اور ہم پر رحم نہ فرمائے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے “ کثرت سے پڑھا کرو۔ “(الجواب الکافی لمن سال عن الدواء الشافی:54-53، مصنفہ علامہ ابن القیم(
اور شام میں زلزلے کے موقع پر سیدنا عمر  بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے انہیں یہ لکھ کر بھیجا :اخرُجوا، ومن استطاعَ منكم أن يُخرِجَ صدقةً فليفعَل؛ فإن الله تعالى يقول: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى (14) وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى  [الأعلى: 14، 15]”
نکل جاؤ، اور جو شخص صدقہ کرسکتا ہے وہ ضرور کرے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: . بیشک اس نے فلاح پائی جو پاک ہوگیا ۔ اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پرھتا رہا۔
توبہ  و استغفار، صدقہ اور بعض اہلِ علم کے نزدیک (ایسے موقع پر )جماعت کے علاوہ (اکیلے، انفرادی) نماز بھی پڑھی جاسکتی ہے۔چنانچہ بیہقی شریف میں ہے :”صلَّى ابنُ عباسٍ – رضي الله عنهما – للزلزلةِ بالبصرة”؛ رواه البيهقي بسندٍ صحيحٍ.
ترجمہ: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما نے بصرہ میں زلزلہ (نہ ہونے یا رُکنے ) کی نماز پڑھی۔
جذبہ خیر خواہی
دنیا بھر میں بسنے والے تمام افراد سے گزارش ہے کہ آفت زدہ لوگوں کی بلاتفریق مذہب  بحیثیت انسان ہر ممکن امداد کی جائے ، بالخصوص اسلام تو اپنے پیروکاروں کو یہی تعلیم دیتا ہے کہ مصیبت کی گھڑی میں اجتماعی طور پر مسلم و غیر مسلم کے فرق کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بڑھ چڑھ کر رفاہی خدمات انجام دی جائیں ، اللہ تعالی ہم سب کے حال پر رحم فرمائے اور اس تنبیہ سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.