Header Ads

۔۔۔ راہ رو آتے گئے اور کارواں بنتا گیا


 ۔۔۔  راہ رو آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
          قارئین حضرات!!
                   اسلام ایک دینِ فطرت ہے اور ابدی نظام حیات کا ضامن دین ہے۔ جس نے بنی نوع بشر کو ہر گو شے اور زندگی کے ہر ناحئیے میں صحیح تعلیمات  عطا کی ہیں۔ جس پر عمل پیرا ہوکر عرب کے صحراء نورد اور بادیہ نشیں بدؤوں نے رومن امپائر اور پرشین امپائر کو اپنے ماتحت اور سرنگوں کر لیا . اور چند برسوں میں مشرقِ و ،مغرب ،شمال وجنوب بالفاظِ دیگر چہار دانگ عالم میں امن و آشتی کا پرچم لہرا دیا ، عدل و مساوات کی ایسی مثال قائم کی کہ انسان تو انسان جانور بھی اپنے کو اسی قالب میں ڈھالنے لگے ، طاقتور اور کمزور ‘ امیرو غریب کا فرق ختم ہوگیا ، ایک ادنیٰ سا شخص سلاطین کو حق و صداقت کا پیغام بلا کسی خوف و ہراس کے یوں سناتا ہے۔ الله ابتعثنا لنخرج من شاءمن عبادة العباد إلى عبادة الله وحدة ومن ضيق الدنيا إلى سعتها ومن جور الأديان إلى عدل الإسلام
                   لیکن پھر زمانہ کروٹ لیتا ہے جو کل حاکم تھا وہ محکوم ہو جاتا ہے، جس سے خلافت کا وعدہ کیا گیا تھا اور  یہ مژدہ سنایا گیا تھا "وعداللہ الذین اٰمنوا منكم وعملواالصالحات لیستخلفنھم فی الارض" اس سے خلافت چھین لی جاتی ہے اور اسے ذلیل و خوار ہونا پڑ رہا ہے۔
                   ایسا آخر کیوں ہوا ؟ زمانے نے اس حاکم قوم کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا؟ آخر کیا ہوگیا کہ جس کی ایک آواز بر جنگل کے جنگل خالی ہوجایا کرتے تھے آج اسے ہی  جنگل کی طرح صاف کیا جا رہا ہے؟ وہ کون سا ایسا  گناہ سرزد ہوا  جس سے دن رات اور رات دن میں تبدیل ہوگئی ؟
                   جی ہاں !!یہ سب کچھ ہوا اسلئے کہ جن کو  یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی  انہوں نے اسے اچھی طرح نہیں نبھایا ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:۔ "الذين امكنهم في الأرض اقامو االصلاۃ واٰتؤوالزکاۃ"الخ کے فریضے کو انجام نہیں دیا ، بلکہ  لہو لعب فسق و فجور میں پڑ گئے اور نتیجہ جو ہوا وہ ہمارے سامنے ہے۔
                   بہر حال! جو کچھ ہونا تھا وہ ہوگیا اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ صورت ِ حال امت مسلمہ پر باقی رہے گی؟ کیا اب ہم اپنی کھوئی ہوئی میراث واپس لانے میں کامیاب ہو سکیں گے ؟ کیا دوبارہ ہمارے حکمراں بادل سے مخاطب ہوکر یہ کہہ سکیں گے  کہ جا چاہے جہاں برس خِراج میرے ہی پاس آئے گا ۔ جی ہاں بالکل
اس دنیا  میں کوشش اور سعی و پیہم اور اللہ کی نصرت سے سب کچھ ممکن ہے۔"وان لیس للانسان الا ما سعی" "ان اللہ لایضیع اجرالمحسین"۔ تو ضروت اس  بات کی ہے کہ اسلامي تعلیمات كي نشر و اشاعت کے لئے مسلمان نئی نئی  تراكيب كا استعمال كرے  ۔ تاکہ انسانی زندگی اس رنگ میں رنگ جائے، اور سارے عالم میں اسلام اپنی سلامتي كي كرنوں كو بكهير سكے.  لہذا اس مقصد كے حصول كےلئے امت مسلمہ پر ہی ذمہ داری  لازم ہوتی ہے كہ وه " واعدو الھم ما استطعتم من قوۃ ومن رباطل الخیل" كو حرزجان بناے۔
اور ایسے افراد پیدا کريں  جو اسلام اور اسکی نشرو اشاعت یا بالفاظِ قرآن "لیظھر علی الدین کلہ" کے لئے ہر میدان میں سر گرم عمل رہیں۔ كيوں کہ  ماضی میں جہاں ابو حنیفہ، مالک، شافعی، اوزاعی، بخاری اور مسلم  کی  اسلام کے تحفظ اور بقا کے لئے ضرورت پڑی وہیں دوسری طرف کندی، ابن رشد، ابن سینا،  زہراوی اور امام غزالی  کی بھی شدید ضرورت تھی جنہوں نے یونانی فلسفے کو مسلمان بنایا اور اس زمانے میں رائج سائنس اور ٹکنالوجی کو اسلام کا خادم اور محافظ بنایا، بالکل اسی طرح آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اسلام کے غلغلے کیلئے امت مسلمہ  میں ہر قسم کے افراد کی ضرورت ہے تاکہ ہم جدید آلات کو  اپنے مقصد میں استعمال کر سکیں، اسی سلسلے کی ایک چھوٹی سی کوشش برادرم محمدزاہدالاعظمی نے 22/اپریل 2012ء کو شروع کی جو"اعظمی اسلامک زون " کے  نام سے آن لائن اسلام کی نشرو اشاعت کے لئے ويب سائٹ كا آغاز كيا   جس کی سخت ضرورت بھی تھی ۔ اور الحمد لله اس کام كو آگےبڑهانے میں  بہت سارے لوگوں نے ساتھ بھی دیا ۔

"میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
راہ رو آتے گئے اور کارواں بنتا گیا"

میں ان سبھی كا تہہ دل سے ممنون و مشکور ہوں کہ آپ نے صحیح وقت پر ایک بڑا کام قوم و ملت کی فلاح و بہبود کیلئے شروع کیا ۔ اللہ آپ کو اور آپ کی ٹیم کو  جزائے خیر عطا فرمائےاور مزید ترقیات سے نوازے۔اور یہاں میں اپنے ایڈیٹر حضرات کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ حضرات  نے قارئین اور ناظرین کے لئے مواد فراہم کیا جن میں سرِ فہرست مولانا  ابو بکر صدیق ‘ محترمہ فائزہ علی پاکستان‘عبدالرحیم فیضی ہندوستان ‘رحیمہ ممبئی   ہندوستان  ، عبداللہ عزیزی اعظم گڑھ  ہندوستان اور سارہ (معصومہ بتول) پاکستان سے ہیں الله آپ سبھی کو جزائے خير عطا فرمائے۔
اسی طرح میں قارئین کا بھی شکر گذار ہوں کہ آپ لوگوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی اور مزید ان شاء اللہ مستقبل میں کرتے رہیں گے ۔ آپ سے امید بلکہ التجا ہے کہ آپ ہمیں اپنے قیمتی مشوروں سے نوازتے رہیئے اور اس طرح کی تمام اسلامک ویب سائیٹ اور گروپ کا خیر مقدم کیجئے۔

" اس دیدہ تر کا شکر کرو، اس ذوقِ و نظر کا شکر کرو
اس شام و سحر کا شکر کرو، اس شمس وقمر کا شکر کرو"

قارئین حضرات!
                    الحمدلله اس اعظمی گروپ نے اب تک تین سال کے عرصے میں اسلامک ویب سائیٹ اور انڈورائیڈ موبائل کیلئےایپلی کیشن کا آغاز کیا ہے۔ جس پر ہم نے گاہے بگاہِ سیرت  کوئز جیسے پراگرام کا انعقاد بهي کیا ہے اور جیسا کہ آپ كو معلوم  بھی ہے کہ ابھی سیرت کوئز ہمارے فیس بک  پیج پر چلا یا جارہا ہے آپ سے شركت كی درخواست ہے۔
                   اورمزيد مستقبل میں ان شاء اللہ ہم ایک آن لائن نیوز پروگرام شروع کریں گے اور" الاسلام "کے نام سے ایک ویب سائیٹ منظر عام پر لائیں گے جو اسلام کے متعلق تمام چیزوں کا مجموعہ ہوگی اور آن لائن لائبریری کا کام تو شروع ہوگیا ہے جس كا بہت جلد ان شاء اللہ باقاعدہ طور پر آغاز کر دیا جائے گا۔ "اعظمی گروپ" سافٹ ویئر  پلے اسٹور میں دستیاب ہے۔  رمضان سے پہلے ان شاء اللہ  رمضان نامی سافٹ ویئر منظرِ عام پر آجائے گا۔
                   آپ حضرات سے دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی خدمت کیلئے قبول فر مائے اور ہم میں سے جس سے جتنا ہو سکے اسلام کی خدمت کرتا رہے۔
ربنا تقبل منا إنك أنت السميع العليم
"وہ مرد مجاہد نظر آتا نہیں مجھکو
ہو جس کے رگ و پے میں فقط مستی و کردار"

محمدسعودالاعظمی
  نگراں و مشیر:۔  اعظمی گروپ
A330Pilot کی طرف سے پیش کردہ تھیم کی تصویریں. تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.